مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1031. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22932
حَدَّثَنَا إِبرَاهِيمُ بنُ أَبي الْعَباسِ ، حَدَّثَنَا أَبو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عَبدَ الرَّحْمَنِ بنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ مَوْلَى رَبيعَةَ بنِ الْحَارِثِ بنِ عَبدِ الْمُطَّلِب أَخْبرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبدَ اللَّهِ ابنَ بحَيْنَةَ الْأَزْدِيَّ أَزْدَ شَنُوءَةَ وَهُوَ حَلِيفُ بنِي عَبدِ الْمُطَّلِب، قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ بعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعت پڑھا کر بیٹھنا بھول گئے اور سیدھے کھڑے ہوگئے پھر جب اختتام نماز کے قریب پہنچے تو سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر کر نماز کو مکمل کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22932]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 829، م: 570، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى أويس
حدیث نمبر: 22933
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ ابنِ بحَيْنَةَ ، قَالَ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ، فَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَال: سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبلَ أَنْ يُسَلِّمَ" .
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعت پڑھا کر بیٹھنا بھول گئے اور سیدھے کھڑے ہوگئے پھر جب اختتام نماز کے قریب پہنچے تو سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر کر نماز کو مکمل کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22933]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 829، م: 570
حدیث نمبر: 22934
قَالَ عَبد اللَّهِ: وَجَدْتُ فِي كِتَاب أَبي بخَطِّ يَدِهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ بكْرٍ ، أَخْبرَنَا ابنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبرَنِي جَعْفَرُ بنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَالِكِ ابنِ بحَيْنَةَ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبحِ وَابنُ الْقِشْب يُصَلِّي، فَضَرَب النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبهُ، وَقَالَ:" يَا ابنَ الْقِشْب، تُصَلِّي الصُّبحَ أَرْبعًا، أَوْ مَرَّتَيْنِ؟!" . ابنُ جُرَيْجٍ يَشُكُّ.
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فجر کی دو سنتیں اس وقت پڑھتے ہوئے دیکھا جب کہ نماز کھڑی ہوچکی تھی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں نے اسے گھیر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا فجر کی چار رکعتیں ہوتی ہیں؟ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22934]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 663، م: 711
1032. حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22935
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بنُ بدْرٍ، وَالْأَقْرَعُ بنُ حَابسٍ، وَعَلْقَمَةُ بنُ عُلَاثَةَ، فَذَكَرُوا الْجُدُودَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتُمْ أَخْبرْتُكُمْ، جَدُّ بنِي عَامِرٍ جَمَلٌ أَحْمَرُ أَوْ آدَمُ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ، قَالَ وَأَحْسِبهُ قَالَ: فِي رَوْضَةٍ، وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشَّاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا"، قَالَ: فَقَالَ الْأَقْرَعُ بنُ حَابسٍ: فَأَيْنَ جَدُّ بنِي تَمِيمٍ؟ قَالَ:" لَوْ سَكَتَ" .
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عیینہ بن بدر اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ جمع تھے یہ لوگ دادوں کا تذکرہ کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ خاموشی اختیار کرو تو میں تمہیں ان کی حقیقت بتاتا ہوں بنو عامر کا جد امجد تو اس سرخ یا گندمی اونٹ کی طرح ہے جو کسی باغ میں مختلف درختوں کے پتے کھا رہا ہو بنو غطفان کا جد امجد اس کھر درے ٹیلے کی طرح ہے جو لوگوں کو اپنے سے دور رکھتا ہے اس پر اقرع بن حابس نے کہا کہ بنو تمیم کا جد امجد کہاں گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش! تم خاموش رہ سکتے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22935]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22936
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ ، أَخْبرَنَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءٍ وَمَعَهُ أَبو بكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَتَحَرَّكَ الْجَبلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْبتْ حِرَاءُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حراء پہاڑ لرزنے لگا جس پر اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان غنی رضی اللہ عنہ موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حراء تھم جا تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہیدوں کے علاوہ کوئی نہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22936]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 22937
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابنَ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْعَهْدُ الَّذِي بيْنَنَا وَبيْنَهُمْ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے لہٰذا جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22937]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 22938
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ وَاصِلِ بنِ حِيانَ الْبجَلِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " الْكَمْأَةُ دَوَاءُ الْعَيْنِ، وَإِنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْحَبةَ السَّوْدَاءَ، قَالَ ابنُ برَيْدَةَ: يَعْنِي الشُّونِيزَ الَّذِي يَكُونُ فِي الْمِلْحِ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا الْمَوْتَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھنبی آنکھوں کے لئے علاج ہے عجوہ جنت کا میوہ ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ہو موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22938]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، واصل بن حيان غلط فى اسمه زهير، والصواب: صالح بن حيان، وهذا ضعيف
حدیث نمبر: 22939
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، أَنَّ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ: سَيِّدَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدَكُمْ، فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبكُمْ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا منافق کو اپنا آقا اور سردار مت کہا کرو کیونکہ اگر وہی تمہارا آقا ہو تو تم اپنے رب کو ناراض کرتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22939]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
حدیث نمبر: 22940
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبو سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، مِنْهُمْ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ" ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً:" أَنْتُمْ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا".
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہوں گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22940]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22941
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبي عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ، ثُمَّ أُتِينَا بالطَّعَامِ، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ أُتِينَا بالشَّرَاب، فَشَرِب مُعَاوِيَةُ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبي ، ثُمَّ قَالَ: " مَا شَرِبتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، ثم قَالَ مُعَاوِيَةُ: كُنْتُ أَجْمَلَ شَباب قُرَيْشٍ، وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا، وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَاب غَيْرُ اللَّبنِ، أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي.
حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے ہمیں بستر پر بٹھایا پھر کھانا پیش کیا جو ہم نے کھایا پھر پینے کی لئے (نبیذ) لائی گئی جسے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نوش فرمایا پھر میرے والد کو اس کا برتن پکڑا دیا تو وہ کہنے لگے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے میں نے اسے نہیں پیا پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں قریش کا خوبصورت ترین نوجوان تھا اور سب سے زیادہ عمدہ دانتوں والا تھا مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسانوں کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22941]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي