مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26110
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , " أَنَّ نِسَاءً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ , ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ إِلَى بُيُوتِهِنَّ , مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26110]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 372، م: 645
حدیث نمبر: 26111
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ , فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ , ارْفَعِي عَنَّا حَصِيرَكِ هَذَا , فَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يكونَ يَفْتِنَ النَّاسَ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا عائشہ! اس چٹائی کو ہمارے پاس سے اٹھا لو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ فتنے میں نہ پڑھ جائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26111]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26112
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا أَبُو شَدَّادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ ، خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا كُنَّا بِالْحَزِّ , انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ , وَكَانَ آخِرُ الْعَهْدِ مِنْهُمْ , وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّمُرِ , وَهُوَ يَقُولُ: " وَا عَرُوسَاهْ" قَالَتْ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِي الْخِطَامَ , فَأَلْقَيْتُهُ , فَأَعْلَقََهُ اللَّهُ بِيَدِهِ .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر روانہ ہوئے، حر کے پاس پہنچ کر ہم واپس روانہ ہوئے، میں اپنے اونٹ پر سوار تھی، جو سب سے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس ببول کے درختوں کے درمیان تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن رہی تھی، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہیں ہائے میری دلہن! واللہ میں ابھی اسی اونٹ پر تھی کہ ایک منادی نے پکار کر کہا کہ اس کی لگام پھنک دو، میں نے اس کی لگام پھنک دی تو اللہ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26112]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى شداد
حدیث نمبر: 26113
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا , وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ , وَالنَّاسُ خَلْفَهُ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26113]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26114
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى , قَالَ أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ وَهُوَ الصَّوَابُ , مَوْلَى لِبَنِي نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ , قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ , وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ , صَلَّى قَاعِدًا" .
عبداللہ بن ابی موسیٰ (اور زیادہ صحیح رائے کے مطابق عبداللہ بن ابی قیس) " جو کہ بنو نصر بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام تھے " سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا ہے قیام اللیل کو کبھی نہ چھوڑنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، حتیٰ کہ اگر بیمار ہوتے یا طبیعت میں چستی نہ ہوتی تو بھی بیٹھ کر پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26114]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَتَتْ سَهْلَةُ ابْنَةُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ سَالِمًا كَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا وَاضِعَةٌ ثَوْبِي , ثُمَّ إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ الْآنَ بَعْدَمَا شَبَّ وَكَبِرَ , فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " فَأَرْضِعِيهِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يَذْهَبُ بِالَّذِي تَجِدِينَ فِي نَفْسِكِ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! سالم میرے یہاں آتا تھا، میں اپنا دوپٹہ وغیرہ اتارے رکھتی تھی، لیکن اب جب وہ بڑی عمر کا ہوگیا ہے اور اس کے بال بھی سفید ہوگئے تو اس کے آنے پر میرے دل میں بوجھ ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے دودھ پلا دو، یہ بوجھ دور ہوجائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26115]
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 26116
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26116]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6791، م: 1684
حدیث نمبر: 26117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُطَرِّفٍ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ , فَلَبِسَهَا , فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا , قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کی بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26117]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26118
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ عَلَيْهِ بَعْضُهُ وَعَلَيْهَا بَعْضُهُ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار ہو کر نماز پڑھتے تو لحاف کا ایک کونا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ہوتا اور دوسرا کونا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26118]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 26119
قال عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي الْفَضْلِ الْأَيْلِيِّ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ رِيحٌ يُتَأَذَّى مِنْهُ" .
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ چیز ناپسند تھی کہ ان سے ایسی مہک آئے جس سے دوسروں کو اذیت ہوتی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26119]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا لأجل عمران بن أبى الفضل