مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
783. حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19341
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ، كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَامًا، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ، قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: أَهْدَى رِجْلُ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ، إِنَّا حُرُمٌ" .
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کریدتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے مجھے وہ بات کیسے بتائی تھی کہ حالت احرام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک آدمی نے کسی شکار کا ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیۃ ًپیش کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا ہم اسے نہیں کھاسکتے کیونکہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19341]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1195
حدیث نمبر: 19342
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَجْلَحَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنَّ نَفَرًا وَطِئُوا امْرَأَةً فِي طُهْرٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِاثْنَيْنِ: أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا؟ فَقَالَا: لَا، فَأَقْبَلَ عَلَى الْآخَرَيْنِ، فَقَالَ: أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا؟ فَقَالَا: لَا، قَالَ: أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، قَالَ: إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ، فَأَيُّكُمْ قُرِعَ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ، وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ" رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان میں سے دو آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کے لئے بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا اسی طرح ایک ایک کے ساتھ دوسرے کو ملاکرسوال کرتے رہے یہاں تک کہ اس مرحلے سے فارغ ہوگئے اور کسی نے بھی بچے کا اقرار نہیں کیا پھر انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پر دوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اس کا حل وہی جانتاہوں جو علی نے بتایا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19342]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 19343
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ: كَتَبَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ بِمَنْ أُصِيبَ مِنْ وَلَدِهِ وَقَوْمِهِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: وَأُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنِسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ" .
نضربن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ واقعہ حرہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے جو بچے اور قوم کے لوگ شہید ہوگئے تھے ان کی تعزیت کرنے کے لئے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے انہیں خط لکھا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتاہوں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! انصار کی، ان کی بیٹوں کی اور ان کی پوتوں کی مغفرت فرما اور انصار کی عورتوں کی ان کے بیٹوں کی عورتوں کی اور ان کے پوتوں کی عورتوں کی مغفرت فرما۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19343]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 4906، م: 2506، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 19344
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِذْ كَانَ بِالْيَمَنِ اشْتَرَكُوا فِي وَلَدٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَضَمِنَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ، وَجَعَلَ الْوَلَدَ لَهُ، قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَضَاءِ عَلِيٍّ، فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پر دوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے مسکرائے کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19344]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 19345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ خَالِدٍ أَبِي الْعَلَاءِ الْخَفَّافِ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، وَأَصْغَى السَّمْعَ مَتَى يُؤْمَرُ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" ..
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں کس طرح نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے اپنے منہ صور سے لگا رکھا ہے پیشانی جھکا رکھی ہے اور کان متوجہ کر رکھے ہیں کہ کب اسے حکم ہوتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو یہ بات سن کر بہت سخت معلوم ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حسبنا اللہ ونعم الوکیل کہتے رہو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بھی مروی ہے کہ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19345]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية وخالد الخفاف، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 19346
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي، وهذا الحديث من مسند أبى سعيد الخدري، وقد سلف ، وإنما أعادها الإمام أحمد هنا لذكر الاختلاف فيه على عطية العوفي
حدیث نمبر: 19347
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى مَسْجِدِ قُبَاءَ أَوْ: دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَاءَ بَعْدَمَا أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ، فَإِذَا هُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: " إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ كَانُوا يُصَلُّونَهَا إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ" .
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے وہ لوگ چاشت کے وقت نماز پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی یہ نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19347]
الحكم على الحديث:
هذا من صحيح حديث القاسم بن عوف، م: 748
حدیث نمبر: 19348
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: أَصَابَنِي رَمَدٌ، فَعَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا بَرَأْتُ خَرَجْتُ، قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ عَيْنَاكَ لِمَا بِهِمَا مَا كُنْتَ صَانِعًا؟ قَالَ: قُلْتُ: لَوْ كَانَتَا عَيْنَايَ لِمَا بِهِمَا، صَبَرْتُ وَاحْتَسَبْتُ، قَالَ: لَوْ كَانَتْ عَيْنَاكَ لِمَا بِهِمَا، ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ، لَلَقِيتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا ذَنْبَ لَكَ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ، لَأَوْجَبَ اللَّهُ لَكَ الْجَنَّةَ" .
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے تھے جب میں صحیح ہوگیا تو گھر سے نکلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں اسی بیماری میں رہتیں تو تم کیا کرتے؟ میں نے جواب دیا کہ اگر میری آنکھیں اسی طرح رہتیں تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم اللہ سے اس طرح ملتے کہ تمہارا کوئی گناہ نہ ہوتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19348]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
784. بَقِيَّةُ حَدِيثِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19349
قَالَ عَبْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَارِئُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَوْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالرَّجُلِ الْوَاحِدِ، إِذَا وَجِعَ مِنْهُ شَيْءٌ، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ" .
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19349]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6011، م: 2586، معاوية بن عبدالله متابع
حدیث نمبر: 19350
قَالَ عَبْدُ اللهِ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " مَنْ لَمْ يَشْكُرْ الْقَلِيلَ، لَمْ يَشْكُرْ الْكَثِيرَ، وَمَنْ لَمْ يَشْكُرْ النَّاسَ، لَمْ يَشْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَالتَّحَدُّثُ بِنِعْمَةِ اللَّهِ شُكْرٌ، وَتَرْكُهَا كُفْرٌ، وَالْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ، وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ" .
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر پر فرمایا جو شخص تھوڑے پر شکر نہیں کرتاوہ زیادہ پر بھی شکر نہیں کرتا جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتاوہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اللہ کے انعامات و احسانات کو بیان کرنا شکر ہے چھوڑنا کفر ہے، اجتماعیت رحمت ہے پھر وتراق عذاب ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19350]
الحكم على الحديث:
وهذا إسناد ضعيف، فيه أبو عبدالرحمن لا يعرف، وقوله: ومن لم يشكر الناس لم يشكر الله صحيح لغيره