مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1032. حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23012
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ ، قَالَ: بعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعْثَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ، عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيُّ بنُ أَبي طَالِب، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ:" إِذَا الْتَقَيْتُمْ فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ، وَإِنْ افْتَرَقْتُمَا، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى جُنْدِهِ"، قَالَ: فَلَقِينَا بنِي زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَاقْتَتَلْنَا، فَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَقَتَلْنَا الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبيْنَا الذُّرِّيَّةَ، فَاصْطَفَى عَلِيٌّ امْرَأَةً مِنَ السَّبيِ لِنَفْسِهِ، قَالَ برَيْدَةُ: فَكَتَب مَعِي خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبرُهُ بذَلِكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَفَعْتُ الْكِتَاب، فَقُرِئَ عَلَيْهِ، فَرَأَيْتُ الْغَضَب فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ، بعَثْتَنِي مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرْتَنِي أَنْ أُطِيعَهُ، فَفَعَلْتُ مَا أُرْسِلْتُ بهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَعْ فِي عَلِيٍّ، فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بعْدِي، وَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بعْدِي" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دو دستے روانہ فرمائے جن میں سے ایک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کرتے ہوئے فرمایا جب تم لوگ اکٹھے ہو تو علی سب کے امیر ہوں گے اور جب جدا ہو تو ہر ایک اپنے دستے کا امیر ہوگا چناچہ ہماری ملاقات اہل یمن میں سے بنو زید سے ہوئی ہم نے ان سے قتال کیا تو مسلمان مشرکین پر غالب آگئے ہم نے لڑنے والوں کو قتل اور بچوں کو قید کرلیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک قیدی عورت اپنے لئے منتخب کرلی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خط لکھا جس میں انہیں اس سے مطلع کیا گیا تھا اور وہ خط مجھے دے کر بھیج دیا میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور خط پیش کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ خط پڑھ کر سنایا گیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر غصے کے آثار دیکھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں آپ نے مجھے ایک آدمی کے ساتھ بھیجا تھا اور مجھے اس کی اطاعت کا حکم دیا تھا میں نے اس پیغام پر عمل کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم علی کے متعلق کسی غلط فہمی میں نہ پڑنا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارا محبوب ہے (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23012]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بهذه السياقة من أجل أجلح الكندي
حدیث نمبر: 23013
حَدَّثَنَا أَبو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بنُ ثَعْلَبةَ الطَّائِيُّ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبحُ، أَوْ حِينَ يُمْسِي: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبوءُ بنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبوءُ بذَنْبي فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوب إِلَّا أَنْتَ، فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ، أَوْ مِنْ لَيْلَتِهِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص صبح شام کے وقت یوں کہہ لیا کرے کہ اے اللہ تو ہی میرا رب ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا میں تیرا بندہ ہوں اور جہاں تک ممکن ہو تجھ سے کئے گئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں میں اپنے گناہوں کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے اوپر تیرے احسانات کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہوں پس تو میرے گناہوں کو معاف فرما کیونکہ تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا اور اس دن یا رات کو مرگیا تو جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23013]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23014
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي رَبيعَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَمَرَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بحُب أَرْبعَةٍ مِنْ أَصْحَابي أَرَى شَرِيكًا، قَالَ: وَأَخْبرَنِي أَنَّهُ يُحِبهُمْ عَلِيٌّ مِنْهُمْ، وَأَبو ذَرٍّ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے چار لوگوں سے محبت کرنے کا مجھے حکم دیا ہے ان میں سے ایک تو علی ہیں دوسرے ابوذر غفاری تیسرے سلمان فارسی اور چوتھے مقداد بن اسود کندی ہیں۔ رضی اللہ عنہ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23014]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف من أجل أبى ربيعة و شريك
حدیث نمبر: 23015
حَدَّثَنَا يَعْقُوب بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلَمَةَ بنِ كُهَيْلٍ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ بنِ حُصَيْب ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا عِظَةً وَعِبرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبيذِ فِي هَذِهِ الْأَسْقِيَةِ، فَاشْرَبوا، وَلَا تَشْرَبوا حَرَامًا" .
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23015]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23016
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُحْبسَ فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ لِيُوسِعْ ذُو السَّعَةِ عَلَى مَنْ لَا سَعَةَ لَهُ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ أُذِنَ لَهُ فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّهِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ، وَإِنَّ الظُّرُوفَ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا وَلَا تُحِلُّهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23016]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ مؤمل، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23017
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوب بنُ جَابرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بوَدَّانَ، قَالَ:" مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ"، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ جَاءَنَا وَهُوَ سَقِيمٌ، فَقَالَ: " إِنِّي أَتَيْتُ قَبرَ أُمِّ مُحَمَّدٍ، فَسَأَلْتُ رَبي الشَّفَاعَةَ، فَمَنَعَنِيهَا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا بدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَشْرِبةِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبوا فِيمَا بدَا لَكُمْ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23017]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أيوب
حدیث نمبر: 23018
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، حَدَّثَنَا أَوْسُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، قَالَ: أَخْبرَنِي أَخِي سَهْلُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ برَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَتَكُونُ بعْدِي بعُوثٌ كَثِيرَةٌ، فَكُونُوا فِي بعْثِ خُرَاسَانَ، ثُمَّ انْزِلُوا مَدِينَةَ مَرْوَ، فَإِنَّهُ بنَاهَا ذُو الْقَرْنَيْنِ، وَدَعَا لَهَا بالْبرَكَةِ، وَلَا يَضُرُّ أَهْلَهَا سُوءٌ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے بعد بہت سے لشکر روانہ ہوں گے تم خراسان کی طرف جانے والے لشکر میں شامل ہوجانا اور " مرو " نامی شہر میں پڑاؤ ڈالنا کیونکہ اسے ذوالقرنین نے بنایا تھا اور اس میں برکت کی دعا کی تھی اس لئے وہاں رہنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23018]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
حدیث نمبر: 23019
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ مُوسَى ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ، فَلَيْسَ مِنَّا"، قَالَهَا ثَلَاثًا .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وتر کی نماز برحق ہے اور جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23019]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبيد الله بن عبدالله، والحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23020
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ أَعْيَنَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَرَضِيهِمْ، وَرَقِيقِهِمْ، وَمَاشِيَتِهِمْ، وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا الصَّدَقَةُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جن زمینوں، جانوروں اور غلاموں کی ملکیت پر وہ اسلام قبول کریں ان پر ان کی ملکیت برقرار رہے گی اور اس میں ان پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی چیز واجب نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23020]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 23021
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، وأبى ربيعة الإيادي , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23021]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى ربيعة وسوء حفظ شريك، لكنه متابع