🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
854. حَدِيثُ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20593
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْفَرَزْدَقِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ" فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 7 - 7"، قَالَ: حَسْبِي لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَهَا ..
حضرت صعصعہ جو فرزدق کے چچا تھے کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی جو ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے گا وہ اسے اپنے دیکھ لے گا اور جو ایک ذرہ کے برابر برائی کرے گا وہ اسے بھی دیکھ لے گا تو کہنے لگا کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے اگر میں اس کے علاوہ کچھ بھی نہ سنو تب بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20593]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20594
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَال: َحَدَّثَنَا صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَمُّ الْفَرَزْدَقِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20594]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20595
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ: قَدِمَ عَمُّ الْفَرَزْدَقِ صَعْصَعَةُ الْمَدِينَةَ، لَمَّا سَمِعَ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 5 - 7، قَالَ: حَسْبِي لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَ هَذَا .
حضرت صعصعہ جو فرزدق کے چچا تھے کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی جو ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے گا وہ اسے اپنے سامنے دیکھ لے گا اور جو ایک ذرہ کے برابر برائی کرے گا وہ اس بھی دیکھ لے گا تو کہنے لگا کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے اگر میں اس کے علاوہ کچھ بھی نہ سنوں تب بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20595]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، والحسن البصري قد صرح فى الحديث السابق بأنه سمعه من صعصعة نفسه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
855. حَدِيثُ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20596
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى كُتِبْتَ نَبِيًّا؟ قَالَ: " وآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ" .
حضرت میسرہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یارسول اللہ آپ کب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ حضرت آدم ابھی روح اور جسم کے درمیان میں ہی تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20596]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
856. حَدِيثُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20597
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ قَالَ: " مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ" .
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گزر حضرت موسیٰ پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20597]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
857. حَدِيثُ أَعْرَابِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20598
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنِي بِسْطَامُ ، عَنْ أَعْرَابِيٍّ تَضَيَّفَهُمْ ،" أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ" .
بسطام کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے ان کی دعوت کی اور بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختتام نماز پر دو مرتبہ سلام پھیرا تھا (ایک مرتبہ دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب) [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20598]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة بسطام
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20599
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا بِسْطَامُ الْكُوفِيُّ ، قَالَ: تَضَيَّفَنَا أَعْرَابِيٌّ، فَحَدَّثَ الْأَعْرَابِيُّ ، عَنِ أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ، عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ" .
بسطام کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے ان کی دعوت کی اور بتایا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اختتام نماز پر دو مرتبہ سلام پھیرا تھا (ایک مرتبہ دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب) [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20599]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة بسطام والأعرابي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
858. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20600
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ"، قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِأُمِّ الْكِتَابِ"، أَوْ قَالَ:" فَاتِحَةِ الْكِتَابِ" .
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو؟ تو صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ واقعی ہم ایسا کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرنا الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہئے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20600]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
859. حَدِيثُ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20601
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، قَالَ: حُمِّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فِيهَا، فَقَالَ:" أَقِمْ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَإِمَّا أَنْ نَحْمِلَهَا، وَإِمَّا أَنْ نُعِينَكَ فِيهَا"، وَقَالَ:" إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ لِرَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةَ قَوْمٍ، فَيَسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَيَسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُصِيبَ قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ، يَا قَبِيصَةُ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ سُحْتًا" .
حضرت قبیصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے کسی شخص کا قرض ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی اور اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تمہاری طرف سے یہ قرض ادا کریں گے اور صدقہ کے جانوروں سے اتنی مقدار نکال لیں گے۔ پھر فرمایا قبیصہ! سوائے تین صورتوں کے کسی صورت میں مانگنا جائز نہیں ایک تو وہ شخص جو کسی کے قرض کا ضامن ہوجائے اس کے لئے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اس کا قرض ادا کردے اور پھر مانگنے سے باز آجائے دوسرا وہ آدمی جو اتنا ضرورت مند اور فاقہ کا شکار ہو کہ اس کی قوم کے تین قابل اعتماد آدمی اس کی ضرورت مندی یا فاقہ مستی کی گواہی دیں تو اس کے لئے بھی مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اسے زندگی کا کوئی سہارا مل جائے تو وہ مانگنے سے باز آجائے اور تیسرا وہ آدمی جس پر کوئی ناگہانی آفت آجائے اور اس کا سارا مال تباہ برباد ہوجائے تو اس کے لئے بھی مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اسے زندگی کا کوئی سہارا مل جائے تو وہ مانگنے سے باز آجائے اس کے علاوہ کسی بھی صورت میں سوال کرنا حرام ہے اے قبیصہ پھر مانگنے والا حرام کھائے گا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20601]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20602
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" يَا قَبِيصَةُ، مَا جَاءَ بِكَ؟" قُلْتُ: كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي، فَأَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مَا يَنْفَعُنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ، قَالَ:" يَا قَبِيصَةُ، مَا مَرَرْتَ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ وَلَا مَدَرٍ، إِلَّا اسْتَغْفَرَ لَكَ، يَا قَبِيصَةُ، إِذَا صَلَّيْتَ الْفَجْرَ، فَقُلْ ثَلَاثًا: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، تُعَافَى مِنَ الْعَمَى وَالْجُذَامِ وَالْفَالِجِ، يَا قَبِيصَةُ، قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِمَّا عِنْدَكَ، وَأَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ، وَانْشُرْ عَلَيَّ رَحْمَتَكَ، وَأَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ" .
حضرت قبیصہ بن مخارق سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا قبیصہ کیسے آنا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں میں آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی بات سکھا دیجئے جس سے اللہ مجھے نفع پہنچائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قبیصہ تم جس پتھر یا درخت یا مٹی پر سے گزر کر آئے ہو ان سب نے تمہارے لئے استغفار کیا اے قبیصہ جب تم فجر کی نماز پڑھا کرو تو تین مرتبہ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہہ لیا کرو تم نابینا پن اور جذام اور فالج کی بیماریوں سے محفوظ ہوگے اور قبیصہ یہ دعا کیا کرو کہ اے اللہ میں تجھ سے اس چیز کا سوال کرتا ہوں جو تیرے پاس ہے مجھ پر اپنے فضل کا فیضان فرما مجھ پر اپنی رحمت کو وسیع فرما اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20602]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإبهام الراوي عن قبيصة بن المخارق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں