مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
786. بَقِيَّةُ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، وَعَنْ نَاسٍ ذَكَرَهُمْ شُعْبَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ، فَإِنَّهُ وَقِيذٌ، فَلَا تَأْكُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي؟ قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَسَمَّيْتَ، فَأَخَذَ، فَكُلْ، فَإِذَا أَكَلَ مِنْهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي، فَأَجِدُ مَعَهُ كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ؟ قَالَ:" لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ" .
حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہو لیکن جسے تیر کی چوڑائی سے ماراہو وہ موقوذہ (چوٹ سے مرنے والے جانور) کے حکم میں ہے پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ذریعے شکار کے متعلق دریافت کیا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو تو اسے کھاسکتے ہو) اس نے تمہارے لئے جو شکار پکڑا ہو اور خود نہ کھایا ہو تو اسے کھالو کیونکہ اس کا پکڑناہی اسے ذبح کرنا ہے اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ اس دوسرے کتے نے شکار کو پکڑا اور قتل کیا ہوگا تو تم اسے مت کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا دوسرے کے کتے پر نہیں لیا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19391]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 175، م: 1929
حدیث نمبر: 19392
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ، فَخَالَطَ كِلَابًا أُخْرَى، فَأَخَذَتْهُ جَمِيعًا، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَهُ، وَإِذَا رَمَيْتَ فَسَمَّيْتَ، فَخَزَقْتَ، فَكُلْ، فَإِنْ لَمْ يَنْخَزقْ، فَلَا تَأْكُلْ، وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ، وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْبُنْدُقَةِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ" .
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس جانور کو کس کتے نے شکار کیا ہے اور جب تم کسی شکار پر تیر چلاؤ، جو آرپار گذر جائے تو اسے کھالو، ورنہ مت کھاؤ اور چوڑائی سے لگنے والے تیر کا شکار مت کھاؤ الاّ یہ کہ اسے ذبح کرلو اور بندوق کی گولی کا شکارمت کھاؤ الاّ یہ کہ اسے ذبح کرلو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19392]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله:ولا تأكل من البندقة إلا ما ذكيت، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ما بين إبراهيم النخعي وعدي بن حاتم
حدیث نمبر: 19393
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَن هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ كَلْبِي الْمُكَلَّبَ؟ قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ، فَكُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ، مَا لَمْ يُشَارِكْهُ كَلْبٌ غَيْرُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ؟ قَالَ:" مَا خَزَقَ، فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ، فَقَتَلَ، فَلَا تَأْكُلْ" ..
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنے سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھالیا کرو میں نے عرض کیا اگرچہ وہ اسے ماردے؟ نبی کریم نے فرمایا ہاں! بشرطیکہ دوسرے کتے اس کے ساتھ شریک نہ ہوئے ہوں میں نے اس شکار کے متعلق پوچھا جو تیر کی چوڑائی سے مرجائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شکار کو تم نے تیر کی دھار سے ماراہو تو اسے کھاسکتے ہو لیکن جسے تیر کی چوڑائی سے مارا ہو اسے مت کھاؤ۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19393]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 175، م: 1929، مؤمل ضعيف لكنه توبع
حدیث نمبر: 19394
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 175، م: 1929، وهذا إسناد حسن
787. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19395
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ، قَالَ:" انْزِلْ يَا فُلَانُ، فَاجْدَحْ لَنَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيْكَ نَهَارٌ، قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ"، قَالَ: فَفَعَلَ، فَنَاوَلَهُ، فَشَرِبَ، فَلَمَّا شَرِبَ، أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: " إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هَاهُنَا، جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" .
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو حکم دیا کہ اے فلاں! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو، اس نے کہا یا رسول اللہ! ابھی تو دن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر فرمایا کہ اترو اور ستو گھولو، چناچہ اس نے اس پر عمل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا برتن ہاتھ میں پکڑا اور اسے نوش فرمالیا اور اس کے بعد ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19395]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1955، م: 1101
حدیث نمبر: 19396
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ، فَقَالَا: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ، وَأَبَا بُرْدَةَ، يُقْرِئَانِكَ السَّلَامَ، وَيَقُولَانِ: هَلْ كُنْتُمْ تُسَلِّفُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا نُصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُسَلِّفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ. فَقُلْتُ: عِنْدَ مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ، أَوْ: عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ؟ فَقَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَقَالَا لِي: انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، فَاسْأَلْهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى ، وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: وَالزَّيْتِ.
عبداللہ بن ابی المجاہد کہتے ہیں کہ ادھاربیع کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ اور ابوبردہرضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا ان دونوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا کہ ابن شداد اور ابوبردہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں گندم جو اور زیتون کی ادھاربیع کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں! ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مال غنیمت حاصل کرکے گندم، جو کشمش یا جو چیزیں بھی لوگوں کے پاس ہوتی تھیں، ان سے ادھاربیع کرلیا کرتے تھے میں نے ان سے پوچھا جس کے پاس کھیت ہوتا تھا یا جس کے پاس کھیت نہیں ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہم یہ بات ان سے نہیں پوچھتے تھے پھر ان دونوں حضرات نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میں نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہانڈیاں اور ان میں جو کچھ ہے الٹادو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19396]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2242
حدیث نمبر: 19397
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَالْأَبْيَضِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي .
شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبزمٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفیدمٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19397]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19398
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَبْدِيٌّ مَوْلًى لَهُمْ، قَالَ: ذَهَبْتُ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ عَنِ الْجَرَادِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ .
ابویعفور کہتے ہیں کہ میرے ایک شریک نے میرے سامنے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے ٹڈی دلکا حکم پوچھا انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے ان غزوات میں ہم لوگ ٹڈی دل کھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19398]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1952
حدیث نمبر: 19399
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا" قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" فَاجْدَحْ لِي" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ! قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا" وقَالَ سُفْيَانَ مَرَّةً:" فَاجْدَحْ لِي" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الشَّمْسُ، قَال:" انَزِلْ فَاجْدَحْ" فَجَدَحَ، فَشَرِبَ، فَلَمَّا شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ اللَّيْلِ: " إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" .
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو حکم دیا کہ اے فلاں! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو، اس نے کہا یا رسول اللہ! ابھی تو دن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر فرمایا کہ اترو اور ستو گھولو، چناچہ اس نے اس پر عمل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا برتن ہاتھ میں پکڑا اور اسے نوش فرمالیا اور اس کے بعد ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19399]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1941، م: 1101
حدیث نمبر: 19400
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا"، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ .
حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بستی سے باہر کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہانڈیوں میں جو کچھ سے سب الٹادو، سعید بن جبیررحمتہ اللہ علیہ نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ گندگی کھاتے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19400]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3155، م: 1937