مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1103. حَدِيثُ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23702
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى الْقَارِئُ أَبُو عُمَرَ ، حَدَّثَنِي السَّدِيُّ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، قَالَ: فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا، حَدَّثَنِي بِهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُؤْمَنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ، فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ" .
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں ایک دن مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو بخدا! میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23702]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
1104. حَدِيثُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23703
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ: إِنِّي لَأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةِ!، قَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، " أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ" .
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23703]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 262
حدیث نمبر: 23704
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ، وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ" ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے ہدیہ قبول فرما لیتے تھے لیکن صدقہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23704]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبدالله
حدیث نمبر: 23705
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: إِنِّي لَأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كَيْفَ تَصْنَعُونَ؟ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ! قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَجَلْ، وَلَوْ سَخِرْتَ" إِنَّهُ لَيُعَلِّمُنَا كَيْفَ يَأْتِي أَحَدُنَا الْغَائِطَ، وَإِنَّهُ يَنْهَانَا أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَحَدُنَا الْقِبْلَةَ وَأَنْ يَسْتَدْبِرَهَا، وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، وَأَنْ يَتَمَسَّحَ أَحَدُنَا بِرَجِيعٍ وَلَا عَظْمٍ، وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ" .
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23705]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 262
حدیث نمبر: 23706
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ حُذَيْفَةُ إِلَى سَلْمَانَ، فَيَقُولُ سَلْمَانُ : يَا حُذَيْفَةُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ، وَيَرْضَى فَيَقُولُ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ، فَقَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً فِي غَضَبِي، أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
عمرو بن قرہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن شہر میں رہتے تھے اور کچھ باتیں ذکر کرتے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں ایک دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ حذیفہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات غصے میں کچھ باتیں کہتے تھے اور کچھ باتیں خوشی کی حالت میں کہتے تھے میں جانتا ہوں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں نے اپنے جس امتی کو غصے کی حالت میں سخت سست کہا ہو یا اسے لعنت ملامت کی ہو تو میں بھی اولاد آدم میں سے ہوں اور جس طرح عام لوگوں کو غصہ آتا ہے مجھے بھی آتا ہے اور اللہ نے مجھے رحمتہ للعالمین بنایا ہے اے اللہ! میرے ان کلمات کو قیامت کے دن اس شخص کے لئے باعث رحمت بنا دیجئے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23706]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح إن صح سماع عمرو بن أبى قرة من سلمان
حدیث نمبر: 23707
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا، فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا عُثْمَانَ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ فَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ، أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا؟" فَقُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَذَا الْوَرَقُ"، وَقَالَ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 .
ابوعثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا انہوں نے اس کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر اسے ہلایا تو اس کے پتے گرنے لگے پھر انہوں نے فرمایا کہ اے ابو عثمان! تم مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے کہا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا اور یہی سوال و جواب ہوئے تھے جس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب کوئی مسلمان خوب اچھی طرح وضو کرے اور پانچوں نمازیں پڑھے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑ رہے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ " واقم الصلاۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل ان الحسنات یذہبن السئیات ذلک ذکرٰی للذاکرین " [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23707]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 23708
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ: قَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمْ الْخِرَاءَةَ! قَالَ: أَجَلْ، إِنَّهُ يَنْهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ، أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ، وَيَنْهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ، وَقَالَ: " لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ" ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَكُمْ هَذَا كُلَّ شَيْءٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23708]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 262
حدیث نمبر: 23709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَكُمْ هَذَا كُلَّ شَيْءٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 262
حدیث نمبر: 23710
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَيَتَطَهَّرُ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ، أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ، ثُمَّ يَرُوحُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ يُنْصِتُ لِلْإِمَامِ إِذَا تَكَلَّمَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى" .
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23710]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 883
حدیث نمبر: 23711
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: لَمَّا احْتُضِرَ سَلْمَانُ بَكَى، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا، فَتَرَكْنَا مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ يَكُونَ بُلْغَةُ أَحَدِنَا مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ" قَالَ: ثُمَّ نَظَرْنَا فِيمَا تَرَكَ، فَإِذَا قِيمَةُ مَا تَرَكَ بِضْعَةٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا، أَوْ بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ دِرْهَمًا .
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا جب وقت آخر قریب آیا تو وہ رونے لگے اور فرمانے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک عہد لیا تھا اور اسی عہد پر ہمیں چھوڑا تھا کہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ سامان ہمارے پاس ایک مسافر کے توشے جتنا ہونا چاہئے راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد جب ہم نے ان کے ترکے کا جائزہ لیا تو اس تمام ترکے کی قیمت صرف بیس یا تیس سے کچھ اوپر درہم تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23711]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، إسناده منقطع، الحسن البصري لا يعرف له سماع من سلمان، وقد توبع