🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1032. حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23032
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عَطَاءٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ، فَمَاتَتْ أُمِّي وَبقِيَتْ الْجَارِيَةُ، فَقَالَ: " قَدْ وَجَب أَجْرُكِ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ"، قَالَتْ: فَإِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّي صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي لَمْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ:" حُجِّي عَنْ أُمِّكِ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت مل گئی اس نے کہا کہ میری والدہ حج کئے بغیر ہی فوت ہوگئی ہیں کیا میرا ان کی طرف سے حج کرنا ان کی لئے کفایت کرسکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! تم اپنی والدہ کی طرف سے حج کرلو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23032]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1149
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23033
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنِي مَالِكُ بنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَأَخَذَ بيَدِي، فَدَخَلْتُ مَعَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ وَيُصَلِّي، قَالَ: " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ" ، وَإِذَا هُوَ عَبدُ اللَّهِ بنُ قَيْسٍ أَبو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأُخْبرُهُ؟ قَالَ: فَأَخْبرْتُهُ، فَقَالَ: لَمْ تَزَلْ لِي صَدِيقًا.
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو میرا ہاتھ پکڑ لیا میں بھی ان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوگیا وہاں ایک آدمی قرآن پڑھ رہا تھا اور نماز پڑھ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو آل داؤد علیہ السلام کے خوبصورت لہجوں میں سے ایک لہجہ دیا گیا ہے دیکھا تو وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں انہیں یہ بات بتادوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتادو چناچہ میں نے انہیں بتادیا اور وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیشہ میرے دوست ہی رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23033]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23034
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ وَهُوَ أَبو تُمَيْلَةَ , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَب، فَقَالَ: " مَا لَكَ وَلِحُلِيِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" , قَالَ: فَجَاءَ وَقَدْ لَبسَ خَاتَمًا مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ:" أَجِدُ مِعكَ رِيحَ أَهْلِ الْأَصْنَامِ"، قَالَ: فَمِمَّ أَتَّخِذُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مِنْ فِضَّةٍ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس سے فرمایا کہ تم اہل جنت کا زیور دنیا میں کیوں پہنے ہو؟ اگلی مرتبہ وہ آیا تو اس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم سے بتوں کے بچاریوں جیسی بو آتی ہے " اس نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایا چاندی کی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23034]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: فجاء وقد لبس خاتما من صفر، فقال النبى ﷺ: "أجد معك ريح اهل الاصنام"، وهذا اسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل عبدالله بن مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23035
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ عَبدِ الْكَرِيمِ بنِ سُلَيْطٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: لَمَّا خَطَب عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَا بدَّ لِلْعُرْسِ مِنْ وَلِيمَةٍ" ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: عَلَيَّ كَبشٌ، وَقَالَ فُلَانٌ: عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ ذُرَةٍ.
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے اپنا پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شادی کا ولیمہ ہونا ضروری ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ذمے ایک مینڈھا ہے دوسرے نے کہا کہ میرے ذمے اتنا جو ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23035]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23036
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ سُوَيْدِ بنِ مَنْجُوفٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: بعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ لِيَقْسِمَ الْخُمُسَ، وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: لِيَقْبضَ الْخُمُسَ، قَالَ: فَأَصْبحَ عَلِيٌّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، قَالَ: فَقَالَ خَالِدٌ لِبرَيْدَةَ: أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ هَذَا لِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ؟! قَالَ: وَكُنْتُ أُبغِضُ عَلِيًّا، قَالَ: فَقَالَ:" يَا برَيْدَةُ، أَتُبغِضُ عَلِيًّا؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَلَا تُبغِضْهُ، قَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: فَأَحِبهُ، فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس خمس تقسیم کرنے کے لئے بھیج دیا۔۔۔۔۔۔ صبح ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بریدہ سے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہو کہ علی نے کیا کیا ہے؟ مجھے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس سے نفرت نہ کرو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ " وصیفہ " سے بھی افضل ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23036]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4350
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23037
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ بنِ شَقِيقٍ ، أَخْبرَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ بصَدَقَةٍ"، قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" النُّخَاعَةُ تَرَاهَا فِي الْمَسْجِدِ فَتَدْفِنُهَا، أَوْ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ، فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ، فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور اس پر ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا ضروری ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کی طاقت کس میں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر مسجد میں تھوک نظر آئے تو اس پر مٹی ڈال دو راستے میں تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو اگر یہ سب نہ کرسکو تو چاشت کے وقت دو رکعتیں تمہاری طرف سے کفایت کر جائیں گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23037]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23038
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبي جَنَاب ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَخَرَجَ يَمْشِي إِلَى الْقُبورِ حَتَّى إِذَا أَتَى إِلَى أَدْنَاهَا، جَلَسَ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ إِنْسَانًا جَالِسًا يَبكِي، قَالَ: فَاسْتَقْبلَهُ عُمَرُ بنُ الْخَطَّاب، فَقَالَ: مَا يُبكِيكَ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ؟ قَالَ: " سَأَلْتُ رَبي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ، فَأَذِنَ لِي، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي فَأَسْتَغْفِرُ لَهَا، فَأَبى، إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوا بعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا مَا بدَا لَكُمْ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَزُرْ، فَقَدْ أُذِنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ، وَعَنِ الظُّرُوفِ تَشْرَبونَ فِيهَا: الدُّباءَ، وَالْحَنْتَمَ، وَالْمُزَفَّتَ، وَأَمَرْتُكُمْ بظُرُوفٍ، وَإِنَّ الْوِعَاءَ لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ، فَاجْتَنِبوا كُلَّ مُسْكِرٍ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23038]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى جناب، فهو ضعيف، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23039
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حُمَيْدٍ أَبو سُفْيَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابرِ، يَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بكُمْ لَلَاحِقُونَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبعٌ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہا کریں کہ مؤمنین و مسلمین کی جماعت والو! تم پر سلامتی ہو ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آکر ملنے والے ہیں تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں اور ہم اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23039]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 975
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23040
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ وَهُوَ ابنُ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بلَالًا، فَقَالَ:" يَا بلَالُ، بمَ سَبقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ، إِنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ الْبارِحَةَ، فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مِنْ ذَهَب مُرَبعٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: فَأَنَا مُحَمَّدٌ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَب، قُلْتُ: أَنَا عَرَبيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قُلْتُ: فَأَنَا قُرَشِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لَعُمَرَ بنِ الْخَطَّاب"، فَقَالَ بلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بهَذَا" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے پوچھا بلال! تم جنت میں مجھ سے آگے کیسے تھے؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے سے تمہاری آہٹ سنی ابھی آج رات ہی میں جنت میں داخل ہوا تو تمہاری آہٹ پھر سنائی دی پھر میں سونے سے بنے ہوئے ایک بلند وبالا محل کے سامنے پہنچا اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ایک عربی آدمی کا ہے میں نے کہا کہ عربی تو میں بھی ہوں یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مسلمان آدمی کا ہے میں نے کہا کہ پھر میں تو خود محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! اگر مجھے تمہاری غیرت کا خیال نہ آتا تو میں اس محل میں ضرور داخل ہوتا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے سامنے غیرت دکھاؤں گا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم جنت میں مجھ سے آگے کیسے تھے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں جب بھی بےوضو ہوا تو وضو کر کے دو رکعتیں ضرور پڑھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی اس کا سبب ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23040]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23041
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ باسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بهِ أَجَاب" .
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ آدمی یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اکیلا ہے بےنیاز ہے اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23041]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں