🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1107. حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23752
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ الَّتِي فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ فِي الْفَخْرِ وَالْبَغْيِ" .
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چناچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جو صرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو) [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23752]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره لجهالة حال جابر بن عتيك
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23753
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ ، فَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ لَمَّا مَاتَ، قَالَتْ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، أَمَا إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟" قَالُوا: قَتْلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی بیٹی کہنے لگی بخدا! مجھے امید ہے کہ آپ شہداء میں شامل ہوں گے کیونکہ آپ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی نیت کے مطابق ان کا اجر طے کردیا ہے تم لوگ " شہادت " کس چیز کو سمجھتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں چناچہ طاعون میں مرنے والا شہید ہے، سمندر میں غرق ہو کر مرنے والا شہید ہے ذات الجنب کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے آگ میں جل کر مرنے والا شہید ہے عمارت کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے اور حالت نفاس میں مرنے والا عورت شہید ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23753]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23754
حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ الْحَنَفِيُّ أَبُو مُرَّةَ ، حَدَّثَنَا نَفِيسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِي أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ: وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَإِنَّمَا كُنْتُ مَعَ أَبِي، قَالَ:" فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ الَّتِي سَمِعْتُمْ: الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ" .
حضرت عبداللہ بن جابر عبدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے وفد عبدالقیس میں میں بھی شامل تھا میرا تعلق اس قبیلے سے نہیں تھا بلکہ میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ آیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان برتنوں میں کچھ بھی پینے سے منع فرمایا تھا جن کے متعلق تم سن چکے ہو یعنی دباء " حنتم " نقیر اور مزفت۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23754]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة نفيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1108. حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23755
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ كَافِرٌ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ مِنْهُمَا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهِ" فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ، فَقَضَى لَهُ بِهِ .
حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدین ان کے متعلق اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میرے والدین میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے اللہ! اسے ہدایت عطا فرما اور مسلمان کی طرف متوجہ ہو کر میرے متعلق فیصلہ اس کے حق میں کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23755]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد وهم عثمان البتي، وقد خولف، وعبد الحميد بن سلمة وأبوه و جده لا يعرفون
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23756
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ أَبُو عَمْرٍو الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تُسْلِمْ جَدَّتُهُ، وَلَهُ مِنْهَا ابْنٌ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتُمَا خَيَّرْتُمَا الْغُلَامَ" قَالَ: وَأَجْلَسَ الْأَبَ فِي نَاحِيَةٍ، وَالْأُمَّ نَاحِيَةً، فَخَيَّرَهُ فَانْطَلَقَ نَحْوَ أُمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهِ"، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أَبِيهِ .
عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چناچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23756]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23757
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: ابْنَتِي، وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شَبَهُهُ، وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْعُدْ نَاحِيَةً" وَقَالَ لَهَا:" اقْعُدِي نَاحِيَةً" فَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ:" ادْعُوَاهَا" فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهَا" فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا، فَأَخَذَهَا .
عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چناچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23757]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح إن كان جعفر بن عبدالله والد عبدالحميد سمع من جد أبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23758
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَعَنْ فَرْشَةِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ مَقَامَهُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ" .
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے درندوں کی طرح اپنے بازو سجدے میں بچھانے سے اور نماز کے لئے ایک ہی جگہ متعین کرلینے سے منع فرمایا ہے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کرلیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23758]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وقد وهم عثمان فى تسمية والد عبد الحميد، والصواب أنه عبدالحميد بن جعفر بن عبدالله، و والد عبدالحميد لم يدرك رسول الله، وتميم بن محمود لين الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23759
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتْ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَجَاءَ بِابْنٍ لَهُ صَغِيرٍ لَمْ يَبْلُغْ، قَالَ: فَأَجْلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبَ هَاهُنَا، وَالْأُمَّ هَاهُنَا، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ اهْدِهِ" فَذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ .
عبدالحمید بن سلمہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا دور نبوت ہی میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن ان کی دادی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا دادا کا دادی سے ایک بیٹا تھا وہ دونوں اس کا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اگر مناسب سمجھو تو اپنے بیٹے کو اختیار دے دو (وہ جس کے پاس جانا چاہے چلاجائے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کونے میں باپ کو بٹھایا اور دوسرے کونے میں ماں کو اور بچے کو اختیار دے دیا وہ بچہ ماں کی طرف چلنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! اس بچے کو ہدایت عطا فرما چناچہ وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ آیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23759]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد وهم عثمان البتي، وقد خولف، وعبد الحميد بن سلمة وأبوه و جده لا يعرفون
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1109. حَدِيثُ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23760
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَلَاةُ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ؟! فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو نماز فجر کی بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا فجر کی نماز دو مرتبہ ہوتی ہے؟ اس شخص نے عرض کیا کہ میں فجر سے پہلے کی دو سنتیں نہیں پڑھ سکا تھا وہ میں نے اب پڑھی ہیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23760]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن لولا انقطاعه، محمد بن إبراهيم لم يسمع من قيس بن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23761
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَسَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ أَخَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ، فَوَجَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ، وَلَمْ يَكُنْ رَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ حِينَ فَرَغَ مِنَ الصُّبْحِ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟" فَأَخْبَرَهُ، فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَضَى وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو نماز فجر کی بعد دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کیا فجر کی نماز دو مرتبہ ہوتی ہے؟ اس شخص نے عرض کیا کہ میں فجر سے پہلے کی دو سنتیں نہیں پڑھ سکا تھا وہ میں نے اب پڑھی ہیں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23761]

الحكم على الحديث:
هذا حديث مرسل، وقوله فيه هنا : "عبدالله بن سعيد" خطأ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں