مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
520. حَدِیث عتبَةَ بنِ غَزوَانَ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17575
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ قَالَ بَهْزٌ: وَقَالَ: قَبْلَ هَذِهِ الْمَرَّةِ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ، وَوَلَّتْ حَذَّاءَ، وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ، يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا، وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا، فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا مَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا، وَاللَّهِ لَتَمْلَؤُنَّهُ، أَفَعَجِبْتُمْ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصَرَاعَي الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ عَامًا، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ كَظِيظُ الزِّحَامِ. وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ، حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا، وَإِنِّي الْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَّقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدٍ، فَاتَّزَرَ بِنِصْفِهَا، وَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا، فَمَا أَصْبَحَ مِنَّا أَحَدٌ الْيَوْمَ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرَ مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا. وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ، حَتَّى يَكُونَ عَاقِبَتُهَا مُلْكًا، وَسَتَبْلُونَ أَوْ سَتَخْبُرُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا ".
ایک مرتبہ حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے شروع میں اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور اما بعد کہہ کر فرمایا کہ دنیا اس بات کی خبر دے رہی ہے کہ وہ ختم ہونے والی ہے اور وہ پیٹھ پھیر کر جانے والی ہے اور اس کی بقاء اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی کسی برتن کی تری ہوتی ہے جو پینے والا چھوڑ دیتا ہے اور تم ایک ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو جسے کبھی زوال نہیں آئے گا، لہذا بہترین اعمال کے ساتھ اس گھر کی طرف منتقل ہوجاؤ، کیونکہ ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے کہ ایک پھتر جہنم کے دہانے سے لڑھکایا جائے گا تو وہ ستر سال تک گرتا جائے گا لیکن اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے گا، بخدا! اسے ضرور بھرا جائے گا، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوتا ہے؟ اور ہمیں یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ جنت کے دونوں کناروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت واقع ہے اور اس پر بھی ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ وہ رش کی وجہ سے بھری ہوئی ہوگی اور میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام قبول کرنے والوں میں سے ساتواں فرد تھا، اس وقت ہمارے پاس سوائے درختوں کے پتوں کے کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا، جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے چھل گئے تھے۔ ایک دن مجھے ایک چادر ملی، میں نے اسے اپنے اور سعد کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کرلیا، چنانچہ وہ نصف چادر انہوں نے تہبند کے طور پر باندھ لی اور نصف میں نے باندھ لی اور اب ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا گورنر ہے، میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنی نظروں میں خود کو بڑا عظیم سمجھوں جبکہ میں اللہ کے نزدیک حقیر ہوں اور نبوت کا جو سلسلہ تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے اور اس کا انجام بادشاہت پر ہوگا اور عنقریب تم ہمارے بعد کے حکمرانوں کو آزماؤ گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17575]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2967
521. حَدِیث دكَینِ بنِ سَعِید الخَثعَمِیِّ عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17576
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ، نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " قُمْ فَأَعْطِهِمْ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يُقَيِّظُنِي وَالصِّبْيَةَ قَالَ وَكِيعٌ الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ: أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، قَالَ:" قُمْ فَأَعْطِهِمْ" قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمْعًا وَطَاعَةً. قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ، فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ. قَالَ دُكَيْنٌ: فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنَ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ، قَالَ: شَأْنَكُمْ. قَالَ: فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً .
حضرت دکین بعد سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17576]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17577
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ رَاكِبًا وَأَرْبَعَ مِئَةٍ، نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ لِعُمَرَ: " اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَقِيَ إِلَّا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ، مَا أَرَى أَنْ يُقَيِّظُنِي. قَالَ:" اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ" قَالَ: سَمْعًا وَطَاعَةً. قَالَ: فَأَخْرَجَ عُمَرُ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، فَإِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ لنَا: خُذوا. فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا مَا أَحَبَّ، ثُمَّ الْتَفَتُّ، وَكُنْتُ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ، وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ تَمْرَةً ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حضرت دکین بن سعید المزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17577]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17578
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17579
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17580
حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
522. حَدِیث سرَاقَةَ بنِ مَالِكِ بنِ جعشم رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17581
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي، هَلْ مِنْ أَجْرٍ أَسْقِيهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بھٹکے ہوئے اونٹوں کا مسئلہ پوچھا جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17581]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17582
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عن سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فِي الْوَادِي، فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وادی میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا یاد رکھو! قیامت تک کے لئے عمرہ، حج میں داخل ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17582]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا الإسناد منقطع، طاؤوس لم يسمعه من سراقة
حدیث نمبر: 17583
حَدَّثَنِي مَكِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ الزَّرَّادَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ صَاحِبَ عَلِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سُرَاقَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". قَالَ: وَقَرَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت تک کے لئے عمرہ، حج میں داخل ہوگیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں حج قرآن فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17583]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17584
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عن عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي، قَدْ لُطْتُهَا لِإِبِلِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ فِي شَأْنِ مَا أَسْقِيهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ" .
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان بھٹکے ہوئے اونٹوں کا مسئلہ پوچھا جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17584]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن