🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
861. حَدِيثُ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20613
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ مُغِيرَةُ أَخْبَرَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْحِلْفِ؟ فَقَالَ: " مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ" ..
حضرت قیس بن عاصم سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدے کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتنہ انگیزی کے کسی معاہدے کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں البتہ زمانہ جاہلیت کے جو اچھے معاہدے ہیں انہیں پورا کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20613]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مقسم الضبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20614
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مقسم الضبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20615
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَغَرِّ الْمِنْقَرِيِّ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ" .
حضرت قیس بن عاصم سے مروی ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیا کہ وہ پانی اور بیری سے غسل کرکے آئیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20615]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حصين بن قيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
862. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20616
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، وَيُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ،" إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ جب تم کسی بات پر قسم کھاؤ اور پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20616]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7147، م: 1652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20617
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَامَى بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَسَعَيْتُ أَنْظُرُ مَا حَدَثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" وَإِذَا هُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَحْمَدُ، وَيُهَلِّلُ، وَيُكَبِّرُ، وَيَدْعُو، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ" .
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا میں نے اپنے تیروں کو ایک طرف پھینکا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑ پڑا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ کسوف شمس کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح وتحمید اور تحمید اور تہلیل وتکبیر اور دعاء میں مصروف تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک اسی عمل میں مصروف رہے جب تک سورج روشن نہ ہوگیا پھر آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھائیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20617]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 913
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20618
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20618]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7147، م: 1652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20619
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ، فَأَصَابَ النَّاسُ غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا، فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُنَادِيًا يُنَادِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً، فَلَيْسَ مِنَّا"، فَرُدُّوا هَذِهِ الْغَنَمَ، فَرَدُّوهَا، فَقَسَمَهَا بِالسَّوِيَّةِ .
ابولبید کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل کے جہاد میں شرکت کی لوگوں کو ایک جگہ بکریاں نظر آئیں تو وہ انہیں لوٹ کرلے گئے یہ دیکھ کر حضرت عبدالرحمن نے ایک منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اس لئے یہ بکریاں واپس کردو چنانچہ لوگوں نے وہ بکریاں واپس کردیں تو انہوں نے وہ بکریاں برابر برابر تقسیم کردیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20619]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20620
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَهُوَ عَلَى نَهَرِ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ يَسِيلُ الْمَاءُ مَعَ غِلْمَتِهِ وَمَوَالِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، الْجُمُعَةَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ مَطَرٍ وَابِلٍ، فَلْيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ" ..
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کا گذر حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا وہ نہر ام عبداللہ پر تھے اور لڑکوں اور غلاموں کے ساتھ مل کر پانی بہا رہے تھے عمار نے ان سے کہا اے ابوسعید آج تو جمعہ کا دن ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس دن موسلا دھار بارش برس رہی ہو تو تمہیں چاہیے کہ اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20620]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20621
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ: كُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَيُحَدِّثُنِي، فَإِذَا سَأَلْتُهُ الزِّيَادَةَ قَالَ: لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُ ذَا، وَكَانَ ضَرِيرًا.

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20622
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ، أُوكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" ..
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20622]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 7147، م: 1652، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں