مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1174. حَدِيثُ حَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِنْتِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 26440
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71؟ قَالَ: فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ: ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا سورة مريم آية 72 .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونیوالا کوئی آدمی جہنم میں داخل نہ ہوگا میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتا کہ تم میں سے ہر شخص اس میں وارد ہوگا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا پھر ہم متقی لوگوں کو نجات دیدیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا رہنے کے لئے چھوڑ دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26440]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لتدليس الأعمش، وقد اختلف فيه على الأعمش
حدیث نمبر: 26441
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا قَالَتْ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، أَوْ بِعَامَيْنِ، فَكَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا، وَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا، حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26441]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 733
حدیث نمبر: 26442
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ جَالِسًا قَطُّ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فَيُرَتِّلُهَا، حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے اور اس میں جس سورت کی تلاوت فرماتے تھے اسے خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے حتی کہ وہ خوب طویل ہوجاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26442]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 733
حدیث نمبر: 26443
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ , قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي جَالِسًا حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، أَوْ عَامَيْنِ .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا لیکن اپنے مرض الوفات سے ایک دو سال قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26443]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف على وهم فى تسمية أحد رواته، ابن جريج مدلس وقد عنعن، ووهم فى قوله: عن عطاء بن يزيد، إنما هو السائب بن يزيد
حدیث نمبر: 26444
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ حَفْصَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ، خُسِفَ بِأَوْسَطِهِمْ، فَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ وَآخِرُهُمْ، فَلَا يَنْجُو إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ" , فَقَالَ رَجُلٌ: كَذَا وَاللَّهِ، مَا كَذَبْتُ عَلَى حَفْصَةَ، وَلَا كَذَبَتْ حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے ایک لشکر ضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکر کا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے رہ جائیں گے اور ان میں سے صرف ایک آدمی بچے کا جو ان کے متعلق لوگوں کو خبر دے گا ایک آدمی نے کہا کہ یقینا اسی طرح ہوگا واللہ حضرت حفصہ کی طرف میں نے جھوٹی نسبت کی ہے اور نہ ہی حضرت حفصہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26444]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2883
حدیث نمبر: 26445
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَنَالُ مِنْ وَجْهِ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26445]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1107
حدیث نمبر: 26446
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26446]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1107
حدیث نمبر: 26447
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26447]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1107
حدیث نمبر: 26448
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ , وَالْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26448]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1107
حدیث نمبر: 26449
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، يُقَالُ لَهَا: شَفَّاءُ , تَرْقِي مِنَ النَّمْلَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو میرے یہاں شفاء نامی ایک خاتون موجود تھیں جو پہلو کی پھنسیوں کا جھاڑ پھونک سے علاج کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ طریقہ حفصہ کو بھی سکھا دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26449]
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، وفي سماع ابي بكر بن سليمان من حفصة نظر