🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26340
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: وَذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " فَضْلُ الصَّلَاةِ بِالسِّوَاكِ عَلَى الصَّلَاةِ بِغَيْرِ سِوَاكٍ سَبْعِينَ ضِعْفًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسواک کے ساتھ نماز کی فضیلت مسواک کے بغیر پڑھے جانے والی نماز پر ستر گناہ زیادہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26340]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف، وهذا إسناد منقطع لأن ابن إسحاق لم يسمع هذا الحديث من الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26341
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِتُرْبَانَ , بَلَدٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ بَرِيدٌ وَأَمْيَالٌ , وَهُوَ بَلَدٌ لَا مَاءَ بِهِ , وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ , انْسَلَّتْ قِلَادَةٌ لِي مِنْ عُنُقِي , فَوَقَعَتْ , فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِالْتِمَاسِهَا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ , وَلَيْسَ مَعَ الْقَوْمِ مَاءٌ , قَالَتْ: فَلَقِيتُ مِنْ أَبِي مَا اللَّهُ بِهِ عَلِيمٌ مِنَ التَّعْنِيفِ وَالتَّأْفِيفِ , وَقَالَ: فِي كُلِّ سَفَرٍ لِلْمُسْلِمِينَ مِنْكِ عَنَاءٌ وَبَلَاءٌ؟ قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ الرُّخْصَةَ بِالتَّيَمُّمِ , قَالَتْ: فَتَيَمَّمَ الْقَوْمُ وَصَلَّوْا , قَالَتْ: يَقُولُ أَبِي: حِينَ جَاءَ مِنَ اللَّهِ مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ لِلْمُسْلِمِينَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ يَا بُنَيَّةُ , إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ , مَاذَا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ فِي حَبْسِكِ إِيَّاهُمْ مِنَ الْبَرَكَةِ وَالْيُسْرِ؟" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے، جب مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر ایک علاقے " تربان " جہاں پانی نہیں ہوتا " تو سحری کے وقت میرے گلے سے ہار ٹوٹ کر گرپڑا، اسے تلاش کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، یہاں صبح صادق ہوگئی اور لوگوں کے پاس پانی تھا نہیں، مجھے اپنے والد صاحب کی طرف سے جو طعنے سننے کو ملے وہ اللہ ہی جانتا ہے کہ مسلمان کو ہر سفر میں تمہاری وجہ سے ہی تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کچھ دیر بعد اللہ نے تیمم کی رخصت نازل فرما دی اور لوگوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، یہ رخصت دیکھ کر والد صاحب نے مجھ سے کہا بیٹا! واللہ مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے، اللہ نے تیرے رکنے کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے کتنی آسانی اور برکت نازل فرما دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26341]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26342
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَأَلْتُهَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ هُوَ جُنُبٌ , وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ , ثُمَّ يَنَامُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوب غسل کی حالت میں سونا یا کھانا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26342]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث، خ: 286، م: 305
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26343
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا , وَاعْلَمُوا أَنْ لَنْ يُدْخِلَ أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ , وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سیدھی بات کہا کرو، لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا کرو اور خوشخبریاں دیا کرو، یاد رکھو! تم سب سے کسی شخص کو اس کے اعمال جنت میں نہیں لے جاسکیں گے اور جان رکھو کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26343]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2818
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26344
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ , فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ طَمِثْتُ , فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ؟" قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ الْعَامَ , قَالَ:" لَعَلَّكِ نَفِسْتِ" يَعْنِي حِضْتِ , قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي" , فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" اجْعَلُوهَا عُمْرَةً" , فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ , وَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ , قَالَتْ: ثُمَّ رَاحُوا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهُرْتُ , فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ فَأَفَضْتُ , يَعْنِي طُفْتُ , قَالَتْ فَأُتِينَا بِلَحْمِ بَقَرٍ , فَقُلْتُ مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ , قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ , فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ , فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ , قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ , أَنِّي أَنْعَسُ , فَتَضْرِبُ وَجْهِي مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ , حَتَّى جَاءَ بِي التَّنْعِيمَ , فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ جَزَاءً لِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میری سہیلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26344]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 305، م: 1211
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26345
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجِّ لِخَمْسِ لَيَالٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ , وَلَا يَذْكُرُ النَّاسُ إِلَّا الْحَجَّ , حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرِفَ , وَقَدْ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الْهَدْيَ , وَأَشْرَافٌ مِنَ النَّاسِ , أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ , وَحِضْتُ ذَلِكَ الْيَوْمَ , فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ , وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَخْرُجْ مَعَكُمْ عَامِي هَذَا فِي هَذَا السَّفَرِ , قَالَ:" لَا تَفْعَلِي , لَا تَقُولِي ذَلِكَ , فَإِنَّكِ تَقْضِينَ كُلَّ مَا يَقْضِي الْحَاجُّ إِلَّا أَنَّكِ لَا تَطُوفِينَ بِالْبَيْتِ"، قَالَتْ فَمَضَيْتُ عَلَى حَجَّتِي وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ , فَحَلَّ كُلُّ مَنْ كَانَ لَا هَدْيَ مَعَهُ , وَحَلَّ نِسَاؤُهُ بِعُمْرَةٍ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ كَثِيرٍ , فَطُرِحَ فِي بَيْتِي , فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ , حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ , مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي فَاتَتْنِي وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي الْحَجِّ: وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ فَحَلَلْنَ بِعُمْرَةٍ , وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يَحِلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ , وَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى حُرْمِهِ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چا ہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ذی الحجہ کو اپنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں عمرے کا احرام باندھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26345]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، ابن إسحاق صرح بالتحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26346
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ قَالُوا: " خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بِهِ ذَاتُ الْجَنْبِ , إِنَّهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَلَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيُسَلِّطَهُ عَلَيَّ" : قَالَ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا أَسْمَعُهُ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَقْبِضْ نَبِيًّا حَتَّى يُخَيِّرَهُ" قَالَتْ: فَلَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ آخِرُ كَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْهُ وَهُوَ يَقُولُ:" بَلْ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ" قَالَتْ: قُلْتُ: إِذًا وَاللَّهِ لَا يَخْتَارُنَا , وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ الَّذِي كَانَ يَقُولُ لَنَا:" إِنَّ نَبِيًّا لَا يُقْبَضُ حَتَّى يُخَيَّرَ" .
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا لوگ بھی خوفزدہ ہوگئے اور ہمارے خیال کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو " ذات الجنب " کی شکایت تھی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا خیال یہ ہے کہ اللہ نے مجھ پر اس بیماری کو مسلط کیا ہے، حالانکہ اللہ اسے مجھ پر کبھی بھی مسلط نہیں کرے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر ملا دیا جائے (یا دنیا میں بھیج دیا جائے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت وصال جب قریب آیا تو میں نے ان کے منہ سے آخری کلمہ جو سنا وہ یہ تھا " رفیق اعلیٰ کے ساتھ جنت میں " مجھے وہ بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اور میں سمجھ گئی کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت ہمیں ترجیح نہ دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26346]

الحكم على الحديث:
هذا حديث له اسنادان: الاسناد الاول حسن لتصريح تحديث ابن اسحاق، والاسناد الثاني ضعيف لتدليس ابن اسحاق وعدم يصريح التحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26347
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عُتْبَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حِينَ دَخَلَ مِنَ الْمَسْجِدِ , فَاضْطَجَعَ فِي حِجْرِي , فَدَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي بَكْرٍ , وَفِي يَدِهِ سِوَاكٌ أَخْضَرُ , قَالَتْ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ نَظَرًا عَرَفْتُ أَنَّهُ يُرِيدُهُ , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تُحِبُّ أَنْ أُعْطِيَكَ هَذَا السِّوَاكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَمَضَغْتُهُ لَهُ حَتَّى أَلَنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهُ , قَالَتْ: فَاسْتَنَّ بِهِ كَأَشَدِّ مَا رَأَيْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ قَبْلَهُ , ثُمَّ وَضَعَهُ , وَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثْقُلُ فِي حِجْرِي , قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ فَإِذَا بَصَرُهُ قَدْ شَخَصَ , وَهُوَ يَقُولُ: " بَلْ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ" , فَقُلْتُ: خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ , قَالَتْ: وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وصال کے دن مسجد سے واپس آکر میری گود میں لیٹ گئے، اسی دوران حضرت صدیق اکبر کے گھر کا کوئی فرد ہاتھ میں سبز مسواک لئے ہوئے آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اس طرح دیکھا کہ میں سمجھ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مسواک آپ کو دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! میں نے اسے لے کر چبا کر نرم کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح عمدگی سے مسواک کی جس طرح میں انہیں پہلے کرتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھ دیا، میں نے محسوس کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بھاری ہو رہا ہے، میں نے ان کے چہرے پر نظر ڈالی تو ان کی نگاہیں اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور وہ کہہ رہے تھے " جنت میں رفیق اعلیٰ کے ساتھ " میں نے کہا آپ کو اختیار دیا گیا، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آپ نے اسے اختیار کرلیا اور اسی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26347]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق لأنه صرح بالتحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26348
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ , قَالَ:: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي وَفِي دَوْلَتِي , لَمْ أَظْلِمْ فِيهِ أَحَدًا , فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ وَهُوَ فِي حِجْرِي , ثُمَّ وَضَعْتُ رَأْسَهُ عَلَى وِسَادَةٍ , وَقُمْتُ أَلْتَدِمُ مَعَ النِّسَاءِ , وَأَضْرِبُ وَجْهِي" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوا تھا، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری بیوقوفی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26348]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26349
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنِ امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ عِمَارَةَ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: " مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ" , قَالَ مَحَمَّدٌ وَقَدْ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم عورتوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کسی جگہ عمل میں آئے گی، یہاں تک کہ ہم نے منگل کی رات شروع ہونے کے بعد رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گزرنے کی آوازیں سنیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26349]

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں