مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26091
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْجَدَلِيَّ , يَقُولُ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " لَمْ يَكُ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ , وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے اور وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور در گذر فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26091]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26092
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ , قَالَ: يَعْنِي: أَبَا عَاصِمٍ , قَالَ أَبِي: وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ , يَعْنِي: نَافِعٌ هَذَا , قَالَ: كُنْتُ أَتَّجِرُ إِلَى الشَّامِ , أَوْ إِلَى مِصْرَ , قَالَ: فَتَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ , فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , إِنِّي قَدْ تَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ , فَقَالَتْ: مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ رِزْقٌ فِي شَيْءٍ , فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ , أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ" فَأَتَيْتُ الْعِرَاقَ , ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهَا , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , وَاللَّهِ مَا رَدَدْتُ الرَّأْسَ مَالٍ , فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ , أَوْ قَالَتْ الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثْتُكَ.
نافع کہتے ہیں کہ میں شام یا مصر میں تجارت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں نے عراق جانے کی تیاری کرلی لیکن روانگی سے پہلے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین! میں عراق جانے کی تیاری کرچکا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ تم اپنی تجارت کی جگہ چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کا کسی چیز کے ساتھ رزق وابستہ ہو تو وہ اسے ترک نہ کرے الاّ یہ کہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہوجائے یا وہ بگڑ جائے، تاہم میں پھر بھی عراق چلا گیا، واپسی پر ام المومنین کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین! واللہ مجھے اصل سرمایہ بھی واپس نہیں مل سکا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلی ہی حدیث سنا دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26092]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف مخلد بن الضحاك ولجهالة الزبير ونافع
حدیث نمبر: 26093
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ , وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26093]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2053
حدیث نمبر: 26094
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ , وَلَأَحْلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ حَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس معاملے کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا علم بعد میں ہوا تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور کبھی نہ لاتا اور ان لوگوں کے ساتھ ہی احرام کھول دیتا جنہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26094]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7229
حدیث نمبر: 26095
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتٍ مَرَّتْ عَلَى عَائِشَةَ , وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذِهِ الْحَوْلَاءُ , وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ؟ فَقَالَ: " لَا تَنَامُ اللَّيْلَ! خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت " حولاء " آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنا عمل کیا کرو جتنی طاقت تم میں ہے، واللہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26095]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 43، م: 785
حدیث نمبر: 26096
حَدَّثَنَاه وَهْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: مَرَّتْ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى , فَذَكَرَهُ , وَقَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْأَمُ حَتَّى تَسْأَمُوا".
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، النعمان بن راشد ضعيف ولكن توبع
حدیث نمبر: 26097
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ , أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 43، م: 785
حدیث نمبر: 26098
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کوئی منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26098]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمدا لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
حدیث نمبر: 26098
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" .
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26098]
حدیث نمبر: 26099
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26099]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1450