🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1032. حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22982
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِب الْخَيْلَ، فَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ؟ قَالَ: " إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، فَلَا تَشَاءُ أَنْ تَرْكَب فَرَسًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ تَطِيرُ بكَ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شِئْتَ، إِلَّا رَكِبتَ"، وَأَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي الْجَنَّةِ إِبلٌ؟ قَالَ:" يَا عَبدَ اللَّهِ، إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ، كَانَ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ، وَلَذَّتْ عَيْنُكَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے گھوڑوں سے بہت محبت ہے تو کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کردیا اور تمہاری یہ خواہش ہوئی کہ تم سرخ یاقوت کے ایک گھوڑے پر سوار ہو جنت میں جہاں چاہو گھومو تو وہ بھی تمہیں سواری کے لئے ملے گا پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا جنت میں اونٹ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ خدا! اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کردیا تو وہاں تمہیں ہر چیز ملے گی جس کی خواہش تمہارے دل میں پیدا ہوگی اور تمہاری آنکھوں کو اس سے لذت حاصل ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22982]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف من أجل اختلاط المسعودي، والاختلاف فى اسناده على علقمة بن مرثد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22983
حَدَّثَنَا أَبو عُبيْدَةَ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا ثَوَّاب بنُ عُتْبةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ:" كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِطْرِ لَا يَخْرُجُ حَتَّى يَطْعَمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ لَا يَطْعَمُ حَتَّى يَرْجِعَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے کچھ کھائے پئے بغیر نہیں نکلتے تھے اور عیدالاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہو کر آنے تک کچھ کھاتے پیتے نہ تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22983]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22984
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عُقْبةُ بنُ عَبدِ اللَّهِ الرِّفَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَأْكُلَ، وَلَا يَأْكُلُ يَوْمَ الْأَضْحَى حَتَّى يَرْجِعَ، فَيَأْكُلَ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے کچھ کھائے پئے بغیر نہیں نکلتے تھے اور عیدالاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہو کر آنے تک کچھ کھاتے پیتے نہ تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22984]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف من أجل عقبة بن عبدالله، فهو ضعيف، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22985
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بنُ هِشَامٍ ، وَأَبو أَحْمَدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابرِ، فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، إنا إن شاء الله بكم لاحقون، قَالَ مُعَاوِيَةُ فِي حَدِيثِهِ: أَنْتُمْ فَرَطُنَا، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبعٌ، وَنَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہا کریں کہ مؤمنین ومسلمین کی جماعت والو! تم پر سلامتی ہو ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آکرملنے والے ہیں تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں اور ہم اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22985]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 975
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22986
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبي برَيْدَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ شکم مادر میں کیا ہے؟ (خوش نصیب یا بدنصیب) کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف اور باخبر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22986]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22987
حَدَّثَنَا زَيْدٌ هُوَ ابنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: احْتَبسَ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: " مَا حَبسَكَ؟" , قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بيْتًا فِيهِ كَلْب .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے میں تاخیر کردی حاضر ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تاخیر کی وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22987]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22988
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَبي دَاوُدَ الْأَعْمَى ، عَنْ برَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ" .
حضرت بریدہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو سلام کیسے کریں یہ بتائیے کہ آپ پر درود کس طرح پڑھیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر اپنی عنایات ' رحمتوں اور برکتوں کا نزول فرما جیسا کہ آل ابراہیم علیہ السلام پر نازل فرمائیں بیشک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22988]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا من أجل أبى داود الأعمى، وهو متروك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22989
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعَ مِنْ بعْضِ مَغَازِيهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِب عِنْدَكَ بالدُّفِّ، قَالَ:" إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ، فَافْعَلِي، وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي، فَلَا تَفْعَلِي"، فَضَرَبتْ، فَدَخَلَ أَبو بكْرٍ وَهِيَ تَضْرِب، وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِب، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، قَالَ: فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، أَنَا جَالِسٌ وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ، فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت واپس لے آیا تو میں خوشی کے اظہار میں آپ کے پاس دف بجاؤں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے یہ منت مانی تھی تو اپنی منت پوری کرلو اور اگر نہیں مانی تھی تو نہ کرو چنانچہ وہ دف بجانے لگی اسی دوران حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آگئے اور وہ دف بجاتی رہی پھر کچھ اور لوگ آئے لیکن وہ بجاتی رہی تھوڑی دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو اس نے اپنا دف اپنے پیچھے چھپالیا اور اپناچہرہ ڈھانپ لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا عمر! شیطان تم سے ڈرتا ہے میں بھی یہاں بیٹھا تھا اور یہ لوگ بھی آئے تھے لیکن جب تم آئے تو اس نے وہ کیا جو اس نے کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22989]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22990
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحْسَاب أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبونَ إِلَيْهِ، هَذَا الْمَالُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل دنیا کا حسب نسب " جس کی طرف وہ مائل ہوتے ہیں " یہ مال و دولت ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22990]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22991
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي رَبيعَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ: " يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا علی! نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22991]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى ربيعة وشريك وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں