🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
519. حَدِیث یَعلَى بنِ مرَّةَ الثَّقَفِیِّ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17565
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ إِذْ مَرَرْنَا بِبَعِيرٍ يُسْنَى عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ وَوَضَعَ جِرَانَهُ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟" فَجَاءَ، فَقَالَ:" بِعْنِيهِ" فَقَالَ: لَا، بَلْ أَهَبُهُ لَكَ. فَقَالَ:" لَا، بِعْنِيهِ" قَالَ: لَا، بَلْ نَهَبُهُ لَكَ، وَإِنَّهُ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهُ. قَالَ:" أَمَا إِذْ ذَكَرْتَ هَذَا مِنْ أَمْرِهِ، فَإِنَّهُ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ، وَقِلَّةَ الْعَلَفِ، فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ذَكَرْتُ لَهُ. فَقَالَ:" هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا عَزَّ وَجَلَّ فِي أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهَا". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهِ جِنَّةٌ، فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْخَرِهِ، فَقَالَ" اخْرُجْ، إِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ". قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ سَفَرِنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءِ، فَأَتَتْهُ الْمَرْأَةُ بِجُزُرٍ وَلَبَنٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرُدَّ الْجُزُرَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَشَرِبَوا مِنَ اللَّبَنِ، فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا رَأَيْنَا مِنْهُ رَيْبًا بَعْدَكَ .
حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ایسے معجزے دیکھے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے اور نہ بعد میں کوئی دیکھ سکے گا، ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، یہ اونٹ کس کا ہے؟ اس کا معاملہ عجیب محسوس ہوتا ہے، چنانچہ میں اس کے مالک کی تلاش میں نکلا، مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک انصاری آدمی ہے، میں نے اسے بلایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ واللہ مجھے اور تو کچھ معلوم نہیں، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم اس پر کام کرتے تھے اور اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، لیکن اب یہ پانی لانے سے عاجز آگیا تھا، اس لئے ہم نے آج رات یہ مشورہ کیا کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کردیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کرو، یہ ہدیۃ مجھے دے دو، یا قیمۃ دے دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کی علامت لگائی اور اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔ پھر ہم روانہ ہوئے ایک مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کرلیا، تھوڑی دیر بعد واپس چلا گیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے اس کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس درخت نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ جو اللہ نے اسے دے دی۔ دوران سفر ہمارا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں، دن میں نجانے کتنی مرتبہ اس پر اثر ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مجھے پکڑا دو، اس نے پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنے اور کجاوے کے درمیان بٹھا لیا، پھر اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا! دور ہو، یہ کہہ کر وہ بچہ اس کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا جب ہم اس جگہ سے واپس گذریں تو ہمارے پاس اسے دوبارہ لانا اور بتانا کہ اب اس کی حالت کیسے رہی؟ پھر ہم آگے چل پڑے، واپسی پر جب ہم دوبارہ وہاں پہنچے تو ہمیں اس جگہ پر اس عورت کے ساتھ تین بکریاں بھی نظر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارا بچہ کیسا رہا؟ اس نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تک ہمیں اس کی بیماری محسوس نہیں ہوئی ہے (اور یہ صحیح ہے)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17565]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن حفص، وعطاء مختلط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17566
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ حُكَيْمَةَ ، عن أَبِيهَا يَعْلَى ، قَالَ: يَزِيدُ فِيمَا يَرْوِي يَعْلَى بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ الْتَقَطَ لُقَطَةً يَسِيرَةً، دِرْهَمًا أَوْ حَبْلًا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ، فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ سِتَّةَ أَيَّامٍ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کوئی گری پڑی چیز جو مقدار میں تھوڑی ہو مثلا درہم یا رسی وغیرہ پائے تو تین تک اس کا اعلان کرے اس سے مزید اضافہ کرنا چاہے تو چھ دن تک اعلان کرے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17566]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عمرو بن عبد الله ، وجدته حكمة لا تعرف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17567
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عن يَعْلَى ، قَالَ: مَا أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا دُونَ مَا رَأَيْتُ، فَذَكَرَ أَمْرَ الصَّبِيِّ، وَالنَّخْلَتَيْنِ، وَأَمْرَ الْبَعِيرِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مَا لِبَعِيرِكَ يَشْكُوكَ، زَعَمَ أَنَّكَ سَنَأْتَهُ، حَتَّى إِذَا كَبُرَ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهُ" قَالَ: صَدَقْتَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَفْعَلُ .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے معجزات دیکھے ہوں جو میں نے دیکھے ہیں، پھر انہوں نے بچے درختوں اور اونٹ کے واقعات بیان کئے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے تمہارا اونٹ تمہاری شکایت کر رہا ہے کہ تم پہلے اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، جب یہ بوڑھا ہوگیا تو اب تم اسے ذبح کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ آپ صحیح فرما رہے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے، میرا یہی ارادہ تھا لیکن اب میں ایسا نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17567]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، المنهال بن عمرو لم يسمع من يعلى بن مرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17568
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَا تُمَثِّلُوا بِعِبَادِي" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے میرے بندوں کا مثلہ مت کرو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17568]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه ، عطاء بن السائب لم يسمع من يعلى بن مرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17569
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا، كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إِلَى الْمَحْشَرِ" .
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق زمین کا کوئی حصہ لیتا ہے اس شخص کو قیامت کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس کی مٹی اٹھا کر میدان حشر میں لے کر آئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17569]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17570
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَفْصٍ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ بِالخَلُوقٍ، فَقَالَ لِي: " يَا يَعْلَى، مَا هَذَا الْخَلُوقُ؟ أَلَكَ امْرَأَةٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ:" فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ عَنْكَ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، وَلَا تَعُدْ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی دیکھی تو پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، فرمایا تو جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17570]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن حفص
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17571
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: عَبْدُ الله وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ، كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ، ثُمَّ يُطَوَّقُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ" .
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ناحق زمین کا کوئی حصہ بالشت برابر بھی لیتا ہے، اس شخص کو قیامت کے دن اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اسے ساتویں زمین تک کھودے، پھر وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17571]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الربيع بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17572
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَفْصِ بْنَ عَمْرٍو، أَوْ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الثَّقَفِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ الثَّقَفِيَّ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَلَّقًا، فَقَالَ: " أَلَكَ امْرَأَةٌ؟" قُلْتُ: لَا. قَالَ:" اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، وَلَا تَعُدْ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی دیکھی تو پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، فرمایا تو جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17572]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى حفص بن عمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17573
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ الرَّمَّاحِ ، عَنْ أَبِي سَهْلٍ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبسِيهِ ، عن جَدِّهِ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَى إِلَى مَضِيقٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَالسَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ، وَالْبَلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَصَلَّى بِهِمْ يُومِئُ إِيمَاءً، يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ، أَوْ يَجْعَلُ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک تنگ جگہ میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار تھے، اوپر سے آسمان برس رہا تھا اور نیچے سے ساری زمین گیلی تھی، نماز کا وقت آگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اذان دی اور اقامت کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو آگے کرلیا اور اسی حالت میں اشارے کے ساتھ نماز پڑھا دی اور سجدے کو رکوع کی نسبت زیادہ جھکتا ہوا کیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17573]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عمرو بن عثمان وأبوه مجهولان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
520. حَدِیث عتبَةَ بنِ غَزوَانَ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17574
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَجُلٍ مِنْهُمْ، قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ ، يَقُولُ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الحُبْلَةِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا" .
حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام قبول کرنے والوں میں سات افراد کا ساتواں تھا، اس وقت ہمارے پاس سوائے ببول کے پتوں کے کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے چھل گئے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17574]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2967
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں