🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
545. حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ الحَارِثِ بنِ جَزء الزّبَیدِیِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17709
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ:" أَكَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِوَاءً فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَضَرَبْنَا أَيْدِيَنَا فِي الْحَصَى، ثُمَّ قُمْنَا فَصَلَّيْنَا، وَلَمْ نَتَوَضَّأْ" .
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صفہ میں ہم لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھنا ہوا کھانا کھایا، پھر نماز کھڑی ہوئی تو ہم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور نیا وضو کیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17709]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية قتيبة بن سعيد عنه صالحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17710
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ وَبُطُونِ الْأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ" .
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی جانب رخ کر کے پیشاب نہ کرے، سب سے پہلے میں نے سنا تھا اور سب سے پہلے میں نے ہی لوگوں کے سامنے یہ حدیث بیان کی تھی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17710]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17711
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ مَرَّ وَصَاحِبٌ لَهُ بِأَيْمَنَ وَفِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ حَلُّوا أُزُرَهُمْ، فَجَعَلُوهَا مَخَارِيقَ يَجْتَلِدُونَ بِهَا وَهُمْ عُرَاةٌ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَمَّا مَرَرْنَا بِهِمْ قَالُوا: إِنَّ هَؤُلَاءِ قِسِّيسِينَ فَدَعُوهُمْ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَبْصَرُوهُ تَبَدَّدُوا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا، حَتَّى دَخَلَ، وَكُنْتُ أَنَا وَرَاءَ الْحُجْرَةِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، لَا مِنَ اللَّهِ اسْتَحْيَوْا، وَلَا مِنْ رَسُولِهِ اسْتَتَرُوا" . وَأُمُّ أَيْمَنَ عِنْدَهُ تَقُولُ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبِلَأْيٍ مَا أَسْتَغْفرَ لَهُمْ. قَالَ عَبْد اللَّهِ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ.
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ایمن اور چند قریشی نوجوانوں کے پاس سے گذرے، جنہوں نے اپنے تہبند اتار کر ان کے گولے بنا لئے تھے اور ان سے کھیل کر ایک دوسرے کو مار رہے تھے اور خود مکمل برہنہ تھے، جب ہم ان کے پاس سے گذرے تو وہ کہنے لگے کہ یہ پادری ہیں، انہیں چھوڑ دو، اسی اثناء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی باہر نکل آئے، انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو فورا منتشر ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں واپس گھر چلے گئے، میں نے حجرے کے باہر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا سبحان اللہ! انہیں اللہ اور رسول کسی سے شرم نہیں آتی اور حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہ کہہ رہی تھیں کہ یا رسول اللہ! ان کی بخشش کے لئے دعاء فرما دیجئے، عبداللہ کہتے ہیں کہ میں کس وجہ سے ان کے لئے استغفار کروں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17711]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17712
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، قَالَ: مُوسَى فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي النَّارِ حَيَّاتٍ كَأَمْثَالِ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ خَرِيفًا، وَإِنَّ فِي النَّارِ عَقَارِبَ كَأَمْثَالِ الْبِغَالِ الْمُوكَفَةِ، تَلْسَعُ إِحْدَاهُنَّ اللَّسْعَةَ فَيَجِدُ حَمْوَتَهَا أَرْبَعِينَ سَنَةً" .
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم میں بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے سانپ ہوں گے جو اگر کسی کو ایک مرتبہ ڈس لیں تو وہ چالیس سال تک ان کا زہر محسوس کرتا رہے گا اور جہنم میں خچروں جیسے بچھو ہوں گے جو اگر کسی کو ایک مرتبہ ڈس لیں تو وہ چالیس سال تک ان کا زہر محسوس کرتا رہے گا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17712]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، دراج بن سمعان ضعفه غير واحد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17713
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو تبسم کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17713]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، ابن لهيعة ضعيف، لكن رواية ابن المبارك والمقرئ عنه صالحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17714
حَدَّثَنَا حَجَاجٌ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ . وَأَبُو زَكَرِيَا ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبِيدِ الله بْنِ المُغِيرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الله بْنَ الحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَطْ إِلَّا مُتَبَسِمًَا" .

الحكم على الحديث:
حديث حسن كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17715
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ" ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ عنه بِذَلِكَ.
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی جانب رخ کر کے پیشاب نہ کرے، سب سے پہلے میں نے سنا تھا اور سب سے پہلے میں نے ہی لوگوں کے سامنے یہ حدیث بیان کی تھی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17715]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
546. حَدِيثُ عَدِيِّ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17716
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ ، وَالْعُرْسُ ابْنُ عميرة ، عَنْ أَبِيهِ عَدِيٍّ ، قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، يُقَالُ لَهُ: امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ، رَجُلًا مِنْ حَضَرَمَوْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ، فَقَضَى عَلَى الْحَضْرَمِيِّ بِالْبَيِّنَةِ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: إِنْ أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ وَاللَّهِ أَوْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَرْضِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ". قَالَ رَجَاءُ: وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77. فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ: مَاذَا لِمَنْ تَرَكَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْجَنَّةُ". قَالَ: فَاشْهَدْ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا لَهُ كُلَّهَا .
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ کندہ کے امرؤ القیس بن عابس نامی ایک آدمی کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک زمین کے متعلق حضرت موت کے ایک آدمی سے جھگڑا ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی کو گواہ پیش کرنے کی تلقین کی، لیکن اس کے پاس گواہ نہیں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امرؤ القیس کو قسم کھانے کے لئے فرمایا: حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ نے اسے قسم اٹھانے کی اجازت دے دی تو رب کعبہ کی قسم! یہ میری زمین لے جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس مقصد کے لئے جھوٹی قسم کھائے اس کے ذریعے اپنے بھائی کا مال ہتھیا لے، تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی، بیشک وہ لوگ جو اللہ کے وعدے اور اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں) امرؤ القیس نے کہا کہ جو شخص اپنے حق کو چھوڑ دے، اسے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت، امرؤ القیس نے کہا تو پھر آپ گواہ رہئے، میں نے ساری زمین اس کے حق میں چھوڑ دی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17716]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17717
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ عَدِيِّ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ، فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ، فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ، قَالَ مُجَالِدٌ: هُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ. فَقَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ الْآنَ، مَنْ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ، فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ، فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَهُ، وَمَا نُهِيَ عَنْه انْتَهَى" .
حضرت عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگو! تم میں سے جو شخص ہمارے لئے کوئی کام کرتا ہے اور ہم سے ایک دھاگہ یا اس سے بھی معمولی چیز چھپاتا ہے تو وہ خیانت ہے جس کے ساتھ وہ قیامت کے دن آئے گا، یہ سن کر ایک پکے رنگ کا انصاری کھڑا ہوا، وہ انصاری اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے میرے ذمے جو کام سپرد فرمایا تھا، وہ ذمہ داری مجھ سے واپس لے لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ میں نے آپ کو اس طرح کہتے ہوئے سنا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں اب یہ کہتا ہوں کہ جس شخص کو ہم کسی ذمہ داری پر فائز کریں وہ تھوڑا اور زیادہ سب ہمارے پاس لے کر آئے، پھر اس میں سے جو اسے دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روکا جائے، اس سے رک جائے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17717]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1833
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17718
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَدِيُّ ابْنُ عَمِيرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَدِيِّ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1833
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں