🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1022. حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22544
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22544]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22545
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ السَّلَمِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ، فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیع وشراء میں زیادہ قسمیں کھانے سے بچا کرو کیونکہ اس سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن اس کی برکت ختم ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22545]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1607، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22546
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا، تَعْطَشُوا" , وَانْطَلَقَ سَرَعَانُ النَّاسِ يُرِيدُونَ الْمَاءَ، وَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَالَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ، فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَمْتُهُ، فَادَّعَمَ، ثُمَّ مَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَنْجَفِلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَدَعَمْتُهُ، فَانْتَبَهَ، فَقَالَ:" مَنْ الرَّجُلُ؟" قُلْتُ: أَبُو قَتَادَةَ , قَالَ: مُذْ كَمْ كَانَ مَسِيرُكَ؟ قُلْتُ: مُنْذُ اللَّيْلَةِ , قَالَ:" حَفِظَكَ اللَّهُ كَمَا حَفِظْتَ رَسُولَهُ"، ثُمَّ قَالَ: لَوْ عَرَّسْنَا فَمَالَ إِلَى شَجَرَةٍ، فَنَزَلَ، فَقَالَ: انْظُرْ هَلْ تَرَى أَحَدًا؟ قُلْتُ: هَذَا رَاكِبٌ، هَذَانِ رَاكِبَانِ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةً، فَقَالَ:" احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا" فَنِمْنَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَانْتَبَهْنَا، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَ، وَسِرْنَا هُنَيْهَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالَ:" أَمَعَكُمْ مَاءٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، مَعِي مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، قَالَ:" ائْتِ بِهَا" , فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ:" مَسُّوا مِنْهَا، مَسُّوا مِنْهَا" , فَتَوَضَّأَ الْقَوْمُ، وَبَقِيَتْ جَرْعَةٌ، فَقَالَ:" ازْدَهِرْ بِهَا يَا أَبَا قَتَادَةَ، فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ" , ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، وَصَلَّوْا الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، ثُمَّ صَلَّوْا الْفَجْرَ، ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْنَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَقُولُونَ إِنْ كَانَ أَمْرَ دُنْيَاكُمْ، فَشَأْنُكُمْ، وَإِنْ كَانَ أَمْرَ دِينِكُمْ، فَإِلَيَّ" , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَّطْنَا فِي صَلَاتِنَا , فَقَالَ:" لَا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَصَلُّوهَا، وَمِنْ الْغَدِ وَقْتَهَا" , ثُمَّ قَالَ:" ظُنُّوا بِالْقَوْمِ" , قَالُوا: إِنَّكَ قُلْتَ بِالْأَمْسِ:" إِنْ لَا تُدْرِكُوا الْمَاءَ غَدًا، تَعْطَشُوا" , فَالنَّاسُ بِالْمَاءِ , فَقَالَ:" أَصْبَحَ النَّاسُ وَقَدْ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ، فَقَالَا: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَسْبِقَكُمْ إِلَى الْمَاءِ وَيُخَلِّفَكُمْ وَإِنْ يُطِعْ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، يَرْشُدُوا" , قَالَهَا ثَلَاثًا , فَلَمَّا اشْتَدَّتْ الظَّهِيرَةُ، رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا عَطَشًا، تَقَطَّعَتْ الْأَعْنَاقُ، فَقَالَ:" لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ"، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا قَتَادَةَ، ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: احْلِلْ لِي غُمَرِي يَعْنِي: قَدَحَهُ فَحَلَلْتُهُ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ، وَيَسْقِي النَّاسَ، فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَحْسِنُوا الْمَلَأَ، فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رِيٍّ" , فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَبَّ لِي، فَقَالَ: اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ" , قَالَ: قُلْتُ: اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ" , فَشَرِبْتُ، وَشَرِبَ بَعْدِي، وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا، وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، فَقَالَ: مَنْ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ , قَالَ الْقَوْمُ أَعْلَمُ بِحَدِيثِهِمْ، انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي أَحَدُ السَّبْعَةِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَلَمَّا فَرَغْتُ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ أَحَدًا يَحْفَظُ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرِي..
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چنانچہ جلد باز لوگ پانی کی تلاش میں نکل گئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہا اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونگنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے جھکے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگائے بغیر سہارا دے دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر اپنی سواری پر جھکے تو میں نے آپ کو جگائے بغیر سیدھا کیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہوگئے پھر پہلے سے بھی زیادہ جھکے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ گرپڑیں میں پھر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابو قتادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کب سے اس طرح میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں ساری رات سے اسی طرح آپ کے ساتھ چل رہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے جس طرح تم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ ہمیں پڑاؤ کرلینا چاہئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کے قریب پہنچ کر منزل کی پھر فرمایا تم کسی کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا یہ ایک سوار ہے یہاں تک کہ سات سوار جمع ہوگئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہماری نماز کا خیال رکھنا چنانچہ ہم لوگ سو گئے اور سورج کی تمازت نے ہی ہمیں جگایا ہم بیدار ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر وہاں سے چل دیئے ہم بھی آہستہ آہستہ چل پڑے، ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور فرمایا کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! میرے وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لے آؤ میں وہ پانی لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے وضو کرو۔ چنانچہ سب لوگوں نے وضو کیا اور اس میں سے کچھ پانی بچ گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس وضو کے پانی کے برتن کی حفاظت کرو کیونکہ اس سے عنقریب ایک عجیب خبر ظاہر ہوگی پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعتیں پڑھیں (سنت) پھر صبح کی نماز پڑھی (اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے ہم میں سے ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ ہماری اس غلطی کا کفارہ کیا ہوگا جو ہم نے نماز میں کی کہ ہم بیدار نہیں ہوئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے ہو؟ اگر کوئی دنیوی بات ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کوئی دینی مسئلہ ہے تو مجھے بھی بتاؤ، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم سے نماز میں تفریط ہوگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونے میں کوئی تفریط نہیں بلکہ تفریط تو جاگنے میں ہوتی ہے۔ اگر کسی سے اس طرح ہوجائے تو اسے چاہیے کہ جس وقت بھی وہ بیدار ہوجائے نماز پڑھ لے اور جب اگلا دن آجائے تو وہ نماز اس کے وقت پر پڑھے پھر فرمایا تمہارا کیا خیال ہے کہ دوسرے لوگوں نے کیا کیا ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا کہ کل آپ نے خود ہی فرمایا تھا کہ اگر تم کل پانی تک نہ پہنچے تو پیاسے رہ جاؤ گے چنانچہ لوگ پانی کی تلاش میں ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا لوگوں میں موجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پیچھے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں پیچھے چھوڑ جائیں اور خود پانی کی طرف سبقت لے جائیں اگر وہ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات مان لیں گے تو وہ ہدایت پاجائیں تین مرتبہ فرمایا پھر ہم لوگوں کی طرف اس وقت پہنچے جس وقت دن چڑھ چکا تھا اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا لوگ کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تو پیاس نے ہلاک کردیا اور گردنیں ٹوٹنے لگیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہلاک نہیں ہوئے پھر فرمایا اے ابو قتادہ میرا چھوٹا پیالہ لاؤ میں وہ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ف [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22546]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 683
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22546M
قَالَ حَمَّادٌ : وَحَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ، وَزَادَ: قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا عَرَّسَ وَعَلَيْهِ لَيْلٌ، تَوَسَّدَ يَمِينَهُ، وَإِذَا عَرَّسَ الصُّبْحَ، وَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ الْيُمْنَى، وَأَقَامَ سَاعِدَهُ"..

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 683
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22547
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ..

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 681
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22548
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 681
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22549
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي قَتَادَةَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا،" فَرَأَى كَوْكَبًا انْقَضَّ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا أَنْ نُتْبِعَهُ أَبْصَارَنَا" .
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ اپنے گھر کی چھت پر حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے اسی دوران ایک ستارہ ٹوٹا لوگ اسے دیکھنے لگے تو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں اس کے پیچھے اپنی نگاہوں کو دوڑانے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22549]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22550
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، فَقَالَ: " فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ" .
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے حوالے سے پوچھا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اس دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22550]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22551
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ , قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُهُ قَدْ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ، وَقَالَ: " عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ، فجَعْفَرٌ، فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ، فعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ" , فَوَثَبَ جَعْفَرٌ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَأُمِّي، مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا، قَالَ:" امْضُوا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ" , قَالَ: فَانْطَلَقَ الْجَيْشُ فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ , وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَابَ خَبْرٌ أَوْ ثَابَ خَبْرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ , أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي، إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا الْعَدُوَّ، فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ" , فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ ," ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا، أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى أُصِيبَ شَهِيدًا، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ، ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأُمَرَاءِ، هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ" , فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ، فَانْصُرْهُ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَرَّةً فَانْتَصِرْ بِهِ" , فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ" , فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا .
خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں عبداللہ بن رباح آئے میں نے دیکھا کہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " جیش امراء " نامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا تمہارے امیر زید بن حارثہ ہیں اگر زید شہید ہوجائیں تو جعفرامیرہوں گے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری امیر ہوں گے اس پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرا خیال نہیں تھا کہ آپ زید کو مجھ پر امیر مقرر کریں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہوجاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس بات میں خیر ہے؟ چنانچہ وہ لشکر روانہ ہوگیا کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور " نماز تیار ہے " کی منادی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ایک افسوس ناک خبر ہے کیا میں تمہیں مجاہدین کے اس لشکر کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو زید شہید ہوگئے ان کے لئے بخشش کی دعاء کرو لوگوں نے ایسا ہی کیا پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا پکڑا اور دشمن پر سخت حملہ کیا حتٰی کہ وہ بھی شہید ہوگئے میں ان کی شہادت کی گواہی دیتا ہوں لہٰذا ان کی بخشش کے لئے دعاء کرو پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا پکڑا اور نہایت پامردی سے ڈٹے رہے حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہوگئے ان کے لئے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا پکڑ لیا گو کہ کسی نے انہیں امیر منتخب نہیں کیا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی بلند کر کے فرمایا اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما اسی دن سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا نام " سیف اللہ " پڑگیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے کوچ کرو اور کوئی آدمی بھی پیچھے نہ رہے چنانچہ اس سخت گرمی کے موسم میں لوگ پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22551]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22552
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ" .
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اللہ ہی زمانے کا خالق ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22552]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں