مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1131. حَدِيثُ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23917
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْمُوقَيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23917]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، إسناده منقطع بين أبى إدريس و بلال
حدیث نمبر: 23918
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَنْبَأَنِي الْحَكَمُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلَالٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ" .
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں اور عمامے پر مسح فرمایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23918]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يدرك بلالا
حدیث نمبر: 23919
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَ، عَنْ بِلَالٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي الْبَيْتِ"، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:" لَمْ يُصَلِّ فِيهِ وَلَكِنَّهُ كَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ" .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز پڑھی ہے جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی بلکہ اس کے کونوں میں تکبیر کہی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23919]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حدیث نمبر: 23920
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، قَالَ شُعْبَةُ: كَتَبَ إليَّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ بِلَالٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ" .
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے آمین کہہ لینے کا موقع دے دیا کریں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23920]
الحكم على الحديث:
مرسل صحيح
حدیث نمبر: 23921
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَبِلَالٌ خَلْفَهُ، قَالَ: وَكُنْتُ شَابًّا فَصَعِدْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي بِلَالٌ، فَقُلْتُ له: مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاهُنَا؟ قَالَ:" فَأَشَارَ بِيَدِهِ، أَيْ: صَلَّى رَكْعَتَيْنِ" .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23921]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 397، م: 1329، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23922
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَأَنَاخَ يَعْنِي: بِالْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بِالْمِفْتَاحِ، فَذَهَبَ يَأْتِيهِ بِهِ، فَأَبَتْ أُمُّهُ أَنْ تُعْطِيَهُ، فَقَالَ: لَتُعْطِيَنَّهُ أَوْ يَخْرُجُ بِالسَّيْفِ مِنْ صُلْبِي، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ فَدَخَلَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَعُثْمَانُ، وَأُسَامَةُ فَأَجَافُوا الْبَابَ عَلَيْهِمْ مَلِيًّا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَكُنْتُ رَجُلًا شَابًّا قَوِيًّا فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَبَدَرْتُهُمْ، فَوَجَدْتُ بِلَالًا قَائِمًا عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ" ، وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى؟.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عنہ، عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کردیا اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں، ان دو ستونوں کے درمیان۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23922]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
حدیث نمبر: 23923
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ: حَدَّثَنِي نَافِعُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَخَلَ الْبَيْتَ هُوَ وَ بِلَالٌ وَ أَسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَجَافَ عَلَيْهِمُ الْبَابَ، فَمَكَثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ، فَلَمَّا فُتِحَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ، فَسَأَلْتُ بِلَالًا: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ وَ نَسِيتُ أَنْ أَسْأَلُهُ كَمْ صلَّى (٥) . [راجع: ٥١٧٦] . (إسناده صحيح، خ: ۳۹۷، م: ۱۳۲۹) .
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دروازہ بند کر دیا، اور جب تک اللہ کو منظور تھا اس کے اندر رہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو سب سے پہلے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے میں نے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑہی؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں، ان دو ستونوں کے درمیان البتہ میں یہ پوچھنا بھول گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑہی تھیں. [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23923]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 397، م: 1329
1132. حَدِيثُ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23924
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِبْتُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ لِلْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ، كَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ، كَانَ خَيْرًا لَهُ" .
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے تو مسلمانوں کے معاملات پر تعجب ہوتا ہے کہ اس کے معاملے میں سراسر خیر ہی خیر ہے اور یہ سعادت مؤمن کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں ہے کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے جو کہ اس کے لئے سراسر خیر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی سراسر خیر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23924]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2999
حدیث نمبر: 23925
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أنبأنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، نُودُوا: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا لَمْ تَرَوْهُ، فَقَالُوا: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ يُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، وَيُزَحْزِحْنَا عَنِ النَّارِ، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ؟ قَالَ: فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ، قَالَ: فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمْ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْهُ"، ثُمَّ قَرَأَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26 ، وَقَالَ مَرَّةً:" إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ".
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب جنتی جنت میں ہوجائیں گے تو انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ اے اہل جنت! اللہ کا تم سے ایک وعدہ باقی ہے جو ابھی تک تم نے نہیں دیکھا جنتی کہیں گے کہ وہ کیا ہے؟ کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل نہی کیا؟ اس کے جواب میں حجاب اٹھا دیا جائے گا اور جنتی اپنے پروردگار کی زیارت کرسکیں گے بخدا! اللہ نے انہیں جنتی نعمتیں عطاء کر رکھی ہوں گی انہیں اس نعت سے زیادہ محبوب کوئی نعمت نہ ہوگی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نیکیاں کیں عمدہ بدلہ اور مزید اضافہ " ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23925]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 181
حدیث نمبر: 23926
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَّ صُهَيْبًا كَانَ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى، وَيَقُولُ: إِنَّهُ مِنَ الْعَرَبِ، وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ، مَا لَكَ تُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ؟ وَتَقُولُ: إِنَّكَ مِنَ الْعَرَبِ، وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ، وَذَلِكَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ؟ فَقَالَ صُهَيْبٌ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي النَّسَبِ، فَأَنَا رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ مِنْ أَهْلِ الْمَوْصِلِ، وَلَكِنِّي سُبِيتُ غُلَامًا صَغِيرًا قَدْ غَفَلْتُ أَهْلِي وَقَوْمِي، وَأَمَّا قَوْلُكَ فِي الطَّعَامِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: " خِيَارُكُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَرَدَّ السَّلَامَ" ، فَذَلِكَ الَّذِي يَحْمِلُنِي عَلَى أَنْ أُطْعِمَ الطَّعَامَ.
زید بن اسلم (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر تم میں تین چیزیں نہ ہوتیں تو تم میں کوئی عیب نہ ہوتا، انہوں نے پوچھا وہ کیا ہیں کیونکہ ہم نے تو کبھی آپ کو کسی چیز میں عیب نکالتے ہوئے دیکھا ہی نہیں انہوں نے فرمایا ایک تو یہ کہ تم اپنی کنیت ابو یحییٰ رکھتے ہو حالانکہ تمہارے یہاں کوئی اولاد ہی نہیں ہے دوسرا یہ کہ تم اپنی نسبت نمر بن قاسط کی طرف کرتے ہو جبکہ تمہاری زبان میں لکنت ہے اور تم مال نہیں رکھتے۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ جہاں تک میری کنیت " ابو یحییٰ " کا تعلق ہے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ہے لہٰذا اسے تو میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا یہاں تک کہ ان سے جاملوں، رہی نمر بن قاسط کی طرف میری نسبت تو یہ صحیح ہے کیونکہ میں ان ہی کا ایک فرد ہوں لیکن چونکہ میری رضاعت " ایلہ " میں ہوئی تھی، اس وجہ سے یہ لکنت پیدا ہوگئی اور باقی رہا مال تو کیا کبھی آپ نے مجھے ایسی جگہ خرچ کرتے ہوئے دیکھا ہے جو ناحق ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23926]
الحكم على الحديث:
هذا الاثر اسناده ضعيف على اضطراب فى متنه