🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1134. مُسْنَدُ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23955
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ يَقُولُ: غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَجَهَدَ بِالظَّهْرِ جَهْدًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِظَهْرِهِمْ مِنَ الْجَهْدِ، فَتَحَيَّنَ بِهِمْ مَضِيقًا فَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَقَالَ: " مُرُّوا بِسْمِ اللَّهِ"، فَمَرَّ النَّاسُ عَلَيْهِ بِظَهْرِهِمْ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ بِظَهْرِهِمْ:" اللَّهُمَّ احْمِلْ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِكَ، إِنَّكَ تَحْمِلُ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ، وَعَلَى الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ، فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ" ، قَالَ: فَمَا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى جَعَلَتْ تُنَازِعُنَا أَزِمَّتَهَا، قَالَ فَضَالَةُ: هَذِهِ دَعْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوِيِّ وَالضَّعِيفِ، فَمَا بَالُ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ! فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ غَزَوْنَا غَزْوَةَ قُبْرُسَ فِي الْبَحْرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ السُّفُنَ فِي الْبَحْرِ وَمَا يَدْخُلُ فِيهَا، عَرَفْتُ دَعْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے سواریوں کے معاملے میں بڑی مشکلات پیش آرہی تھیں لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سواریوں میں ایک چکر لگایا پھر لوگوں سے فرمایا کہ اللہ کا نام کر میرے آگے سے گذرو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے اپنی سواریوں کو گذارنے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پشت دم کرنے لگے اے اللہ! ان پر اپنی راہ میں نکلنے والوں کو سوار فرما بیشک تو طاقت اور کمزور پر خشک اور تر پر سمندر اور خشکی ہر جگہ سوار کرنے پر قاد رہے " اس دعاء کی برکت تھی کہ شہر تک پہنچتے پہنچتے سواری کے جانور اس قدر چست ہوگئے کہ ہمارے ہاتھوں سے اپنی لگامیں چھڑانے لگے۔ حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ طاقتور اور کمزور کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تو یہاں پوری ہوگئی جہاں تک خشک اور تر کا تعلق ہے تو جب تک ہم شام پہنچے اور سمندر میں جزیرہ قبرص کا غزوہ لڑا تو میں نے کشتیوں کو سمندر میں دیکھا کہ وہ سمندر میں ڈوبنے سے محفوظ ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء تھی اور میں سمجھ گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23955]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23956
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ مَوْلَى فَضَالَةَ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَلَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَشَدُّ أَذَنًا لِلرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی گلوکارہ کا مالک جتنی توجہ سے اس گلوکارہ کا گانا سنتا ہے اللہ تعالیٰ کہیں زیادہ توجہ کے ساتھ اس شخص کی آواز سنتا ہے جو خوبصورت آواز میں قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23956]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة ميسرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23957
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنِ الْأَشْيَاخِ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُقْيَةً، وَأَمَرَنِي أَنْ أَرْقِيَ بِهَا مَنْ بَدَا لِي، قَالَ لي: قُلْ: " رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّماءِ، تَقَدَّسَ اسْمُكَ، أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، اللَّهُمَّ كَمَا أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ عَلَيْنَا فِي الْأَرْضِ، اللَّهُمَّ رَبَّ الطَّيِّبِينَ اغْفِرْ لَنَا حَوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَايَانَا، وَنَزِّلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ، وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ، عَلَى مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَكْوَى، فَيَبْرَأُ"، قَالَ:" وَقُلْ ذَلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ تَعَوَّذْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک جھاڑ پھونک کا عمل سکھایا اور مجھے اجازت دے دی کہ اس کے ذریعے جسے مناسب سمجھوں جھاڑ سکتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا یوں کہا کرو ہمارا رب وہ اللہ ہے جو آسمانوں میں ہے تیرا نام مقدس ہے تیرا حکم زمین و آسمان میں چلتا ہے اے اللہ! جس طرح تیرا حکم آسمان میں چلتا ہے اسی طرح زمین میں ہم پر اپنی رحمت نازل فرما اے پاکیزہ لوگوں کے رب اللہ! ہماری لغزشات گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرما اپنی رحمت نازل فرما اور فلاں آدمی جس تکلیف کا شکار ہے اسے اس سے شفاء عطا فرما کہ وہ تندرست ہوجائے تین مرتبہ یہ کہو پھر تین مرتبہ معوذتین پڑھو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23957]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى بكر ابن عبدالله، ولإبهام الأشياخ الذين روى عنهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23958
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذَّنُوبَ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا کیا میں تمہیں " مومن " کے متعلق نہ بتاؤں؟ مؤمن وہ ہوتا ہے جس سے لوگوں کی جان مال محفوظ ہو، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں، مجاہد وہ ہوتا ہے جو اللہ کی اطاعت کے معاملے میں اپنے نفس سے جہاد کرے اور مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں اور لغزشات کو چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23958]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23959
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ أَمَرَ بِقُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَسُوِّيَتْ، بِأَرْضِ الرُّومِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَوُّوا قُبُورَكُمْ بِالْأَرْضِ" .
ابوعلی ہمدانی کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم کی طرف نکلے کہ مسلمانوں کی قبروں کو برابر رکھا جائے اور فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبروں کو برابر رکھنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23959]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23960
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّهُمْ " كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، قَالَ: وَفِينَا مَمْلُوكونَ، فَلَا يَقْسِمُ لَهُمْ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ کسی غزوے میں شریک تھے جس میں غلام بھی شامل تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حصہ نہیں دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23960]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام راويه عن فضالة، وابن أبى ليلى سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23961
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخُو سليمان بن كثير، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، قَالَ" وَفِينَا مَمْلُوكونَ، فَلَا يَقْسِمُ لَهُمْ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ کسی غزوے میں شریک تھے جس میں غلام بھی شامل تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حصہ نہیں دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23961]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام راويه عن فضالة، وابن أبى ليلى سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23962
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، وَيُونُسُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ هَاشِمٌ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو شُجَاعٍ ، وَقَالَ يُونُسُ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ يُونُسُ: الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ قِلَادَةً يَوْمَ فَتْحِ خَيْبَرَ بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ، فَفَصَّلْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح خیبر کے موقع پر میں نے بارہ دینار کا ایک ہار خریدا جس میں سونا اور جو ہرات لگے ہوئے تھے میں نے انہیں ہار سے الگ کیا تو اس میں سے بارہ دینار سے زیادہ مالیت کا سونا نکل آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک اسے جدا نہ کرلیا جائے آگے فروخت نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23962]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1591
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23963
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلَى تُجِيبَ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ نَافِذٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ، قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَ، فَقُلْنَا لَهُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ هَذَا الْيَوْمُ كُنْتَ تَصُومُهُ! قَالَ:" أَجَلْ، وَلَكِنِّي قِئْتُ" .
حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس دن عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہوتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس دن تو آپ روزہ رکھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! لیکن آج مجھے قے آگئی تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23963]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23964
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ ، أَنَّ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، وَعُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، وَفَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ، فَيَبْقَى رَجُلَانِ، فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا، فَيَقُولُ: الْجَبَّارُ تَبَارَكَ اسْمُهُ رُدُّوهُ فَيَرُدُّوهُ، فَيُقَالُ لَهُ: لِمَ الْتَفَتَّ؟ يَعْنِي فَيَقُولُ: قَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ، قال: فَيَقُولُ: لَقَدْ أَعْطَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى لَوْ أَنِّي أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا" ، قَالَا: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ.
حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ مخلوق کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو دو آدمی رہ جائیں گے ان کے متعلق حکم ہوگا کہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے ان میں سے ایک جاتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اسے واپس لے کر آؤ چناچہ فرشتے اسے واپس لائیں گے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تو نے پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا؟ وہ جواب دے گا کہ مجھے امید تھی کہ آپ مجھے جنت میں داخل فرمائیں گے چناچہ اسے جنت میں لے جانے کا حکم دیا جائے گا اور وہ کہتا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا دیا ہے کہ اگر میں تمام اہل جنت کو کھانے کی دعوت دوں تو میرے پاس سے کچھ بھی کم نہ ہوگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی یہ بات ذکر فرماتے تھے تو چہرہ مبارک پر بشاشت کے اثرات دکھائی دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23964]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں