🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
513. حَدِیث سفیَانَ بنِ وَهب الخَولَانِیِّ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17535
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ تَحْتَ ظِلِّ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ بَلَّغْتُ؟" فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُنَا، فَقُلْنَا: نَعَمْ. ثُمَّ أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: " رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَرَامٌ: عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَنَفْسُهُ، حَرَمَهُ كَمَا حَرَمَ هَذَا الْيَوْمِ" .
حضرت سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے سائے تلے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بلند جگہ سے خطاب فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ ہم سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جواب مانگ رہے ہیں چنانچہ ہم نے کہہ دیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس جملے کو دہرایا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو باتیں فرمائی تھیں، ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اللہ کے راستے میں ایک شام کے لئے نکلنا دنیا و ماعلیہا سے بہتر ہے اور ایک صبح کے لئے اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا وماعلیہا سے بہتر ہے اور ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو، مال و دولت اور جان کا احترام اسی طرح ضروری ہے جیسے آج کے دن کی حرمت ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17535]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبدالله بن لهيعة، فهو سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
514. حَدِیث حِبَّانَ بنِ بحّ الصّدَائِیِّ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17536
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عن حِبَّانَ بْنِ بُحٍّ الصُّدَائِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ قَوْمِي كَفَرُوا، فَأُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَّزَ إِلَيْهِمْ جَيْشًا، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ قَوْمِي عَلَى الْإِسْلَامِ. فَقَالَ:" أَكَذَلِكَ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ لَيْلَتِي إِلَى الصَّبَاحِ، فَأَذَّنْتُ بِالصَّلَاةِ لَمَّا أَصْبَحْتُ، وَأَعْطَانِي إِنَاءً تَوَضَّأْتُ مِنْهُ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْإِنَاءِ، فَانْفَجَرَ عُيُونًا، فَقَالَ:" مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَلْيَتَوَضَّأْ"، فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ، وَأَمَّرَنِي عَلَيْهِمْ، وَأَعْطَانِي صَدَقَتَهُمْ، فَقَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: فُلَانٌ ظَلَمَنِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا خَيْرَ فِي الْإِمْرَةِ لِمُسْلِمٍ". ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْأَلُ صَدَقَةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّدَقَةَ صُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ، وَحَرِيقٌ فِي الْبَطْنِ أَوْ دَاءٌ" فَأَعْطَيْتُهُ صَحِيفَتِي، أَوْ صَحِيفَةَ إِمْرَتِي وَصَدَقَتِي، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟" فَقُلْتُ: كَيْفَ أَقْبَلُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ؟ فَقَالَ:" هُوَ مَا سَمِعْتَ" .
حضرت حبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میری قوم کے لوگ کافر تھے، مجھے پتہ چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف ایک لشکر بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری قوم اسلام پر قائم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی حقیقت یہی ہے؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں! پھر صبح تک وہ رات میں نے وہیں گذاری، صبح ہوئی تو میں نے اذان دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک برتن دیا جس سے میں نے وضو کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس برتن میں ڈال دیں اور اس سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص وضو کرنا چاہتا ہے وہ وضو کرلے، چنانچہ میں نے بھی وضو کیا اور نماز پڑھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کا امیر مقرر کردیا اور ان کا صدقہ مجھے دے دیا، اسی دوران ایک آدمی کھڑا ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ فلاں نے مجھ پر ظلم کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کے لئے امیر مقرر ہونے میں کوئی فائدہ اور خیر نہیں ہے، پھر ایک آدمی صدقہ کا سوال کرتے ہوئے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ صدقہ تو سر میں درد اور پیٹ میں جلن پیدا کردیتا ہے، یہ سن کر میں نے اپنی امارت اور صدقہ واپس کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ سے جو باتیں سنی ہیں، ان کی موجودگی میں انہیں کیسے قبول کرسکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حقیقت وہی ہے جو تم نے سنی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17536]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف من أجل أبن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
515. حَدِیث زِیَادِ بنِ الحَارِثِ الصّدَائِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17537
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عن سُفْيَانَ ، عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عن زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ ، أَنَّهُ أَذَّنَ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَخَا صُدَاءٍ، إِنَّ الَّذِي أَذَّنَ، فَهُوَ يُقِيمُ" .
حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اذان دی، اقامت کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے صدائی بھائی! جو شخص اذان دیتا ہے، وہی اقامت بھی کہتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17537]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17538
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عن زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَذِّنْ يَا أَخَا صُدَاءٍ" قَالَ: فَأَذَّنْتُ، وَذَلِكَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ، قَالَ: فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقِيمُ أَخُو صُدَاءٍ، فَإِنَّ مَنْ أَذَّنَ، فَهُوَ يُقِيمُ" .
حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طلوع فجر کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان دینے کا حکم دیا، چنانچہ میں نے اذان دی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کر کے نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو اقامت کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدائی بھائی اقامت کہے کیونکہ جو شخص اذان دیتا ہے وہی اقامت بھی کہتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17538]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
516. حَدِیث بَعضِ عمومَةِ رَافِعِ بنِ خَدِیج وَهوَ ظَهِیر، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ ...
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17539
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عن رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الثُّلُثِ، وَالرُّبُعِ، أَوْ طَعَامٍ مُسَمًّى، قَالَ: فَأَتَانَا بَعْضُ عُمُومَتِي ، فَقَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عن أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ. قَالَ: قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكَارهَا بِثُلُثٍ، وَلَا رُبُعٍ، وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى" . قَالَ قَتَادَةُ: وَهُوَ ظَهِيرٌ.
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں زمین کو بٹائی پر ایک تہائی، چوتھائی یا طے شدہ غلے پر کرایہ کی صورت میں دے دیا کرتے تھے لیکن ایک دن میرے ایک چچا میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کردیا ہے کہ جو ہمارے لئے نفع بخش تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت زیادہ نفع بخش ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بٹائی پر زمین دینے سے اور ایک تہائی، چوتھائی یا طے شدہ غلے کے عوض کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے اور زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ خود کاشت کاری کرے یا دوسرے کو اجازت دے دے، لیکن کرایہ اور اس کے علاوہ دوسری صورتوں کو آپ نے ناپسند کیا ہے، قتادہ کہتے ہیں کہ ان کے چچا حضرت ظہیر رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17539]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1548
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
517. حَدِیث اَبِی جهَیمِ بنِ الحَارِثِ بنِ الصِّمَّةِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17540
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي، مَاذَا عَلَيْهِ؟ قَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ، خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" . قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدْرِي أَقَالَ: أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً.
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ کے پاس وہ حدیث پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گذرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی، انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لئے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس۔۔۔۔۔۔ تک کھڑا رہے یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دن فرمایا: مہینے یا سال فرمایا؟ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17540]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 510، م: 507
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17541
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلْنَا عَلَى أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ أَبُو جُهَيْمٍ : " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
عمیر جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن یسار جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے حضرت ابو جہیم بن حارث رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیر جمل کی طرف سے آ رہے تھے کہ راستے میں ایک آدمی سے ملاقات ہوگئی، اس نے سلام کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا، بلکہ ایک دیوار کی طرف متوجہ ہوئے اور چہرے اور ہاتھوں پر اس سے تیمم کیا اور پھر اسے سلام کا جواب دیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17541]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17542
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، أَخْبَرَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جُهَيْمٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ هَذَا: تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْآخَرُ: تَلَقَّيْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " الْقُرْآنُ يُقْرَأُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَلَا تُمَارُوا فِي الْقُرْآنِ، فَإِنَّ مِرَاءً فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ" .
حضرت ابو جہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قرآن کریم کی ایک آیت کے حوالے سے دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہوگیا، ایک کی رائے یہ تھی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حاصل کیا ہے، بالآخر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے کا بھی یہی کہنا تھا کہ میں نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حاصل کیا ہے، بالآخر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کو سات حرفوں پر پڑھا جاسکتا ہے اس لئے تم قرآن کریم میں مت جھگڑا کرو کیونکہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17542]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
518. حَدِیث اَبِی اِبرَاهِیمَ الاَنصَارِیِّ، عن اَبِیهِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17543
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عن أَبِيهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَكَبِيرِنَا وَصَغِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا" .
حضرت ابو ابراہیم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں، مردوں اور عورتوں اور موجودہ و غائب سب کی بخشش فرما۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17543]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو إبراهيم وأبوه لا يعرفان، وقد اختلف فيه على يحيى بن أبى كثير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17544
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ، عن أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا" .
حضرت ابوابراہیم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں، مردوں اور عورتوں اور موجودہ و غائب سب کی بخشش فرما۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17544]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں