🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26370
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ , كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ , وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا اكْتَسَبَ , وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ , لَا يَنْقُصُ أَجْرُهُمْ مِنْ أَجْرِ بَعْضٍ شَيْئًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز خرچ کرتی ہے اور فساد کی نیت نہیں رکھتی تو اس عورت کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور اس کے شوہر کو بھی اس کی کمائی کا ثواب ملے گا، عورت کو خرچ کرنے کا ثواب ملے گا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26370]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1425، م: 1024
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26371
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمَنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ" .
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں اور جو نہیں کی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26371]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2716
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26372
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ جُنُبًا لَمْ يَصُمْ , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ , فَقَالَتْ: " إِنَّهُ لَا يَقُولُ شَيْئًا , قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فِينَا جُنُبًا , ثُمَّ يَقُومُ فَيَغْتَسِلُ , فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ , فَيَخْرُجُ , فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالْمَاءُ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ , ثُمَّ يَظَلُّ يَوْمَهُ ذَلِكَ صَائِمًا" .
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو، اس کا روزہ نہیں ہوتا، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا ان کی بات کی کوئی اصلیت نہیں، بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے، پھر بلال آکر نماز کی اطلاع دیتے، وہ باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھا دیتے اور پانی ان کے جسم پر ٹپک رہا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26372]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26373
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَنْهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ , قَالَ: قُلْتُ: فَالسُّعُن؟ قَالَتْ:" إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ , وَلَا أُحَدِّثُكَ بِمَا لَمْ أَسْمَعْ" .
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے اسود سے پوچھا کیا آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ پوچھا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے، میں نے " سفن " کے متعلق پوچھا تو فرمایا جو سنا وہ بیان کردیا اور جو نہیں سنا، وہ بیان نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26373]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لاجل زياد بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26374
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ , قَالَتْ: " لَا , وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ" .
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نمازوں کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں جو طاقت تھی، وہ تم میں سے کس میں ہوسکتی ہے؟ البتہ یہ یاد رکھو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دائمی ہوتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26374]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل زياد بن عبدالله، خ: 6466، م: 783
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26375
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :" لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ فِي الْخَمْرِ , قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ , ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اس کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26375]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأجل زياد بن عبدالله فى الروايات الصحيحة "فى الربا" مكان "فى الخمر"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26376
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنِ الْبَهِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ کا ذکر فرماتے رہتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26376]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 373
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26377
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً , وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26377]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2572
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26378
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَبُو الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ , وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا , وَكَانَ الْجِدَارُ بَسْطَةً , وَأَشَارَ عَامِرٌ بِيَدِهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے سے نہیں نکلی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26378]

الحكم على الحديث:
صحيح دون قولها: "وكان الجدار بسطة"، وهذا إسناد ضعيف جدا لأن عامر بن صالح متروك الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26379
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " إِنْ كُنَّا لَنَذْبَحُ الشَّاةَ , فَيَبْعَثُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْضَائِهَا إِلَى صَدَائِقِ خَدِيجَةَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کوئی بکری ذبح کرتے تو اسے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی سہیلیوں کے پاس ہدیہ میں بھیجتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26379]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر بن صالح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں