مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
692. حَدِيثُ جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18802
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ الْبَجَلِيِّ، ثُمَّ الْعَلَقِيّ : أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ بِاللَّحْمِ وَذَبَائِحِ الْأَضْحَى، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ حَتَّى صَلَّيْنَا، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ" .
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدالاضحی پڑھ کر واپس ہوئے تو گوشت اور قربانی کے ذبح شدہ جانور نظر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ ان جانوروں کو نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرلیا گیا ہے سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18802]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18803
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلاَةَ الْفَجْرِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ، فَلَا تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ" .
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص فجر کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ کی ذمہ داری میں آجاتا ہے لہٰذا تم اللہ کی ذمہ داری کو ہلکا (حقیر) مت سمجھو اور وہ تم سے اپنے ذمے کی کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18803]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 657
حدیث نمبر: 18804
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: " اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَقُمْ لَيْلَةً أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَأَتَتْ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا مُحَمَّدُ، مَا أَرَى شَيْطَانَكَ إِلَاّ قَدْ تَرَكَكَ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى، مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوگئے جس کی وجہ سے دو تین راتیں قیام نہیں کرسکے ایک عورت نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارا ساتھی کافی عرصے سے تمہارے پاس نہیں آیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18804]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4983، م: 1797
حدیث نمبر: 18805
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ الْعَلَقِيَّ حَيٌّ مِنْ بَجِيلَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأْضْحَى عَلَى قَوْمٍ قَدْ ذَبَحُوا أَوْ نَحَرُوا وقَوْمٍ لَمْ يَذْبَحُوا أَوْ لَمْ يَنْحَرُوا، فَقَالَ: " مَنْ ذَبَحَ أَوْ نَحَرَ قَبْلَ صَلَاتِنَا، فَلْيُعِدْ، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ أَوْ يَنْحَرْ، فَلْيَذْبَحْ أَوْ يَنْحَرْ بِاسْمِ اللَّهِ" .
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدالاضحی پڑھ کر واپس ہوئے تو گوشت اور قربانی کے ذبح شدہ جانور نظر آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ ان جانوروں کو نماز عید سے پہلے ہی ذبح کرلیا گیا ہے سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ہو وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے اور جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح نہ کیا ہو تو اب اللہ کا نام لے کر ذبح کرلے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18805]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 985، م: 1960
حدیث نمبر: 18806
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الَأْسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْعَلَقِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ جِبْرِيلَ أَبْطَأَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزِعَ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ، قَالَ: فَنَزَلَتْ وَالضُّحَى وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى سورة الضحى آية 1 - 3" .
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہونے میں کچھ تاخیر کردی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بےچین ہوگئے کسی نے اس پر کچھ کہہ دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی ناراض ہوا ہے، [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18806]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1125، م: 1797
حدیث نمبر: 18807
قال: قال: سَمِعْت جُنْدُبًا، يَقُولُ: دَمِيَتْ إِصْبَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ" .
اور حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی پر کوئی زخم آیا اور اس میں سے خون بہنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو ایک انگلی ہی ہے تو خون آلود ہوگئی ہے اور اللہ کے راستے میں تجھے کوئی بڑی تکلیف تو نہیں آئی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18807]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6146، م: 1796
حدیث نمبر: 18808
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: قَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ: الْبَجَلِيُّ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائيِ يُرَائي اللَّهُ بِهِ" .
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شہرت حاصل کرنے کے لئے کوئی کام کرتا ہے اللہ اسے اس کے حوالے کردیتا ہے اور جو شخص ریاء کاری سے کوئی کام کرے اللہ اسے اس کے ہی حوالے کردیتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18808]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6499، م: 2987
حدیث نمبر: 18809
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ الْعَلَقِيِّ سَمِعَهُ مِنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ" .
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18809]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18810
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جُنْدُبًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ" . قَالَ سُفْيَانُ: الْفَرَطُ الَّذِي يَسْبِقُ.
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر ہوں گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18810]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289
حدیث نمبر: 18811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ المَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَنا فَرَطُكم عَلَى الحَوْضِ" .
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6589، م: 2289