مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1134. مُسْنَدُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23937
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ حَدَّثَنَا، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَجِلَ هَذَا"، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ وَلِغَيْرِهِ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعاء کرتے ہوئے سنا کہ اس نے اللہ کا ذکر کیا اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے جلد بازی سے کام لیا پھر اسے اور دوسروں سے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ لے تو پہلے اپنے رب کی تعریف وثناء کرے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام پڑھے اس کے بعد جو چاہے دعاء مانگے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23937]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23938
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ، خَرَّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْخَصَاصَةِ، وَهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ مَجَانِينُ، فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، لَأَحْبَبْتُمْ لَوْ أَنَّكُمْ تَزْدَادُونَ حَاجَةً وَفَاقَةً" ، قَالَ فَضَالَةُ: وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ.
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہوتے تھے تو کچھ لوگ جو " اصحاب صفہ میں سے ہوتے تھے " بھوک کی وجہ سے کھڑے کھڑے گرجاتے تھے اور دیہاتی لوگ کہتے تھے کہ یہ دیوانے ہوگئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر فرماتے تھے اس حال میں کہ ان کی طرف متوجہ ہوتے " اگر تمہیں معلوم ہوتا کہ اللہ کے یہاں تمہارے لئے کیا نعمتیں ہیں تو تمہاری خواہش ہوتی کہ تمہارے اس فقروفاقہ میں مزید اضافہ کردیا جائے ان دنوں میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23938]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23939
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: أخبرنا أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ تُبَاعُ وَهِيَ مِنَ الْغَنَائِمِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ، فَنُزِعَ وَحْدَهُ، ثُمَّ قَالَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہار پیش کیا گیا جس میں سونے اور جواہرات ٹکے ہوئے تھے یہ مال غنیمت تھا جسے فروخت کیا جارہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار پر لگے ہوئے سونے کے متعلق حکم دیا تو اسے الگ کرلیا گیا پھر فرمایا کہ سونے کو سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچا جائے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23939]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح من جهة حيوة، م: 1591 وأما قرينه ابن لهيعة فسيئ الحفظ
حدیث نمبر: 23940
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار پیدل چلنے والوں کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کیا کریں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23940]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23941
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ،: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ، بُعِثَ عَلَيْهَا" ، قَالَ حَيْوَةُ: يَقُولُ: رِبَاطٌ، حَجٌّ، أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ.
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی مرتبہ پر فوت ہوگا وہ اسی مرتبہ پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23941]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23941
وحَدَّثَنَاه وحَدَّثَنَاه الطَّالَقَانِيُّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: " يُسَلِّمُ الْفَارِسُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَائِمِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ ، مِثْلَهُ.
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوارپیدل چلنے والوں کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کیا کریں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23941]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23942
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ مِثْلَهُ
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23943
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ ، حَدَّثَهُ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ: رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ فَمَاتَ، وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا قَدْ كَفَاهَا مُؤْنَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ، وَثَلَاثَةٌ لَا تَسْأَلْ عَنْهُمْ: رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رِدَاءَهُ، فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ، وَإِزَارَهُ الْعِزَّةُ، وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین آدمیوں کے متعلق کچھ نہ پوچھو ایک تو وہ آدمی جو جماعت سے جدا ہوجائے اپنے امام کی نافرمانی کرے اور اسی حال میں فوت ہوجائے دوسرے وہ باندی یا غلام جو اپنے آقا کے پاس سے بھاگ جائے اور اسی بھگوڑے پن کے زمانے میں مرجائے اور تیسرے وہ عورت جس کا شوہر موجود نہ ہو وہ اس کی تمام دنیوی ضرورت میں اس کی کفایت کرتا ہو اور وہ اس کے پیچھے دور جاہلیت کی طرح اپنی جسمانی نمائش کرنے لگے ان کے متعلق کچھ نہ پوچھو اور تین آدمی اور ہیں ان کے متعلق بھی کچھ نہ پوچھو، ایک تو وہ آدمی جو اللہ سے اس کی چادر لینے میں جھگڑا کرے کہ اللہ کی اوپر کی چادر " کبریائی ہے اور نیچے کی چادر عزت ہے " دوسرا وہ آدمی جو اللہ کے کاموں میں شک کرے اور تیسرا اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے والا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23943]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23944
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جسے اسلام کی طرف ہدایت مل گئی اور اس کی روزی بقدر کفایت ہو اور وہ اس پر قناعت کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23944]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23945
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَا: أَنْبَأَنَا أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ، بُعِثَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی مرتبہ پر فوت ہوگا وہ اسی مرتبہ پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23945]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح من جهة حيوة، ومتابعه ابن لهيعة سيئ الحفظ