🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
862. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20623
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

الحكم على الحديث:
إسناد صحيح، خ: 7147، م: 1652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20624
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ" ، وَقَالَ يَزِيدُ:" وَالطَّوَاغِي".
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آباؤ اجداد یا بتوں کے نام کی قسم مت کھایا کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20624]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1648
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ: " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ تُعْطَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، تُعَنْ عَلَيْهَا، وَإِنْ تُعْطَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ، تُكَلْ إِلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، وَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ" .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20625]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6722 ، م: 1652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20626
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا" .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20626]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، " لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ، وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ" .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20627]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6622، م: 1652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20628
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، " لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ، الَّذِي هُوَ خَيْرٌ" ، قَالَ أَبِي: اتَّفَقَ عَفَّانُ وَأَسْوَدُ فِي حَدِيثِهِمَا، فَقَالَا:" فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ"، وقَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَبَدَأَ بِالْكَفَّارَةِ..
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20628]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6622، م: 1652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20629
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ الْقُرَشِيُّ ، وَنَحْنُ بِكَابُلَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ،" لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 6622، م: 1652، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20630
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي ثَوْبِهِ، حِينَ جَهَّزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، قَالَ: فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: " مَا ضَرَّ ابْنُ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ" يُرَدِّدُهَا مِرَارًا .
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت " جیش عسرہ " (غزوہ تبوک) کی تیاری کررہے تھے تو حضرت عثمان غنی ایک کپڑے میں ایک ہزار دینار لے کر آئے اور لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ڈال دیئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ آج کے دن ابن عفان کوئی بھی عمل کریں وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہ جملہ آپ نے کئی مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20630]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20631
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ، قَالَ: فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا، فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ مُنَادِيًا يُنَادِي، فَنَادَى، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا" رُدُّوهَا، فَرَدُّوهَا، فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ .
ابولبید کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل کے جہاد میں شرکت کی لوگوں کو ایک جگہ بکریاں نظر آئیں تو وہ انہیں لوٹ کرلے گئے یہ دیکھ کر حضرت عبدالرحمن نے ایک منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اس لئے یہ بکریاں واپس کردو چنانچہ لوگوں نے وہ بکریاں واپس کردیں تو انہوں نے وہ بکریاں برابر برابر تقسیم کردیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20631]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
863. حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20632
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ أَوْ سُلَيْمٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَيُّكُمْ النَّبِيُّ؟ قَالَ: فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ أَوْمَأَ إِلَى نَفْسِهِ، وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ أَشَارَ إِلَيْهِ الْقَوْمُ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ مُحْتَبٍ بِبُرْدَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجْفُو عَنْ أَشْيَاءَ، فَعَلِّمْنِي، قَالَ: " اتَّقِ اللَّهَ، وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِيَّاكَ وَالْمَخِيلَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِأَمْرٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ، فَلَا تُعَيِّرْهُ بِأَمْرٍ تَعْلَمُهُ فِيهِ، فَيَكُونَ لَكَ أَجْرُهُ وَعَلَيْهِ إِثْمُهُ، وَلَا تَشْتُمَنَّ أَحَدًا" .
حضرت جابر بن سلیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف خود اشارہ کیا یا لوگوں نے اشارے سے بتایا اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کے ساتھ احتباء کیا ہوا تھا جس کا پھندنا (کونا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آگیا تھا میں نے عرض کی یارسول اللہ میں کچھ چیزوں کے متعلق آپ سے سوال کرتا ہوں اور چونکہ میں دیہاتی ہوں اس لئے سوال میں تلخی ہوسکتی ہے آپ مجھے تعلیم دیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور کسی نیکی کو حقیر مت سمجھو اگرچہ وہ نیکی اپنے ڈول میں سے کسی پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی کے قطرے ٹپکانا ہی ہو تکبر سے بچو کیونکہ تکبر اللہ کو پسند نہیں ہے اور اگر تمہیں کوئی شخص گالی دے یا کسی ایسی بات کا طعنہ دے جس کا اسے تمہارے متعلق علم ہو تو تم اسے کسی ایسی بات کا طعنہ نہ دو جو تمہیں اسکے متعلق معلوم ہو کہ یہ چیز تمہارے لئے باعث ثواب اور اس کے لئے باعث وبال بن جائے گی اور کسی کو گالی مت دو (اس کے بعد میں نے کسی انسان کو بکری کو اور اونٹ تک کو گالی نہیں دی) [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20632]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبد ربه، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں