مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26360
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الْكَلَاعِيُّ , وَكَانَ ثِقَةً , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ الْمَكِّيِّ , قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ , فَبَعَثَنِي إِلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ابْنَةِ عُثْمَانَ صَاحِبِ الْكَعْبَةِ أَسْأَلُهَا عَنْ أَشْيَاءَ سَمِعَتْهَا مِنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ" .
محمد بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے عدی بن عدی کندی کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے مجھے خانہ کعبہ کے کلید بردار شیبہ بن عثمان کی صاحبزادی صفیہ کے پاس کچھ چیزیں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہوئی تھیں، تو صفیہ رضی اللہ عنہ نے مجھے جو حدیثیں سنائیں، ان میں ایک حدیث یہ بھی تھی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا ہے زبر دستی مجبور کرنے پر دی جانے والی طلاق یا آزادی واقع نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26360]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيد بن أبى صالح
حدیث نمبر: 26361
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى أَنْ يُطْرَحُوا فِي الْقَلِيبِ , فَطُرِحُوا فِيهِ , إِلَّا مَا كَانَ مِنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ , فَإِنَّهُ انْتَفَخَ فِي دِرْعِهِ فَمَلَأَهَا , فَذَهَبُوا يُحَرِّكُوهُ , فَتَزَايَلَ , فَأَقَرُّوهُ وَأَلْقَوْا عَلَيْهِ مَا غَيَّبَهُ مِنَ التُّرَابِ وَالْحِجَارَةِ , فَلَمَّا أَلْقَاهُمْ فِي الْقَلِيبِ , وَقَفَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ , هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا؟" قال: فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى؟! قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ:" لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقٌّ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: لَقَدْ سَمِعُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ عَلِمُوا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے مقتولین قریش کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں ایک گڑھے میں پھینک دیا جائے، چنانچہ انہیں پھینک دیا گیا، سوائے امیہ بن خلف کے کہ اس کا جسم اپنی زرہ میں پھول گیا تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے اسے ہلانا چاہا لیکن مشکل پیش آئی تو اسے وہیں رہنے دیا اور اس پر مٹی اور پتھر وغیرہ ڈال کر اسے چھپا دیا اور گڑھے میں باقی سب کو پھینکنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جا کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اہل قلیب! تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے اسے سچا پایا؟ کیونکہ میں نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ مردوں سے بات کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا واللہ یہ جانتے ہیں کہ میں نے ان سے سچا وعدہ کیا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ یہ جانتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ نہیں سنتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26361]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن لأجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26362
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ , بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِمَالٍ , وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ لِخَدِيجَةَ , أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا , قَالَتْ: فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً , وَقَالَ: " إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا , وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا , فَافْعَلُوا" , فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَطْلَقُوهُ , وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کے لئے مال بھیجا، جس میں وہ ہار بھی شامل تھا، جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی ابوالعاص سے شادی کے موقع پر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس ہار کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شدید رقت طاری ہوگئی اور فرمایا اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی چھوڑ دو اور اس کا بھیجا ہوا مال اسے واپس لوٹا دو، لوگوں نے عرض کیا ٹھیک ہے، یا رسول اللہ! چنانچہ انہوں نے ابوالعاص کو چھوڑ دیا اور حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا ہار بھی واپس لوٹا دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26362]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل أبن إسحاق
حدیث نمبر: 26363
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: لَمَّا أَتَى قَتْلُ جَعْفَرٍ , عَرَفْنَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُزْنَ , قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النِّسَاءَ قَدْ غَلَبْنَنَا وَفَتَنَّنَا , قَالَ: " فَارْجِعْ إِلَيْهِنَّ فَأَسْكِتْهُنَّ" , قَالَ: فَذَهَبَ , ثُمَّ رَجَعَ , فَقَالَ لَهُ: مِثْلَ ذَلِكَ , قَالَ: يَقُولُ: وَرُبَّمَا ضَرَّ التَّكَلُّفُ أَهْلَهُ , قَالَ:" فَاذْهَبْ فَأَسْكِتْهُنَّ , فَإِنْ أَبْيَنَ , فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ" , قَالَتْ: قُلْتُ فِي نَفْسِي: أَبْعَدَكَ اللَّهُ , فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ نَفْسَكَ , وَمَا أَنْتَ بِمُطِيعٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: عَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت زید بن حارثہ اور عبدالرحمن بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور روئے انور سے غم کے آثار ہویدا تھے، میں دروازے کے سوراخ سے جھانک رہی تھی کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ انہیں منع کردو، وہ آدمی چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور کہنے لگا میں نے انہیں منع کیا ہے لیکن وہ میری بات نہیں مانتیں، تین مرتبہ اس طرح ہوا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جا کر ان کے منہ میں مٹی بھر دو، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا اللہ تجھے خاک آلود کرے، واللہ تو وہ کرتا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے حکم دیتے اور نہ ہی ان کی جان چھوڑتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26363]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد ابن إسحاق، خ: 1299، م: 935
حدیث نمبر: 26364
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: " لَمْ يَقْتُلْ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَّا امْرَأَةً وَاحِدَةً , قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَعِنْدِي تَحَدَّثُ مَعِي , تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ رِجَالَهُمْ بِالسُّوقِ , إِذْ هَتَفَ هَاتِفٌ بِاسْمِهَا أَيْنَ فُلَانَةُ؟ قَالَتْ: أَنَا وَاللَّهِ , قَالَتْ: قُلْتُ: وَيْلَكِ , وَمَا لَكِ؟ قَالَتْ: أُقْتَلُ , قَالَتْ: قُلْتُ: وَلِمَ؟ قَالَتْ: حَدَثًا أَحْدَثْتُهُ , قَالَتْ: فَانْطُلِقَ بِهَا , فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا , وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَنْسَى عَجَبِي مِنْ طِيبِ نَفْسِهَا , وَكَثْرَةِ ضَحِكِهَا وَقَدْ عَرَفَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ" .
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کی صرف ایک عورت کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کیا گیا، وہ بھی میرے پاس بیٹھی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی، جبکہ باہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قوم کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے اس کا نام لے کر کہا کہ فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ کہنے لگا واللہ! یہ تو میں ہوں، میں نے اس سے کہا افسوس! یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگی کہ مجھے قتل کردیا جائے گا، میں نے اس سے پوچھا وہ کیوں؟ اس نے جواب دیا کہ میں نے ایک حرکت ایسی کی ہے، چنانچہ اسے لیجا کر اس کی گردن اڑا دی گئی، واللہ میں اپنے تعجب کو کبھی بھلا نہیں سکتی کہ وہ کتی ہشاش بشاش تھی اور ہنس رہی تھی جبکہ اسے معلوم تھا کہ اسے قتل کردیا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26364]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن من أجل ابن إسحاق
حدیث نمبر: 26365
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ , وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشِمَاسٍ , أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ , وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا , وَكَانَتْ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ , فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا , قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا , وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ , فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ , وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ , فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ , أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ , فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي , فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي , قَالَ: " فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟" قَالَتْ: وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ" قَالَتْ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" قَدْ فَعَلْتُ" , قَالَتْ: وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ , فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ , قَالَتْ: فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ , فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو مصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا تو حضرت جویریہ بنت حارث، ثابت بن قیس بن شماس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آگئیں، حضرت جویریہ نے ان کے مکاتبت کرلی، وہ بڑی حسین و جمیل خاتون تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا تھا، اس کی نظر ان پر جم جاتی تھی، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بدل کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں، واللہ جب میں نے انہیں اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو مجھے طبیعت پر بوچھ محسوس ہوا اور میں سمجھ گئی کہ میں نے ان کا حسن و جمال دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پر ضرور توجہ فرمائیں گے، چنانچہ وہ اندر آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! میں جویریہ بنت حارث ہوں، جو اپنی قوم کا سردار تھا، میرے اوپر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں ہے، میں ثابت بن قیس یا اس کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی ہوں، میں نے اس سے اپنے حوالے سے مکاتبت کرلی ہے اور اب آپ کے پاس کتابت کی ادائیگی میں تعاون کی درخواست لے کر آئی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! وہ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بدل کتابت کر کے میں تم سے نکاح کرلوں، انہوں نے حامی بھر لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا، ادھر لوگوں میں خبر پھیل گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جویریہ سے شادی کرلی ہے، لوگ کہنے لگے کہ یہ سسرال والے بن گئے، چنانچہ انہوں نے اپنے اپنے غلام آزاد کردیئے، یوں اس شادی کی برکت سے بنی مصطلق کے سو گھرانوں کو آزادی نصیب ہوگئی، اپنی قوم کے لئے اس سے عظیم برکت والی عورت میرے علم میں نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26365]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن كسابقه
حدیث نمبر: 26366
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ , عَنْ أَفْلَتَ بْنِ خَلِيفَةَ , قَالَ أَبِي: سُفْيَانُ يَقُولُ: فُلَيْتٌ عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: بَعَثَتْ صَفِيَّةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ وَهُوَ عِنْدِي , فَلَمَّا رَأَيْتُ الْجَارِيَةَ , أَخَذَتْنِي رِعْدَةٌ حَتَّى اسْتَقَلَّنِي أَفْكَلُ , فَضَرَبْتُ الْقَصْعَةَ , فَرَمَيْتُ بِهَا , قَالَتْ: فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ , فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ , قَالَتْ: قَالَ: " أَوْلَى" , قَالَتْ: قُلْتُ: وَمَا كَفَّارَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" طَعَامٌ كَطَعَامِهَا , وَإِنَاءٌ كَإِنَائِهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ عمدہ کھانے پکانے والی عورت نہیں دیکھی، ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن بھیجا جس میں کھانا تھا، میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی اور اس برتن کو توڑ ڈالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے روئے انور پر غصے کے آثار نظر آئے، میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی پناہ میں آتی ہوں کہ وہ آج مجھ پر لعنت کریں پھر میں نے عرض کے یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا برتن جیسا برتن اور کھانے جیسا کھانا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26366]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 26367
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ وَأَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مُذْ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ طَعَامٍ حَتَّى تُوُفِّيَ" , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى تُوُفِّيَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تین دن تک مسلسل پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26367]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5416، م: 2970
حدیث نمبر: 26368
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ , قُلْتُ: أَخْبِرِينِي بِشَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ لَعَلِّي أَدْعُو اللَّهَ بِهِ , فَيَنْفَعَنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ" .
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں اور جو نہیں کی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26368]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2716
حدیث نمبر: 26369
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ , قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ , شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی مریض کو لایا جاتا تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26369]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5743، م: 2191