مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
536. حَدِیث سَهلِ ابنِ الحَنظَلِیَّةِ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 17622
قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. فَقَالَ: قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ، وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ" .
اس کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ ہمارے پاس سے گذرے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حسب سابق ان سے فرمائش کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم لوگ اپنے بھائیوں کے پاس پہنچنے والے ہو لہذا اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کرلو، کیونکہ اللہ تعالیٰ بےہودہ گو اور فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17622]
حدیث نمبر: 17623
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ: عَبْدُ الله: قَالَ أَبِي: هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَلَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَرَأَيْتُ أُنَاسًا مُجْتَمِعِينَ وَشَيْخًا يُحَدِّثُهُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَكَلَ لَحْمًا فَلْيَتَوَضَّأْ" .
قاسم جو کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد دمشق میں داخل ہوا، وہاں میں نے کچھ لوگوں کا مجمع دیکھا جنہیں ایک بزرگ حدیث سنا رہے تھے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ ہیں، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص گوشت کھائے، اسے چاہئے کہ نیا وضو کرے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17623]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة سليمان أبى الربيع
حدیث نمبر: 17624
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ بِدِمَشْقَ قَالَ: كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ ، مُتَوَحِّدًا لَا يَكَادُ يُكَلِّمُ أَحَدًا، إِنَّمَا هُوَ فِي صَلَاةٍ، فَإِذَا فَرَغَ، يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَمَرَّ عَلَيْنَا ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً مِنْكَ تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا جَلَسَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا فُلَانُ، لَوْ رَأَيْتَ فُلَانًا طَعَنَ، ثُمَّ قَالَ: خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ، فَمَا تَرَى؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ حَبِطَ أَجْرُهُ. قَالَ: فَتَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ: " بَلْ يُحْمَدُ وَيُؤْجَرُ" . قَالَ: فَسُرَّ بِذَلِكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ حَتَّى هَمَّ أَنْ يَجْثُوَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ مِرَارًا، قَالَ: نَعَمْ.
بشر تغلبی جو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم جلیس تھے کہتے ہیں کہ دمشق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ رہتے تھے جنہیں ابن حنظلہ کہا جاتا تھا، وہ گوشہ نشین طبعیت کے آدمی تھے اور لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے، ان کی عادت تھی کہ وہ نماز پڑھتے تھے رہتے، اس سے فارغ ہوتے تو تسبیح وتکبیر میں مصروف ہوجاتے، اس کے بعد اپنے گھر چلے جاتے۔ ایک ہم لوگ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے پاس سے گذرے، تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ پہنچے اور آپ کو نقصان نہ پہنچے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا: جب وہ لشکر واپس آیا تو ان میں سے ایک آدمی آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے کہنے لگا کہ کاش! تم نے وہ منظر دیکھا ہوتا جب ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا تھا، اس موقع پر فلاں شخص نے اپنا نیزہ اٹھا کر کسی کافر کو مارتے ہوئے کہا یہ لو، میں غفاری نوجوان ہوں، اس کے اس جملے سے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تو اس نے اپنا ثواب ضائع کردیا، دوسرے آدمی کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ کہنے لگا کہ مجھے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا، اس پر دونوں میں جھگڑا ہوگیا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ بات سنی تو فرمایا سبحان اللہ! اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے اور اسے اجر بھی ملے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر بہت خوش ہوئے اور ان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگے کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی کہ میں سوچنے لگا یہ انہیں گھٹنوں کے بل بٹھا کر ہی چھوڑیں گے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17624]
الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17624
ثُمَّ مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. قَالَ: ثُمَّ مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ لَوْ قَصَّرَ مِنْ شَعَرِهِ، وَشَمَّرَ إِزَارَهُ" ، فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا فَعَجَّلَ فَأَخَذَ الشَّفْرَةَ فَقَصَّرَ مِنْ جُمَّتِهِ، وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ. قَالَ أَبِي: فَدَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ شَعَرُهُ فَوْقَ أُذُنَيْهِ، مُؤْتَزِرًا إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: خُرَيْمٌ الْأَسَدِيُّ.
اس کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ہمارے پاس سے گذرے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حسب سابق انہی الفاظ میں کسی حدیث کی فرمائش کی، انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا خریم اسدی بہترین آدمی ہے، اگر اس کے بال اتنے لمبے نہ ہوتے اور وہ شلوار ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکاتا، خریم کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے ایک چھری لے کر نصف کانوں تک اپنے بال کاٹ لئے اور اپنا تہبند نصف پنڈلی تک اٹھا لیا، میرے والد بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو وہاں ایک بزرگ نظر آئے جن کے بال کانوں سے اوپر اور تہبند پنڈلی تک تھی، میں نے لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ خریم اسدی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17624]
حدیث نمبر: 17624
قَالَ: ثُمَّ مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً مِنْكَ تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ثُمَّ مَرَّ عَلَيْنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً مِنْكَ تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَنَا: " إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ وَلِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا فِي النَّاسِ كَأَنَّكُمْ شَامَةٌ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ" .
اس کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ ہمارے پاس سے گذرے اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے حسب سابق ان سے فرمائش کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم لوگ اپنے بھائیوں کے پاس پہنچنے والے ہو لہذا اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کرلو، کیونکہ اللہ تعالیٰ بےہودہ گو اور فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17624]
حدیث نمبر: 17625
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ ابْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عُيَيْنَةَ، والْأَقْرَعَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، " فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا، فَفَعَلَ وَخَتَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا". فَأَمَّا عُيَيْنَةُ، فَقَالَ: مَا فِيهِ؟ قَالَ: فِيهِ الَّذِي أُمِرْتُ بِهِ، فَقَبَّلَهُ وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ، فَقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ. فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا . وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ آخِرَ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، فَقَالَ:" أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟" فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، ارْكَبُوهَا صِحَاحًا، وَكُلُوهَا سِمَانًا، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ:" مَا يُغَدِّيهِ أَوْ يُعَشِّيهِ" .
حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیینہ اور اقرع نے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کے لئے وہ چیز لکھ دیں، انہوں نے لکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگائی اور وہ خط ان کے حوالے کردینے کا حکم دیا، عیینہ نے کہا کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تم نے جس کی خواہش کی تھی، عیینہ نے اسے چوما اور لپیٹ کر اپنے عمامے میں رکھ لیا، عیینہ ان دونوں سے زیادہ عقلمند تھا، جبکہ اقرع نے کہا کہ میں ملتمس کی طرح صحیفہ اٹھا کر پھرتا پھروں، جس کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام سے نکلے تو دن کے پہلے حصے میں مسجد کے دروازے پر بیٹھے ہوئے ایک اونٹ کے پاس سے گذرے، جب دن کے آخری پہر میں وہاں سے گذرے تو وہ اونٹ اسی طرح بندھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ تلاش کے باجود اس کا مالک نہیں ملا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان جانوروں کے بارے اللہ سے ڈرتے رہا کرو، ان پر اس وقت سوار ہوا کرو جب یہ تندرست اور صحت مند ہوں، پھر فرمایا جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا موجود ہو کہ جو اس کی ضرورت پوری کر دے، جیسے ابھی ایک ناراضگی ظاہر کرنے والے نے کیا تو وہ جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا کھانا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17625]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
537. حَدِیث بسرِ بنِ اَرطَاةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17626
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِرُودِسَ حِينَ جَلَدَ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ سَرَقَا غَنَائِمَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ قَطْعِهِمَا إِلَّا أَنَّ بُسْرَ بْنَ أَرْطَأَةَ وَجَدَ رَجُلًا سَرَقَ فِي الْغَزْوِ يُقَالُ لَهُ: مَصْدَرٌ، فَجَلَدَهُ وَلَمْ يَقْطَعْ يَدَهُ، وَقَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ" .
حضرت جنادہ بن ابی میہ رحمہ اللہ نے روڈس نامی جزیرے میں مال غنیمت چوری کرنے والے دو آدمیوں کو کوڑے مارنے کے بعد برسر منبر کہا کہ مجھے ان کے ہاتھ کاٹنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، البتہ ایک مرتبہ حضرت بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے کسی غزوے میں ایک آدمی کو جس کا نام مصدر تھا چوری کرتے ہوئے پایا تو اسے کوڑے مارے، ہاتھ نہیں کاٹے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہاد کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17626]
الحكم على الحديث:
رجاله موثقون، ابن لهيعة سيئ الحفظ، قد رواه عنه قتيبة بن سعيد، وروايته عن ابن لهيعة مقبولة ، ثم هو متابع، لكن قد اختلف فى صحبة بسر بن أرطاة
حدیث نمبر: 17627
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ شِيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ بُسْرِ بْنِ أَرْطَأَةَ ، فَأُتِيَ بِمَصْدَرٍ قَدْ سَرَقَ بُخْتِيَّةً، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَانَا عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ" لَقَطَعْتُكَ. فَجُلِدَ، ثُمَّ خُلِّيَ سَبِيلُهُ.
حضرت جنادہ بن ابی میہ رحمہ اللہ نے روڈس نامی جزیرے میں مال غنیمت چوری کرنے والے دو آدمیوں کو کوڑے مارنے کے بعد برسر منبر کہا کہ مجھے ان کے ہاتھ کاٹنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، البتہ ایک مرتبہ حضرت بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے کسی غزوے میں ایک آدمی کو جس کا نام مصدر تھا چوری کرتے ہوئے پایا تو اسے کوڑے مارے، ہاتھ نہیں کاٹے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہاد کے دوران ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا ہے اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نہ سنی ہوتی تو میں تمہارا ہاتھ کاٹ دیتا، پھر اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17627]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات لكن اختلف فى صحبة بسر
حدیث نمبر: 17628
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو اللَّهُمَّ: " أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ" ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَيْثَمٍ.
حضرت بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے اے اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام بخیر فرما اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17628]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات غيرأيوب بن ميسره ، و بسر بن أرطاة مختلف فى صحبته
538. حَدِیث النَّوَّاسِ بنِ سَمعَانَ الكِلَابِیِّ الاَنصَارِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17629
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ بِمَكَّةَ إِمْلَاءً، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ، فَخَفَضَ فِيهِ وَرَفَعَ، حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ، فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا، فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ، فَخَفَضْتَ فِيهِ وَرَفَعْتَ، حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ. قَالَ: " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ مني عَلَيْكُمْ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ، فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ، وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ، فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، إِنَّهُ شَابٌّ جَعْدٌ قَطَطٌ، عَيْنُهُ طَافِيَةٌ، وَإِنَّهُ يَخْرُجُ خَلَّةً بَيْنَ الشَّامِ، وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا، يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لُبْثُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ:" أَرْبَعِينَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ، وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ، وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ، وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي هُوَ كَسَنَةٍ، أَيَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ؟ قَالَ:" لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ:" كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ". قَالَ:" فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ، فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ، فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ، وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرًا، وَأَمَدُّهُ خَوَاصِرَ، وَأَسْبَغُهُ ضُرُوعًا، وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ، فَيَرُدُّوا عَلَيْهِ قَوْلَهُ، فَتَتْبَعُهُ أَمْوَالُهُمْ، فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ شَيْءٌ، وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ، فَيَقُولُ لَهَا: أَخْرِجِي كُنُوزَكِ، فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ". قَالَ:" وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فَيُقْتَلُ، فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ، فَيَقْطَعُهُ جِزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ، ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ:. قَالَ:" فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِيِّ". قَالَ:" فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ. فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ، وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ سورة الأنبياء آية 96 فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي رِقَابِهِمْ، فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ، فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتِنُهُمْ، فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ، فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" . قَالَ ابْنُ جَابِرٍ : فَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكِيُّ ، عَنْ كَعْبٍ أَوْ غَيْرِهِ: قَالَ:" فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمَهبِل". قَالَ ابْنُ جَابِرٍ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا يَزِيدَ، وَأَيْنَ الْمَهبِلُ؟ قَالَ: مَطْلَعُ الشَّمْسِ. قَالَ:" وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَطَرًا لَا يُكَنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ، وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ: أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ، وَرُدِّي بَرَكَتَكِ". قَالَ:" فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَةِ، وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا، وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ، حَتَّى أَنَّ اللَّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ، وَاللَّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ". قَالَ:" فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ، إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ قَالَ: كُلِّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحَمِيرِ، وَعَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ: وَعَلَيْهِ تَقُومُ السَّاعَةُ".
حضرت نواس بن سمعان کلابی سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دجال کا بیان کیا تو اس کی ذلت بھی بیان کی (کہ وہ کانا ہے اور اللہ کے نزدیک ذلیل ہے) اور اس کی بڑائی بھی بیان کی (کہ اس کا فتنہ سخت ہے اور وہ عادت کے خلاف باتیں دکھلا دے گا) یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ ان کھجوروں میں ہے (یعنی ایسا قریب ہے گویا حاضر ہے یہ آپ کے بیان کا اثر اور صحابہ کے ایمان کا سبب تھا) جب ہم لوٹ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے (یعنی دوسرے وقت) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے ڈر کا اثر ہم میں پایا (ہمارے چہروں پر گھبراہٹ اور خوف سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اس کی ذلت بھی بیان کی اور اس کی عظمت بھی بیان کی یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ انہی کھجور کے درختوں میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کے سوا اوروں کا مجھے زیادہ ڈر ہے تم پر اور دجال اگر میری موجودگی میں نکلا تو میں اس سے حجت کروں گا تمہاری طرف سے (تم الگ رہو گے) اور اگر اس وقت نکلے جب میں تم میں نہ ہوں (بلکہ میری وفات ہوجائے) تو ہر ایک شخص اپنی حجت آپ کرلے اور اللہ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر۔ دیکھو! دجال جوان ہے اس کے بال بہت گھنگھریالے ہیں اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہے، دیکھو دجال خلسہ سے نکلے گا جو شام اور عراق کے درمیان (ایک راہ راہ) ہے اور فساد پھیلاتا پھرے گا دائیں طرف اور بائیں طرف ملکوں میں اے اللہ کے بندوں مضبوط رہنا ایمان پر ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس دن تک جن میں ایک دن سال بھر کا ہوگا اور ایک دن ایک مہینے کا اور ایک دن ایک ہفتے کا اور باقی دن تمہارے ان دنوں کی طرح ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ دن جو ایک برس کا ہوگا کیا اس میں ہم کو ایک دن کی (پانچ نمازیں) کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اندازہ کر کے نماز پڑھ لو، ہم نے عرض کیا، وہ زمین میں کس قدر جلد چلے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی مثال بارش کی سی ہے جو ہوا کے بعد آتی ہے، وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور ان کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی مان لیں گے اور اس پر ایمان لائیں گے (معاذ اللہ وہ الوہیت کا دعوی کرے گا) پھر وہ آسمان کو حکم دے گا ان پر پانی بر سے گا اور زمین کو حکم دے گا وہ اناج اگائے گی اور ان کے جانور شام کو آئیں گے (چراگاہ سے لوٹ کر) ان کی کوہان خوب اونچی یعنی خوب موٹے تازے ہو کر اور ان کے تھن خوب بھرے ہوئے دودھ والے اور ان کی کوکھیں پھولی ہوں گی پھر ایک قوم کے پاس آئے گا ان کو اپنی طرف بلائے گا وہ اس کی بات نہ مانیں گے (اس کے اللہ ہونے کو رد کردیں گے) آخر دجال ان کے پاس سے لوٹ جائے گا صبح کو ان کا مالک قحط زدہ ہوگا اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا۔ پھر دجال ایک کھنڈر پر سے گزرے گا اور اسے کہے گا اپنے خزانے نکال، اس کھنڈر کے سب خزانے اس کے ساتھ ہولیں گے جیسے شہد کی مکھیاں بڑی مکھی یعنی یعسوب کے ساتھ ہوتی ہیں، پھر ایک شخص کو بلائے گا جو اچھا موٹا تازہ جوان ہوگا اور تلوار سے اس کو مارے گا۔ وہ دو ٹکڑے ہوجائے گا اور ہر ایک ٹکڑے کو دوسرے ٹکڑے سے تیر کے (گرنے کے) فاصلہ تک کر دے گا۔ پھر اس کا نام لے کر اس کو بلائے گا، وہ شخص زندہ ہو کر آئے گا اس کا منہ چمکتا ہوگا اور ہنستا ہوگا۔ خیر دجال اور لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اتنے میں اللہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجے گا اور وہ سفید مینار پر دمشق کے مشرق کی جانب اتریں گے۔ دو زرد کپڑے پہنے ہوئے (جو ورس یا زعفران میں رنگے ہوں گے) اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازو پر رکھے ہوئے، حضرت عیسیٰ چلیں گے اور دجال کو باب لد پر پائیں گے، وہاں اس مردود کو قتل کریں گے، لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ وحی بھیجے گا، حضرت عیسیٰ پر اے عیسیٰ میں اپنے بندوں میں سے ایسے بندوں کو نکالا ہے کہ ان سے کوئی لڑ نہیں سکتا تو میرے (مومن) بندوں کو طور پہاڑ پر لے جا اور اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو بھیجے گا اور جیسے اللہ نے فرمایا من کل حدب ینسلون یعنی ہر ایک ٹیلے پر سے پھسلتے ہوئے محسوس ہوں گے، حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں گے تو اللہ یاجوج ماجوج کے لوگوں پر ایک پھوڑا بھیجے گا (اس میں کیڑا ہوگا) ان کی گردنوں میں وہ دوسرے دن صبح کو سب مرے ہوئے ہوں گے جیسے ایک آدمی مرتا ہے اور حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی پہاڑ سے اتریں گے اور ایک بالشت برابر جگہ نہ پائیں گے جو ان کی چکنائی، بدبو اور خون سے خالی ہو آخر وہ پھر د [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17629]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2937