مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1031. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22922
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا ابنُ أَخِي ابنِ شِهَاب ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبرَنِي عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ هُرْمُزَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ ابنِ بحَيْنَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِي آنِفًا؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ!" ، فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَهُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ.
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کیا ابھی نماز میں تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرأت کی تھی؟ لوگوں نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ہی تو میں کہوں کہ مجھ سے جھگڑا کیوں ہو رہا ہے؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں قرأت کرنے سے باز آگئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22922]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لكن من حديث الزهري، عن ابن أكيمة، عن أبى هريرة. واخطافيه ابن اخي ابن شهاب، فجعله من مسند ابن بحينة
حدیث نمبر: 22923
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بنُ الْحَارِثِ ، عَنْ جَعْفَرِ بنِ رَبيعَةَ ، عَنْ ابنِ هُرْمُزَ ، عَنِ ابنِ بحَيْنَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا " سَجَدَ تَجْنَحُ فِي سُجُودِهِ حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبطَيْه" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو اپنے بازوؤں کو اتنا کشادہ رکھتے تھے کہ مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آیا کرتی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22923]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3564، م: 495، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22924
حَدَّثَنَا أَبو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ بلَالٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ أَبي عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبدَ اللَّهِ بنَ بحَيْنَةَ ، يَقُولُ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حالت احرام میں مکہ مکرمہ کے ایک راستے میں ایک اونٹ کی ہڈی سے اپنے سر کے درمیان میں سینگی لگوائی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22924]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1836، م: 1203
حدیث نمبر: 22925
حَدَّثَنَا قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بكْرُ بنُ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرِ بنِ رَبيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَالِكِ ابنِ بحَيْنَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا " صَلَّى فَرَّجَ بيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبدُوَ بيَاضُ إِبطَيْه" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو اپنے بازوؤں کو اتنا کشادہ رکھتے تھے کہ مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آیا کرتی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22925]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3564، م: 495
حدیث نمبر: 22926
حَدَّثَنَا يَعْقُوب ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ أَبيهِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَالِكِ ابنِ بحَيْنَةَ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ برَجُلٍ، وَقَدْ أُقِيمَ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبلَ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا أَحَطْنَا بهِ نَقُولُ: مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: قَالَ لِي: " يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبحَ أَرْبعًا!" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کی دو سنتیں اس وقت پڑھتے ہوئے دیکھا جب کہ نماز کھڑی ہوچکی تھی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں نے اسے گھیر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا فجر کی چار رکعتیں ہوتی ہیں؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22926]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 663، م:711
حدیث نمبر: 22927
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ ثَوْبانَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَالِكِ ابنِ بحَيْنَةَ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بهِ وَهُوَ يُصَلِّي يُطَوِّلُ صَلَاتَهُ، أَوْ نَحْوَ هَذَا بيْنَ يَدَيْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَجْعَلُوا هَذِهِ مِثْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ قَبلَهَا وَبعْدَهَا، اجْعَلُوا بيْنَهُمَا فَصْلًا" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کی دو سنتیں اس وقت پڑھتے ہوئے دیکھا جب کہ نماز کھڑی ہوچکی تھی نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی اس نماز کو ظہر کی نماز جیسا نہ بناؤ کہ پہلے اور بعد کی رکعتوں کو ملا دو بلکہ ان دونوں کے درمیان فصل کیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22927]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 663، م:711
حدیث نمبر: 22928
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، وَحَجَّاجٌ , أَخْبرَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ إِبرَاهِيمَ ، عَنْ حَفْصِ بنِ عَاصِمٍ , وغَيْرِهِ , قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بنَ عَاصِمِ بنِ عُمَرَ بنِ الْخَطَّاب، عَنْ مَالِكِ ابنِ بحَيْنَةَ , أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم صلاته لَاثَ بهِ النَّاسُ، فَقَالَ: " آلصُّبحُ أَرْبعًا؟!" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کی دو سنتیں اس وقت پڑھتے ہوئے دیکھا جب کہ نماز کھڑی ہوچکی تھی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں نے اسے گھیر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا فجر کی چار رکعتیں ہوتی ہیں؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22928]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 663، م:711
حدیث نمبر: 22929
قَرَأْتُ عَلَى عَبدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، عَنِ ابنِ شِهَاب ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ ابنِ بحَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ، كَبرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعت پڑھا کر بیٹھنا بھول گئے اور سیدھے کھڑے ہوگئے پھر جب اختتام نماز کے قریب پہنچے تو سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر کر نماز کو مکمل کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22929]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1224، م: 570
حدیث نمبر: 22930
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، وَابنُ بكْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي ابنُ شِهَاب ، أَنَّ عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ أَخْبرَهُ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ ابنِ بحَيْنَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَخْبرَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى لَهُمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يَقْعُدْ فِيهِمَا، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، فَكَبرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ سَلَّمَ" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعت پڑھا کر بیٹھنا بھول گئے اور سیدھے کھڑے ہوگئے پھر جب اختتام نماز کے قریب پہنچے تو سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر کر نماز کو مکمل کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22930]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 829، م: 570
حدیث نمبر: 22931
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، وَابنُ بكْرٍ , قَالَا: أخبرنا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي ابنُ شِهَاب أَيْضًا، عَنِ ابنِ بحَيْنَةَ الْأَسَدِيِّ ، وَقَالَ ابنُ بكْرٍ الْأَزْدِيِّ حَلِيفِ بنِي عَبدِ الْمُطَّلِب , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ فِي الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبلَ أَنْ يُسَلِّمَ، يُكَبرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ، وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ، مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعت پڑھا کر بیٹھنا بھول گئے اور سیدھے کھڑے ہوگئے پھر جب اختتام نماز کے قریب پہنچے تو سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر کر نماز کو مکمل کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22931]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 829، م: 570، لم تذكر وأسطة عبدالرحمن بن هرمز الأعرج بين الزهري وابن بحينة