🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26081
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26081]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5918، م: 1190
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26082
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ , فَقَالَ: أَتَيْتُ غُلَامَ أُمِّ سَلَمَةَ نَافِعًا , فَأَرْسَلْتُهُ إِلَيْهَا , فَرَجَعَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ , ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" , قَالَ: ثُمَّ لَقِيَ غُلَامَ عَائِشَةَ، ذَكْوَانَ أَبَا عَمْرٍو , فَبَعَثَهُ إِلَيْهَا , فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ , فَأَخْبَرَتْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ , ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" .
عبد الرحمن بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طور پر حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26082]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عبد ربه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26083
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ , ثُمَّ أَغْتَسِلُ فَأَصُومُ" , قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا , إِنَّكَ قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ , فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" وَاللَّهِ , إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ , وَأَعْلَمَ بِمَا أَتَّقِي" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! اگر نماز کا وقت آجائے، مجھ پر غسل واجب ہو اور میں روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ساتھ ایسی کیفیت پیش آجائے تو میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں، وہ کہنے لگا، ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوگئے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگے اور فرمایا واللہ مجھے امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے متعلق جاننے والا میں ہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26083]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1110
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26084
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهَا: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ" فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ , فَقَالَ:" إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26084]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 298
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26085
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ؟" فَقَالَتْ: قُلْتُ: يَرْجِعُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ , وَأَنَا أَرْجِعُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ! قَالَ:" وَلِمَ ذَاكَ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: إِنِّي حِضْتُ , قَالَ:" ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , اصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ" , قَالَتْ: فَقَدِمْنَا مَكَّةَ , ثُمَّ ارْتَحَلْنَا إِلَى مِنًى , ثُمَّ ارْتَحَلْنَا إِلَى عَرَفَةَ , ثُمَّ وَقَفْنَا مَعَ النَّاسِ , ثُمَّ وَقَفْتُ بِجَمْعٍ , ثُمَّ رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ , ثُمَّ رَمَيْتُ الْجِمَارَ مَعَ النَّاسِ تِلْكَ الْأَيَّامَ , قَالَتْ: ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّى نَزَلَ الْحَصْبَةَ , قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا نَزَلَهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِي , أَوْ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِهَا , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ , فَقَالَ:" احْمِلْهَا خَلْفَكَ حَتَّى تُخْرِجَهَا مِنَ الْحَرَمِ" , فَوَاللَّهِ مَا قَالَ: فَتُخْرِجُهَا إِلَى الْجِعِرَّانَةِ , وَلَا إِلَى التَّنْعِيمِ , فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ , قَالَتْ: فَانْطَلَقْنَا , وَكَانَ أَدْنَى إِلَى الْحَرَمِ التَّنْعِيمُ , فَأَهْلَلْتُ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ , ثُمَّ أَقْبَلْتُ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ , فَطُفْتُ بِهِ , وَطُفْتُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَارْتَحَلَ , قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَفْعَلُ ذَلِكَ بَعْدُ .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کوا پنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ واپس جائیں اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26085]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف على نكارة فى متنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26086
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , فَنَزَلْنَا الشَّجَرَةَ , فَقَالَ: " مَنْ شَاءَ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُهِلَّ بِحَجَّةٍ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَهَلَّ مِنْهُمْ بِعُمْرَةٍ , وَأَهَلَّ مِنْهُمْ بِحَجَّةٍ , قَالَتْ: وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ , فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" انْقُضِي رَأْسَكِ , وَامْتَشِطِي , وَذَرِي عُمْرَتَكِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ" , فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ , أَمَرَنِي , فَاعْتَمَرْتُ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي تَرَكْتُ .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو، عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26086]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1211
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26087
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ إِلَّا رَمَضَانَ , وَلَا أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ , أَوْ لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رمضان کے علاوہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہو، ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو، تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26087]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1156
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26088
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ , أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَا: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" إِنَّمَا الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ" , قَالَ: فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ , وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ , فَقَالَتْ: وَالَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ مَا هَكَذَا كَانَ يَقُولُ , وَلَكِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ" , ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَةُ مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الأَرْضِ وَلا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلا فِي كِتَابٍ سورة الحديد آية 22 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بد شگونی لیا کرتے تھے (اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26088]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26089
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ , عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ كُلْثُومٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَائِعٌ فَأَكَلَ بِلُقْمَتَيْنِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ , فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ , فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ اللَّهَ فِي أَوَّلِهِ , فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پرھ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کفایت کرجاتا، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لیا کرے " بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26089]

الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم كلثوم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26090
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ , فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَامَ عَلَى الْبَابِ , فَلَمْ يَدْخُلْ , فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ , مَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟" فَقُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَلِتَوَسَّدَهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذَّبُونَ بِهَا , يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ" , وَقَالَ:" إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک تصویر والی چادر لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دورازے پر ہی کھڑے رہے، اندر نہ آئے، میں نے ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، مجھ سے کیا غلطی ہوئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا یہ چادر کیسی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ آپ کے بیٹھنے اور ٹیک لگانے کے لئے خریدی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو اور فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوں، اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26090]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2105، م: 2107
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں