🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
538. حَدِیث النَّوَّاسِ بنِ سَمعَانَ الكِلَابِیِّ الاَنصَارِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17630
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَعْنِي ابْنَ جَابِرٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا وَهُوَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُقِيمَهُ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يُزِيغَهُ أَزَاغَهُ. وَكَانَ يَقُولُ: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ. وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يَخْفِضُهُ وَيَرْفَعُهُ" .
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جتنے بھی دل ہیں، وہ رب العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، اگر وہ کسی دل کو سیدھا رکھنا چاہے تو سیدھا رکھتا ہے اور اگر ٹیڑھا کرنا چاہے تو ٹیرھا کردیتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے اے دلوں کو پلٹنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما۔ اور میزان عمل رحمان کے ہاتھ میں ہے، وہ اسے اونچا نیچا کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17630]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17631
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ: وَكَذَا قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْأَنْصَارِيُّ : قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ. فَقَالَ: " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ النَّاسُ عَلَيْهِ" .
حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند سمجھو کہ لوگ اس سے واقف ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17631]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2553
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17632
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ أَبُو الْمُغِيرَةِ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ القاصُّ ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ: " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَعْلَمَهُ النَّاسُ" .
حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند سمجھو کہ لوگ اس سے واقف ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17632]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2553
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17633
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيَّ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ: " الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ النَّاسُ عَلَيْهِ" .
حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیکی حسن خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم اس بات کو ناپسند سمجھو کہ لوگ اس سے واقف ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17633]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2553
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17634
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا، وَعَلَى جَنَبَتَيْ الصِّرَاطِ سُورَانِ، فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرْخَاةٌ، وَعَلَى بَابِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ادْخُلُوا الصِّرَاطَ جَمِيعًا، وَلَا تَتَعَرَّجُوا، وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِ الصِّرَاطِ، فَإِذَا أَرَادَ يَفْتَحُ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ، قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ، فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ، وَالصِّرَاطُ الْإِسْلَامُ، وَالسُّورَانِ حُدُودُ اللَّهِ، وَالْأَبْوَابُ الْمُفَتَّحَةُ مَحَارِمُ اللَّهِ، وَذَلِكَ الدَّاعِي عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالدَّاعِي من فَوْقَ الصِّرَاطِ وَاعِظُ اللَّهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُسْلِمٍ" .
حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک صراط مستقیم ہے جس کی دونوں جانب دیواریں ہیں، ان دیواروں میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں اور راستے کے مرکزی دروازے پر ایک داعی کھڑا کہہ رہا ہے لوگو! سب کے سب اس میں داخل ہوجاؤ، دائیں بائیں منتشر نہ ہو اور ایک داعی راستے کے بیچ میں پکار رہا ہے، جب کوئی شخص ان میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے کہ اسے مت کھولنا، اس لئے کہ اگر تم نے اسے کھول لیا تو اس میں داخل ہوجاؤ گے۔ صراط مستقیم سے مراد اسلام ہے، دیوار سے مراد حدود اللہ ہیں، کھلے ہوئے دروازے محارم ہیں اور راستے کے مرکزی دروازے پر جو داعی ہے، وہ قرآن کریم ہے اور راستے کے عین بیچ میں جو داعی ہے، وہ ہر مسلمان کے دل میں اللہ کا ایک واعظ ہے (جسے ضمیر کہتے ہیں) [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17634]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17635
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ شُرَيْحٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبُرَتْ خِيَانَةً تُحَدِّثُ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ مُصَدِّقٌ، وَأَنْتَ بِهِ كَاذِبٌ" .
حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی بات بیان کرو، وہ تمہیں سچا سمجھ رہا ہو، حالانکہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17635]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً، من أجل عمر بن هارون، وقد تابعه عليه الوليد بن مسلم، لكن دلس فيه الوليد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17636
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا، عَلَى كَتِفَيْ الصِّرَاطِ سُورَانِ، فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ، وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ، وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ، وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ، فَالْأَبْوَابُ الَّتِي عَلَى كَتِفَيْ الصِّرَاطِ حُدُودُ اللَّهِ، لَا يَقَعُ أَحَدٌ فِي حُدُودِ اللَّهِ حَتَّى يَكْشِفَ سِتْرَ اللَّهِ، وَالَّذِي يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک صراط مستقیم ہے جس کی دونوں جانب دیواریں ہیں، ان دیواروں میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں اور راستے کے مرکزی دروازے پر ایک داعی کھڑا کہہ رہا ہے اور ایک داعی اس کے اوپر سے پکار رہا ہے، اللہ سلامتی والے گھر کی دعوت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17636]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بقية يدلس تدليس التسوية، ولم يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17637
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ، تَقَدَّمُهُمْ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ". وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ، قَالَ:" كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ، بَيْنَهُمَا شَرْقٌ، أو كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، يُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا" .
حضرت نواس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن قرآن کریم اور اہل قرآن جنہوں نے اس پر عمل بھی کیا ہو کو اس طرح لایا جائے گا کہ سورت بقرہ اور آل عمران اس کے آگے آگے ہوگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں بیان فرمائیں جنہیں میں اب تک بھلا نہیں پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دونوں سورتیں بادل کی طرح ہوں گی یا سائبان کی طرح جن کے درمیان روشنی ہو، یا پرندہ کی صف بستہ قطاروں کی طرح ہوں گی اور اپنے پڑھنے والے کی طرف سے حجت بازی کریں گی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17637]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 805
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
539. حَدِیث عتبَةَ بنِ عَبد السّلَمِیِّ اَبِی الوَلِیدِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17638
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رجلٍ يُقَالَ لَهُ: يُقَالُ لَهُ نَصْرٌ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَتْفِ أَذْنَابِ الْخَيْلِ وَأَعْرَافِهَا وَنَوَاصِيهَا، وَقَالَ: " أَذْنَابُهَا مَذَابُّهَا، وَأَعْرَافُهَا أَدْفَاؤُهَا، وَنَوَاصِيهَا مَعْقُودٌ بِهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دموں، ایالوں اور پیشانیوں کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ ان کی دم ان کے لئے مورچھل ہے، ان کی ایال سردی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اور ان کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17638]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على ثور بن يزيد، ثم إسناده منقطع، ثور لم يسمع من عتبة بن عبد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17639
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ شُفْعَةَ الرَّحَبِيّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ يَمُوتُ وَقَالَ حَسَنٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلَّا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ" .
حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں، وہ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں پر ملیں گے کہ وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17639]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں