🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17436
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ قَالَ يَحْيَى: فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُجْرَى عَلَيْهِ أَجْرُ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر میت کے نامہ عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستہ میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے کہ اس کے نامہ اعمال میں دوبارہ زندہ ہونے تک ثواب لکھا جائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17436]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17437
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّ غُلَامًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَتَرَكَتْ حُلِيًّا، أَفَأَتَصَدَّقُ بِهِ عَنْهَا؟ قَالَ:" أُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَمْسِكْ عَلَيْكَ حُلِيَّ أُمِّكَ" ، حَدَّثَنَاه أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِئَ .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے کچھ زیورات چھوڑے ہیں، کیا میں انہیں صدقہ کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ اس نے جواب دیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنی والدہ کے زیورات سنبھال کر رکھو۔ گزشتہ حدیث میں اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17437]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف ومتنه منكر، ابن لهيعة سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17438
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِحُلِيٍّ كَانَ لِأُمِّهِ عَنْ أُمِّهِ بَعْدَ مَوْتِهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَتْكَ بِذَلِكَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَا" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے کچھ زیورات چھوڑے ہیں، کیا میں انہیں صدقہ کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا انہوں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ اس نے جواب دیا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر اپنی والدہ کے زیورات سنبھال کر رکھو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17438]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف سيئ الحفظ، وكان يخلط فى الحديث، وله مناكير، وهذا الحديث محفوظ من حديث ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17439
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ حَيُّ بْنُ يُؤْمِنَ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الْأَرْضِ فَيَعْرَقُ النَّاسُ، فَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ عَقِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَجُزَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ الْخَاصِرَةَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ مَنْكِبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَأَلْجَمَهَا فَاهُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ" ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً.
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سورج زمین کے انتہائی قریب آجائے گا جس کی بناء پر لوگ پسینہ پسینہ ہوجائیں گے چنانچہ کسی کا پسینہ اس کی ایڑیوں تک ہوگا، کسی کا نصف پنڈلی تک، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا سرین تک، کسی کا کوکھ تک، کسی کا کندھوں تک، کسی کا گردن تک اور کسی کا پسینہ منہ کے درمیان تک ہوگا اور لگام کی طرح اس کے منہ میں ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ کر کے بتاتے ہوئے دیکھا اور کوئی اپنے پسینے میں مکمل ڈوبا ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17439]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17440
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ يَرْعَى الصَّلَاةَ، كَتَبَ لَهُ كَاتِبَاهُ، أَوْ كَاتِبُهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَالْقَاعِدُ يَرْعَى الصَّلَاةَ كَالْقَانِتِ، وَيُكْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّينَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب انسان وضو کر کے نماز کے خیال سے مسجد آتا ہے تو ہر وہ قدم جو وہ مسجد کی طرف اٹھاتا ہے، فرشتہ اس کے لئے ہر قدم کے عوض دس نیکیاں لکھتا جاتا ہے اور بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والا نماز پڑھنے والے کی طرح ہوتا ہے اور اسے نمازیوں میں لکھا جاتا ہے جب سے وہ گھر سے نکلا اور جب تک گھر واپس آئے گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17440]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17441
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ، عَمَّنْ ، سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا، فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ آكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَأَذِنَ لِي .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا، میں نے زکوٰۃ کے جانوروں میں سے کھانے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17441]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن عقبة بن عامر، وابن لهيعة سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17442
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَعْجَبُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ الشَّظِيَّةِ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا، يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ، يَخَافُ شَيْئًا، قَدْ غَفَرْتُ لَهُ وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ" ..
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارا رب اس شخص سے بہت خوش ہوتا ہے جو کسی ویرانے میں بکریاں چراتا ہے اور نماز کا وقت آنے پر اذان دیتا ہے اور اقامت کہتا ہے، اسے صرف میرا خوف ہے، میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کردیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17442]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ابن لهيعة توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17443
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَعْجَبُ رَبُّكَ"، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يَخَافُ مِنِّي؟! قَدْ غَفَرْتُ لَهُ، فَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17443]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17444
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ آواز سے قرآن پڑھنے والا خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17444]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17445
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " اقْرَءُوا هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ اللَّتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاهُنَّ أَوْ أَعْطَانِيهِنَّ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھا کرو، کیونکہ مجھے یہ دونوں آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17445]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا الحديث رواه عن ابن لهيعة قتيبة بن سعيد، وروايته عنه صالحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں