مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1105. حَدِيثُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23742
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أخبرنا حُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَازِلًا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: فَلَطَمَ خَادِمًا، قَالَ: فَغَضِبَ سُوَيْدٌ ، فَقَالَ:" أَمَا وَجَدْتَ إِلَّا حُرَّ وَجْهِهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَنَحْنُ سَابِعُ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ، وَمَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدٌ عَمَدَ إِلَيْهِ وَاحِدٌ فَلَطَمَهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَجَعْنَا أَنْ نُعْتِقَهُ، فَأَعْتَقْنَاهُ" .
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مار دیا حضرت سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ مار دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کردیں بھائیوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس سے خدمت لیتے رہیں اور جب اس سے بےنیاز ہوجائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23742]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23743
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالًا ، رَجُلًا مِنْ بَنِي مَازِنٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذٍ فِي جَرَّةٍ فَسَأَلْتُهُ، فَنَهَانِي عَنْهَا فَكَسَرْتُهَا" .
حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹکے میں نبیذ لے کر آیا اور اس کے متعلق حکم دریافت کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرما دیا چناچہ میں نے وہ مٹکا پکڑا اور توڑ ڈالا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23743]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة هلال المازني
1106. حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23744
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ بَهْزٌ: قَالَ: أخبرنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ يَعْنِي: النُّعْمَانَ: وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ " إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ، أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ" .
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کیا۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر دن کے اول حصے میں قتال نہ کرتے تو اسے مؤخر کردیتے یہاں تک کہ زوال آفتاب ہوجاتا ہوائیں چلنے لگتیں اور نصرت الہٰیہ نازل ہوجاتی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23744]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3159، 3160
حدیث نمبر: 23745
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّ مَلَكًا بَيْنَكُمَا يَذُبُّ عَنْكَ كُلَّمَا يَشْتُمُكَ هَذَا، قَالَ لَهُ: بَلْ أَنْتَ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِذَا قَالَ لَهُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: لَا بَلْ لَكَ أَنْتَ، أنت أَحَقُّ بِهِ" .
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کے ساتھ تلخ کلامی کی وہ دوسرا آدمی " علیک السلام " ہی کہتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود ہے یہ شخص جب بھی تمہیں برا بھلا کہتا ہے تو وہ تمہارا دفاع کرتا ہے اور اسے جواب دیتا ہے کہ تم ہی ایسے ہو اور تم ہی اس کے زیادہ حقدار ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23745]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو خالد الوالبي روايته عن النعمان بن مقرن مرسلة
حدیث نمبر: 23746
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِ مِائَةٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُهُ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " زَوِّدْهُمْ"، فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا فَاضِلَةٌ مِنْ تَمْرٍ، وَمَا أُرَاهَا تُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ:" انْطَلِقْ فَزَوِّدْهُمْ"، فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى عُلِّيَّةٍ لَهُ، فَإِذَا فِيهَا تَمْرٌ مِثْلُ الْبَكْرِ الْأَوْرَقِ، فَقَالَ: خُذُوا، فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ، قَالَ: وَكُنْتُ أَنَا فِي آخِرِ الْقَوْمِ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَةٍ، وَقَدْ احْتَمَلَ مِنْهُ أَرْبَعُ مِائَةِ رَجُلٍ .
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مزینہ کے ہم چار سو افراد حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو احکام دینے تھے سو دے دیئے پھر کچھ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے جو ہم زاد راہ کے طور پر استعمال کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں زاد راہ دے دو انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو بچی کچھی تھوڑی سی کھجوریں ہیں اور میرا خیال نہیں ہے کہ وہ انہیں کچھ بھی کفایت کرسکیں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم جا کر انہیں وہی دے دو چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیں لے کر اپنے ایک بالا خانے کی طرف چل پڑے جہاں خاکستری اونٹ کی طرح کچھ کھجوریں پڑی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اٹھا لو چناچہ سب لوگ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھانے لگے میں سب سے آخر میں تھا میں نے دیکھا کہ اس میں سے ایک کھجور کی جگہ بھی خالی نہیں ہوئی تھی حالانکہ وہاں سے چار سو آدمیوں نے کھجوریں اٹھائی تھیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23746]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، سالم ابن أبى الجعد لم يدرك النعمان
1107. حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23747
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَمِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ، فَالْغَيْرَةُ فِي رِيبَةٍ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ، فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ أَنْ يَتَخَيَّلَ الْعَبْدُ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَأَنْ يَتَخَيَّلَ بِالصَّدَقَةِ" ..
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چناچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جو صرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23747]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره لجهالة حال ابن جابر بن عتيك
حدیث نمبر: 23748
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ:" الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الرَّجُلِ فِي الْقِتَالِ، وَاخْتِيَالُهُ فِي الصَّدَقَةِ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْبَغْيِ"، أَوْ قَالَ:" فِي الْفَخْرِ".
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چناچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جو صرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23748]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره لجهالة حال ابن جابر بن عتيك
حدیث نمبر: 23749
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ، قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لِي: هَلْ تَدْرِي أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِكُمْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي بِهِمْ، فَقُلْتُ: " دَعَا بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، وَلَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ، فَأُعْطِيَهُمَا، وَدَعَا بِأَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ، فَمَنَعَنِيهَا" ، قَالَ: صَدَقْتَ، فَلَا يَزَالُ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس بنو معاویہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے جو انصار کی ایک بستی ہے اور مجھ سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اس مسجد میں کہاں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا جی ہاں! اور مسجد کے ایک کونے کی طرف اشارہ کردیا پھر انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تین چیزوں کی دعا یہاں مانگی تھی وہ کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا بتاؤ وہ کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے اور انہیں قحط سالی سے ہلاک نہ کرے یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں۔ اور تیسری دعا یہ فرمائی کہ ان کی جنگ آپس میں نہ ہونے لگے لیکن اللہ نے یہ دعا قبول نہیں فرمائی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم نے صحیح بیان کیا قیامت تک اسی طرح قتل و غارت گری ہوتی رہے گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23749]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف فيه الرواة على مالك
حدیث نمبر: 23750
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَمِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الْعَبْدِ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ بِالصَّدَقَةِ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْفَخْرِ وَالْكِبْرِ" ، أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت جابربن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چناچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جو صرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23750]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره لجهالة حال ابن جابر بن عتيك
حدیث نمبر: 23751
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيِّتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ، فَقُلْتُ: أَتَبْكُونَ وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ عِنْدَهُنَّ، فَإِذَا وَجَبَتْ فَلَا يَبْكِينَ" ، فَقَالَ جَبْرٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ لِي: مَاذَا وَجَب؟ قلَت: إِذَا أُدْخِلَ قَبْرَهُ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ انصار کی ایک میت پر پہنچا اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے تھے میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو جب تک یہ ان کے پاس ہے یہ اس پر رو لیں گے اور جب اسے قبر میں دفن کردیا جائے گا تو پھر نہیں روئیں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23751]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، جابر بن عتيك هذا لم نتبينه