مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1134. مُسْنَدُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 23946
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَجَّاجًا يَذْكُرُ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: أَرَأَيْتَ تَعْلِيقَ يَدِ السَّارِقِ فِي الْعُنُقِ، أَمِنَ السُّنَّةِ، قَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ يَدُهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا، فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ" ، قَالَ حَجَّاجٌ: وَكَانَ فَضَالَةُ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: سَمِعْتَ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ شَيْئًا؟ قَالَ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ عِنْدَهُ؟ قُلْتُ: حَدِيثُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي تَعْلِيقِ الْيَدِ، فَقَالَ: لَا، حَدَّثَنَا بِهِ عَفَّانُ عَنْهُ.
عبدالرحمن بن محیریز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا یہ بتائیے کہ کیا چور کا ہاتھ اس کے گلے میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تھے۔ امام احمد (رح) کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا کیا آپ نے عمر بن علی مقدمی سے کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ اس کے پاس کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی حدیث جو چور کا ہاتھ گلے میں لٹکانے سے متعلق ہے انہوں نے فرمایا نہیں یہ حدیث ہم سے عفان نے بیان کی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23946]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة الحجاج، وهو مدلس
حدیث نمبر: 23947
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی گلو کا رہ کا مالک جتنی توجہ سے اس گلوکارہ کا گانا سنتا ہے اللہ تعالیٰ کہیں زیادہ توجہ کے ساتھ اس شخص کی آواز سنتا ہے جو خوبصورت آواز میں قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23947]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه ، إسماعيل بن عبيدالله لم يدرك فضالة بن عبيد
حدیث نمبر: 23948
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ صَائِمًا، فَدَعَا بِشَرَابٍ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تُصْبِحْ صَائِمًا، قَالَ:" بَلَى، وَلَكِنْ قِئْتُ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس دن عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس دن تو آپ روزہ رکھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! لیکن آج مجھے قے آگئی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23948]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23949
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوار پیدل چلنے والوں کو اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کیا کریں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23949]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23950
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمَ بْنُ إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَاتَ عَلَى مَرْتَبَةٍ مِنْ هَذِهِ الْمَرَاتِبِ، بُعِثَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ حَيْوَةُ، يَقُولُ: رِبَاطٌ أَوْ حَجٌّ أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ.
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی مرتبہ پر فوت ہوگا وہ اسی مرتبہ پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23950]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23951
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الَّذِي مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يَنْمُو عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيَأْمَنُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر مرنے والے کا نامہ اعمال بند ہو کر سر بمہر کردیا جاتا ہے سوائے اس شخض کے جو اللہ کے راستہ میں، سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے کہ اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا اور وہ قبر کی آزمائش سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23951]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23951
قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ لِلَّهِ" أَوْ قَالَ:" فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ کے راستہ میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23951]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23952
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ نُورًا لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَ ذَلِكَ: فَإِنَّ رِجَالًا يَنْتِفُونَ الشَّيْبَ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ فَلْيَنْتِفْ نُورَهُ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہوا اس کے بالوں کی سفیدی قیامت کے دن اس کے لئے باعث نور ہوگی ایک شخص نے عرض کیا کہ کچھ لوگ اپنے سفید بالوں کو نوچ لیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنا نور نوچنا چاہتا ہے وہ ایسا ہی کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23952]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، لكنه توبع، وهو صحيح لغيره
حدیث نمبر: 23953
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْعَبْدُ آمِنٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان جب تک اللہ سے استغفار کرتا ہے اس وقت تک اللہ کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23953]
الحكم على الحديث:
حسن بمجموع طريقيه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين، ولابهام الراوي عن فضالة
حدیث نمبر: 23954
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَجْرِي عَلَيْهِ أَجْرُهُ حَتَّى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيُوقَى فِتْنَةَ الْقَبْرِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر مرنے والے کا نامہ اعمال بند ہو کر سر بمہر کردیا جاتا ہے سوائے اس شخض کے جو اللہ کے راستہ میں، سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہوجائے کہ اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا اور وہ قبر کی آزمائش سے محفوظ رہے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23954]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين