مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
680. حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18772
وقَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ.
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
681. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18773
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْحَجِّ بِعَرَفَةَ فَقَالَ: " الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ، أَوْ عَرَفَاتٍ وَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاَثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ" .
حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منٰی کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18773]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18774
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْحَجُّ؟ فَقَالَ: " الْحَجُّ عَرَفَةُ، فَمَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ"، ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهِنَّ .
حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منٰی کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے بٹھالیا جو ان باتوں کی منادی کرنے لگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18774]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18775
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْحَجِّ، فَقَالَ: " الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَاتٍ، أَوْ عَرَفَةَ، مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ" .
حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرفہ کے دن حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منٰی کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18775]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
682. حَدِيثُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18776
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ ، يَقُولُ: عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَلَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ، فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي" .
حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بنوقریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18776]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
683. حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18777
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ شِبَاك ، ٍعَنْ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنِي فُلَاَنٌ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاَثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ، سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ مَمْلُوكًا وَأَسْلَمَ قَبْلَنَا، فَقَالَ: " لَا، هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ثُمَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الشِّتَاءِ، وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً يَعْنِي فِي الطَّهُورِ، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِيهِ .
ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے ہمیں نماز سے قبل وضو نہ کرنے کی رخصت دے دیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی پھر ہم نے کدو کے برتن کی اجازت مانگی تو اس وقت اس کی بھی اجازت نہیں دی پھر ہم نے درخواست کی کہ ابوبکرہ کو ہمارے حوالے کردیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں سے نکل کر اسلام قبول کرلیا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18777]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، على بن عاصم ضعيف، لكنه توبع
684. حَدِيثُ صَخْرِ بْنِ عَيْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18778
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنِي عُمُومَتِي ، عَنْ جَدِّهِمْ صَخْرِ بْنِ عَيْلَةَ أَنَّ قَوْمًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَرُّوا عَنْ أَرْضِهِمْ حِينَ جَاءَ الْإَِسْلَامُ، فَأَخَذْتُهَا، فَأَسْلَمُوا، فَخَاصَمُونِي فِيهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّهَا عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: " إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِأَرْضِهِ وَمَالِهِ" .
حضرت صخر بن عیلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اسلام آیا تو بنوسلیم کے کچھ لوگ اپنی جائیدادیں چھوڑ کر بھاگ گئے میں نے ان پر قبضہ کرلیا وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور ان جائیدادوں کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے خلاف مقدمہ کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جائیدادیں انہیں واپس لوٹا دیں اور فرمایا جب کوئی شخص مسلمان ہوجائے تو اپنی زمین اور مال کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18778]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فقد اختلف فيه على أبان بن عبدالله البجلي
685. حَدِيثُ أَبِي أُمَيَّةَ الْفَزَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18779
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَيَّةَ الْفَزَارِيَّ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ" . وَلَمْ يَقُلْ أَبُو نُعَيْمٍ مَرَّةً: الْفَرَّاءَ، قَالَ: أَبُو جَعْفَرٍ، وَلَمْ يَقُلْ: الْفَرَّاءَ.
حضرت ابوامیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگواتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18779]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع
686. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18780
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيّ ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ، وَأَنَا غُلَاَمٌ شَابٌّ أَنْ " لاَ تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ" .
حضرت عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خط ہمارے پاس آیا جبکہ ہم جہینہ میں رہتے تھے اور میں اس وقت نوجوان تھا کہ مردار جانور کی کھال اور پٹھوں سے کوئی فائدہ مت اٹھاؤ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18780]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فيه علتان، أولاهما: الانقطاع، عبد الله بن عكيم أدرك زمان رسول الله* ولا يعرف له سماع صحيح، وثانيهما: الاضطراب
حدیث نمبر: 18781
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ وَهُوَ مَرِيضٌ نَعُودُهُ، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ تَعَلَّقْتَ شَيْئًا، فَقَالَ: أَتَعَلَّقُ شَيْئًا وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِلَيْهِ" .
عیسیٰ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بیمار ہوگئے ہم ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو کسی نے کہا کہ آپ کوئی تعویذ وغیرہ گلے میں ڈال لیتے؟ انہوں نے فرمایا میں کوئی چیز لٹکاؤں گا؟ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص کوئی بھی چیز لٹکائے گا وہ اسی کے حوالے کردیا جائے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18781]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن عكيم لم يسمع من النبى * ، وابن أبى ليلى سيئ الحفظ، وعيسى لم يلق عبدالله بن عكيم