مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
975. حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22019
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ طَاوُسٍ , أُتِيَ مُعَاذٌ بِوَقَصِ الْبَقَرِ , وَالْعَسَلِ , فَقَالَ: " لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا بِشَيْءٍ" , قَالَ سُفْيَانُ: الْأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلَاثِينَ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس تیس سے کم گائیں اور شہد لایا گیا انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22019]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22020
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ , قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ , رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ , أَجَشَّ الصَّوْتِ , فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ , حَتَّى حَثَوْتُ عَلَيْهِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَيِّتًا رَحِمَهُ اللَّهُ , ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ , فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ , فَقَالَ لِي: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا , وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً" .
عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں یمن میں جب تشریف لائے تو وہ سحری کا وقت تھا وہ بلند اور بارعب آواز کے ساتھ تکبیر کہتے جا رہے تھے میرے دل میں ان کی محبت رچ بس گئی چنانچہ میں ان سے اس وقت تک جدا نہ ہوا جب تک شام میں ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی نہ ڈال لی، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں، پھر میں نے ان کے بعد سب سے زیادہ فقیہہ آدمی کے لئے اپنی نظریں دوڑائیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا اس وقت تم کیا کرو گے جب تم پر ایسے حکمران آجائیں گے جو نماز کو اس کا وقت نکال کر پڑھا کریں گے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر میں اس زمانے کو پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا تم اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھ لینا اور حکمرانوں کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22020]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22021
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبْعٍ , وَمِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى غَيْرِ مَطْمَعٍ , وَمِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا طَمَعَ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک مرتبہ فرمایا اس لالچ سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جو دلوں پر مہر لگنے کی کیفیت تک پہنچا دے، اس لالچ سے بھی پناہ مانگا کرو جو کسی بےمقصد چیز تک پہنچا دے اور ایسی لالچ سے بھی اللہ کی پناہ مانگا کرو جہاں کوئی لالچ نہ ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22021]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عامر
حدیث نمبر: 22022
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 قَالَ: قِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ان کے پہلو اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں " سے مراد رات کے وقت انسان کا تہجد کے لئے اٹھنا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22022]
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ثم هو لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22023
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ , وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ , وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ , وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ" , ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى فَخِذِهِ أَوْ عَلَى مَنْكِبِهِ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ" , وَكَانَ مَكْحُولٌ يُحَدِّثُ بِهِ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس کا آباد ہوجانا مدینہ منورہ کے بےآباد ہوجانے کی علامت ہے اور مدینہ منورہ کا بےآباد ہونا جنگوں کے آغاز کی علامت ہے اور جنگوں کا آغاز فتح قسطنطنیہ کی علامت ہے اور قسطنطنیہ کی فتح خروج دجال کا پیش خیمہ ہوگی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا یہ ساری چیزیں اسی طرح برحق اور یقینی ہیں جیسے تمہارا یہاں بیٹھا ہونا یقینی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22023]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وهذا الحديث من منكرات عبدالرحمن بن ثابت ، ومكحول لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22024
حَدَّثَنَا يُونُسُ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ: وَحَدَّثَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُبْعَثُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْدًا , مُرْدًا , مُكَحَّلِينَ بَنِي ثَلَاثِينَ سَنَةً" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مسلمانوں کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ ان کے جسم پر کوئی بال نہیں ہوگا، وہ بےریش ہوں گے، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تیس سال کی عمر کے لوگ ہوں گے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22024]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22025
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مَلِيحٍ الْهُذَلِيِّ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , وَعَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا كَانَ الَّذِي يَلِيهِ الْمُهَاجِرينَ , قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَوْلَهُ , قَالَ: فَتَعَارَرْتُ مِنَ اللَّيْلِ أَنَا وَمُعَاذٌ , فَنَظَرْنَا قَالَ: فَخَرَجْنَا نَطْلُبُهُ , إِذْ سَمِعْنَا هَزِيزًا كَهَزِيزِ الْأَرْحَاءِ , إِذْ أَقْبَلَ , فَلَمَّا أَقْبَلَ نَظَرَ , قَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" , قَالُوا: انْتَبَهْنَا فَلَمْ نَرَكَ حَيْثُ كُنْتَ خَشِينَا أَنْ يَكُونَ أَصَابَكَ شَيْءٌ , جِئْنَا نَطْلُبُكَ , قَالَ: " أَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي , فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ نِصْفُ أُمَّتِي , أَوْ شَفَاعَةً , فَاخْتَرْتُ لَهُمْ الشَّفَاعَةَ" , فَقُلْنَا: فَإِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ الْإِسْلَامِ , وَبِحَقِّ الصُّحْبَةِ , لَمَا أَدْخَلْتَنَا الْجَنَّةَ , قَالَ: فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ , فَقَالُوا لَهُ مِثْلَ مَقَالَتِنَا , وَكَثُرَ النَّاسُ , فَقَالَ:" إِنِّي أَجْعَلُ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" . حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہ آپ کے قریب ہوتے تھے، ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے، اچانک حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور میں رات کو اٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے تو ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22025]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22026
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22027
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنِّي مُسْتَيْقِظٌ أَرَى رَجُلًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ , نَزَلَ عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ مِنَ الْمَدِينَةِ , فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى , ثُمَّ جَلَسَ , ثُمَّ أَقَامَ , فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى , قَالَ: " نِعْمَ مَا رَأَيْتَ , عَلِّمْهَا بِلَالًا" , قَالَ: قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ ذَلِكَ , وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے " جو مجھے بیداری کے واقعے کی طرح یاد ہے " میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو آسمان سے اترا اس نے دو سبز چادریں زیب تن کر رکھی تھیں وہ مدینہ منورہ کے کسی باغ کے ایک درخت پر اترا اور اس نے اذان کے کلمات دو دو مرتبہ دہرائے پھر وہ بیٹھ گیا کچھ دیر بعد اس نے اقامت کہی اور اس میں بھی یہی کلمات دو دو مرتبہ دہرائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت اچھا خواب دیکھا یہ کلمات بلال کو سکھا دو، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے، لیکن وہ مجھ پر سبقت لے گیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22027]
الحكم على الحديث:
إسناده منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف على أبن أبى ليلى فيه
حدیث نمبر: 22028
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا , يُصَلِّي الْخَمْسَ , وَيَصُومُ رَمَضَانَ , غُفِرَ لَهُ" , قُلْتُ: أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" دَعْهُمْ يَعْمَلُوا" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو پنجگانہ نماز ادا کرتا ہو اور ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں عمل کرتے رہنے دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22028]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء بن يسار لم يسمع من معاذ