🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
842. حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كَلَدَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20523
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ ثُرْمُلَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ، حَقِّهَا فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی معاہد کو ناحق قتل کردے اللہ اس پر جنت کی مہک کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20523]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20524
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، فَذَكَرَ قِصَّةً فِيهَا قَالَ:" فَلَمَّا قَدِمَ خُيِّرَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَ ثَلَاثِينَ أَلْفًا وَبَيْنَ آنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ: فَاخْتَارَ الْآنِيَةَ، قَالَ: فَقَدِمَ تُجَّارٌ مِنْ دَارِينَ، فَبَاعَهُمْ إِيَّاهَا الْعَشْرَةَ ثَلَاثَةَ عَشْرَةَ، ثُمَّ لَقِيَ أَبَا بَكْرَةَ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ خَدَعْتُهُمْ؟ قَالَ: كَيْفَ؟ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ أَوْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَرُدَّنَّهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا" .
محمد نامی راوی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا جب وہ آئے تو عبداللہ کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ تیس ہزار روپے لے یا چاندی کے برتن لے لے اس نے برتن لینے کو ترجیح دی پھر " دارین " سے کچھ تاجر آئے اس نے اس کے دس حصے تیرہ تیرہ ہزار میں فروخت کردیئے پھر حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ہوئی کہنے لگا کہ دیکھا میں نے اسے کس طرح دھوکہ دیا انہوں نے واقعہ پوچھا تو اس نے سارا واقعہ بتادیا حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اسے واپس کردو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20524]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، لعل أبا بكرة يقصد بنهي النبى صلى الله عليه وسلم عن هذا البيع نهيه عن بيع الفضة بالفضة إلا مثلا بمثل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
843. حَدِيثُ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20525
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْج ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعَد ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا" ، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ:" ثَلَاثَ لَيَالٍ".
حضرت علاء سے مروی ہے کہ مہاجر آدمی اپنے ارکان حج ادا کرنے کے بعد تین دن مکہ مکرمہ میں رہ سکتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20525]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1352
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20526
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَسْأَلُ السَّائِبَ مَا سَمِعْتَ فِي السُّكْنَى بِمَكَّةَ؟ فَقَالَ: حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلْمُهَاجِرِ ثَلَاثًا بَعْدَ الصَّدَرِ" .
حضرت علاء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مہاجر آدمی اپنے ارکان حج ادا کرنے کے بعد تین دن مکہ مکرمہ میں رہ سکتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20526]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1352
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20527
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ الْأَزْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ حَيَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَهْلِ هَجَرَ، شَكَّ أَبُو حَمْزَةَ قَالَ: كُنْتُ آتِي الْحَائِطَ بَيْنَ الْإِخْوَةِ، فَيُسْلِمُ أَحَدُهُمْ، فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْآخَرِ الْخَرَاجَ" .
حضرت علاء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بحرین یا اہل حجر کی طرف بھیجا میں ایک باغ میں جاتا تھا جو کئی بھائیوں کے درمیان مشترک تھا ان میں سے ایک بھائی مسلمان ہوگیا تو میں مسلمان سے عشر وصول کرتا تھا اور دوسرے سے خراج وصول کرتا تھا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20527]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، المغيرة ومحمد بن زيد مجهولان، ورواية حيان الأعرج عن العلاء منقطعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
844. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20528
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ عُمَرُ لِرَجُلٍ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ جَذَعًا، ثُمَّ ثَنِيًّا، ثُمَّ رَبَاعِيًا، ثُمَّ سَدَاسِيًّا، ثُمَّ بَازِلًا"، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ فَمَا بَعْدَ الْبُزُولِ إِلَّا النُّقْصَانُ .
ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت عمر فاروق بھی تھے انہوں نے لوگوں میں سے ایک آدمی سے فرمایا کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کے حالات کس طرح بیان کرتے ہوئے سنا تھا انہوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام کا آغاز بکری کے چھ ماہ کے بچے کی طرح ہوا ہے جو دو دانت کا ہوا پھر چار دانت کا ہوا پھر چھ دانت کا ہوا پھر کچھلی کے دانتوں والا ہوا۔ اس پر حضرت عمر کہنے لگا کہ کچھلی کے دانتوں کے بعد نقصان کی طرف واپسی شروع ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20528]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام راويه عن الصحابي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
845. بَقِيَّةُ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20529
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ، قَالَ: فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَقَالَ لَنَا: " لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا، فَعَلَّمْتُمُوهُمْ قَالَ سُرَيْجٌ: وَأَمَرْتُمُوهُمْ أَنْ يُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا"، قَالَ يُونُسُ:" وَمُرُوهُمْ فَلْيُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ" .
حضرت مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ ہم چند نوجوان جو تقریبا ہم عمر تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیس راتیں آپ کے ہاں قیام پذیر رہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے آپ نے محسوس کیا کہ اب ہمیں اپنے گھر والوں سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہورہا ہے آپ نے ہم سے پوچھا کہ اپنے پیچھے گھر میں کسے چھوڑ کر آئے ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ وہیں پر رہو اور انہیں تعلیم دو اور نہیں بتاؤ کہ جب نماز کا وقت آجائے تو ایک شخص کو اذان دینی چاہیے جو سب سے بڑا ہو اس کو امامت کرنی چاہیے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20529]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 685، م: 674
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، وَهُوَ أَبُو سُلَيْمَانَ أَنَّهُمْ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ أَوْ صَاحِبَانِ لَهُ فَقَالَ: أَحَدُهُمَا صَاحِبَيْنِ لَهُ، أَيُّوبُ أَوْ خَالِدٌ، فَقَالَ لَهُمَا: " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا، وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا، وَصَلُّوا كَمَا تَرَوْنِي أُصَلِّي" .
حضرت مالک بن حویرث سے مروی ہے کہ ہم دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ہم نے بتادیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کا وقت آجائے تو ایک شخص کو اذان و اقامت کہنی چاہیے اور جو سب سے بڑا ہو اس کو امامت کرنی چاہیے اور تم اس طرح نماز پڑھو جسے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20530]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 685 ، م: 674
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20531
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، إِلَى أُذُنَيْهِ" .
حضرت مالک بن حویرث سے ارشاد فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں رکوع کرتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20531]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 737 ، م: 391
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20532
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكَنَّى أَبَا عَطِيَّةَ ، قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا، فَقُلْنَا: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: لَا، لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَّهُمْ، وَلْيَؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ" ..
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مالک بن حویرث ہماری مسجد میں تشریف لائے نماز کھڑی ہوئی تو لوگوں نے ان سے امامت کی درخواست کی انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھائے۔ (بعد میں میں تمہیں ایک حدیث سناؤں گا کہ میں تم کو نماز کیوں نہیں پڑھا رہا) نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص کسی قوم سے ملنے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان ہی کا کوئی آدمی انہیں نماز پڑھائے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20532]

الحكم على الحديث:
المرفوع منه حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عطية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں