🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1032. حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23022
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّه كَانَ بخُرَاسَانَ، فَعَادَ أَخًا لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَوَجَدَهُ بالْمَوْتِ وَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ جَبينُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبرُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بعَرَقِ الْجَبينِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23022]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23023
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ بحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ الْأَزْدِيُّ ، أَخْبرَنِي خَالِدُ بنُ عُبيْدٍ أَبو عِصَامٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: ذَهَب بي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَوْضِعٍ بالْبادِيَةِ قَرِيبا مِنْ مَكَّةَ، فَإِذَا أَرْضٌ يَابسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَخْرُجُ الدَّابةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ"، فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبرٍ .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مکہ مکرمہ کے قریب دیہات کے ایک مقام پر لے گئے جو ایک خشک زمین تھی اور اس کے گرد ریت تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دابۃ الارض کا خروج یہاں سے ہوگا وہ ایک بالشت چوڑی اور ایک انچ لمبی جگہ تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23023]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا من أجل خالد بن عبيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23024
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بعِثْتُ أَنَا فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ تَسْبقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ" ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً:" الْقَرْنُ الَّذِينَ بعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ".
عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چلا جا رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کرلیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23024]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن لكن قوله: ثم الذين يلونهم، فى المرة الرابعة والخامسة غير محفوظ، فقد تفرد به حماد بن سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23025
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَعِب بالنَّرْدَشِيرِ، فَكَأَنَّمَا يَغْمِسُ يَدَيْهِ فِي لَحْمِ الْخِنْزِيرِ وَدَمِهِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بارہ ٹانی کے ساتھ کھیلتا ہے وہ گویا اپنے ہاتھ خنزیر کے خون اور گوشت میں ڈبو دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23025]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2260
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23026
حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَهَّاب بنُ عَطَاءٍ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، أَنَّ أَبا مَلِيحٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ برَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، فَقَالَ: بكِّرُوا بالصَّلَاةِ، فَإِنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَدْ حَبطَ عَمَلُهُ" .
ابوملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے اس دن ابر چھایا ہوا تھا انہوں نے فرمایا جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23026]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 553
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23027
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، أَخْبرَنَا أَبو فُلَانَةَ ، قال عبد الله بن أحمد: كَذَا قَالَ أَبي، لَمْ يُسَمِّهِ عَلَى عَمْدٍ، وحَدَّثَنَاه غَيْرُهُ فَسَمَّاهُ يَعْنِي أَبا حُنَيْفَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَتَاهُ: " اذْهَب، فَإِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا جاؤ کہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23027]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23028
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ وَهُمْ يَتَنَاوَلُونَ مِنْ عَلِيٍّ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي نَفْسِي عَلَى عَلِيٍّ شَيْءٌ، وَكَانَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ كَذَلِكَ، فَبعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَأَصَبنَا سَبيًا، قَالَ: فَأَخَذَ عَلِيٌّ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ لِنَفْسِهِ، فَقَالَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ: دُونَكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ بمَا كَانَ، ثُمَّ قُلْتُ: إِنَّ عَلِيًّا أَخَذَ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ، قَالَ: وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبابا، قَالَ: فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَغَيَّرَ، فَقَالَ: " مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی ایسی مجلس سے گذرے جہاں پر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ باتیں کر رہے ہیں وہ ان کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ابتداء میں میرے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بوجھ تھا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بھی یہی صورت حال تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے ایک دستے کے ساتھ روانہ کردیا جس کے امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ہمیں وہاں قیدی ہاتھ لگے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک باندی اپنے لئے رکھ لی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ٹھہرو، پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں پیش آمدہ واقعہ بیان کرنے لگا اور کہا کہ علی نے خمس میں سے باندی لی ہے میں نے اس وقت سر جھکا رکھا تھا اچانک سر اٹھا کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ انور متغیر ہو رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23028]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23029
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ بوُضُوءٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ! قَالَ: " إِنِّي عَمْدًا فَعَلْتُ يَا عُمَرُ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23029]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 277
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23030
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بتَقْوَى اللَّهِ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: " اغْزُوا بسْمِ اللَّهِ، فِي سَبيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ باللَّهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابوكَ إِلَيْهَا، فَاقْبلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ: ادعهم إلى الإسلام، فإن أجابوك إليه فقبل منهم، وكف عنهم، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ هُمْ أَبوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا، فَأَخْبرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَاب الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبوْا، فَسَلْهُمْ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابوكَ، فَاقْبلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ هُمْ أَبوْا، فَاسْتَعِنْ باللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبيِّكَ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبيِّهِ، وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبيكَ وَذِمَمَ أَصْحَابكَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبائِكُمْ، أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيب حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ، أَمْ لَا" ، قَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ: هَذَا، أَوْ نَحْوَهُ.
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو کسی دستہ یا لشکر کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے خصوصیت کے ساتھ اس کے اپنے متعلق تقوی کی وصیت فرماتے اور اس کے ہمراہ مسلمانوں کے ساتھ بہترین سلوک کی تاکید فرماتے پھر فرماتے کہ اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کے ساتھ قتال کرو اور جب دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو تو اسے تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو وہ ان میں سے جس بات کو بھی قبول کرلیں تم اسے ان کی طرف سے تسلیم کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو سب سے پہلے اسلام کی دعوت ان کے سامنے پیش کرو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو تم بھی اسے قبول کرلو پھر انہیں اپنے علاقے سے دارالمہاجرین کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور وہی فرائض ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اگر وہ اس سے انکار کردیں اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی مانند شمار ہوں گے ان پر اللہ کے احکام تو ویسے ہی جاری ہوں گے جیسے تمام مسلمانوں پر ہوتے ہیں لیکن مال غنیمت میں مسلمانوں کے ہمراہ جہاد کئے بغیر ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا اگر وہ اس سے انکار کردیں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اسے تسلیم کرلیں تو تم اسے ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان سے اپنے ہاتھ روک لینا لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کردیں تو پھر اللہ سے مدد چاہتے ہوئے ان سے قتال کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23030]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1731
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23031
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ , الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبي عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ رَوْحٌ: الْكُرْدِيُّ , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحِصْنِ أَهْلِ خَيْبرَ، أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللِّوَاءَ عُمَرَ بنَ الْخَطَّاب، وَنَهَضَ مَعَهُ مَنْ نَهَضَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأُعْطِيَنَّ اللِّوَاءَ غَدًا رَجُلًا يُحِب اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ"، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، دَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَأَعْطَاهُ اللِّوَاءَ، وَنَهَضَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَقِيَ أَهْلَ خَيْبرَ، وَإِذَا مَرْحَب يَرْتَجِزُ بيْنَ أَيْدِيهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: لَقَدْ عَلِمَتْ خَيْبرُ أَنِّي مَرْحَب شَاكِي السِّلَاحِ بطَلٌ مُجَرَّب أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِب إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبلَتْ تَلَهَّب قَالَ: فَاخْتَلَفَ هُوَ وَعَلِيٌّ ضَرْبتَيْنِ، فَضَرَبهُ عَلَى هَامَتِهِ حَتَّى عَضَّ السَّيْفُ مِنْهَا بأَضْرَاسِهِ، وَسَمِعَ أَهْلُ الْعَسْكَرِ صَوْتَ ضَرْبتِهِ، قَالَ: وَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ مَعَ عَلِيٍّ حَتَّى فُتِحَ لَهُ وَلَهُمْ .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے خیبر کا محاصرہ کیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑا لیکن وہ مخصوص اور اہم قلعہ فتح کئے بغیر واپس آگئے اگلے دن پھر جھنڈا پکڑا اور روانہ ہوگئے لیکن آج بھی وہ قلعہ فتح نہ ہوسکا اور اس دن لوگوں کو خوب مشقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جسے اللہ اور اس کا رسول محبوب رکھتے ہوں گے اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور فتح حاصل کئے بغیر واپس نہ آئے گا۔ چنانچہ ساری رات ہم اس بات پر خوش ہوتے رہے کہ کل یہ قلعہ بھی فتح ہوجائے گا جب صبح ہوئی تو نماز فجر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور جھنڈا منگوایا لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا جنہیں آشوب چشم تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کردیا اور ان کے ہاتھوں وہ قلعہ فتح ہوگیا حالانکہ اس کی خواہش کرنے والوں میں میں بھی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جب اہل خیبر سے آمنا سامنا ہوا تو مرحب ان کے سامنے رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا آیا کہ سارا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ پہنے ہوئے بہادر اور تجربہ کار ہوں، کبھی نیزے سے لڑتا ہوں اور کبھی تلوار سے جب شیر دھاڑتے ہوئے سامنے آجائیں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اس کا مقابلہ ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کھوپڑی پر ایسی ضرب لگائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلوار اس کی ڈاڑھ کاٹتی ہوئی نکل گئی اور لشکر والوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ضرب کی آواز سنی بالآخر انہیں فتح نصیب ہوئی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23031]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ميمون أبى عبدالله الكندي، لكنه توبع، وقول روح فى نسبته: الكردي، خطأ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں