مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26400
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَيْنِ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ , بِيَدِكَ الشِّفَاءُ , لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بد سے یوں دم کرتی تھی " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26400]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26401
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وعَنْ بَعْضِ شُيُوخِهِمْ أَنَّ زِيَادًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ , حَدَّثَهُمْ عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ , يُكَذِّبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي , وَأَضْرِبُهُمْ وَأَسُبُّهُمْ , فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِحَسْبِ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَيُكَذِّبُونَكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ , إِنْ كَانَ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ عَلَيْهِمْ , وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا , لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ , وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ , اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قِبَلَكَ" فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَهْتِفُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَهُ؟ مَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ سورة الأنبياء آية 47 فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ , يَعْنِي عَبِيدَهُ , إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر سامنے بیٹھے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! میرے کچھ غلام ہیں، وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، خیانت بھی کرتے ہیں اور میرا کہا بھی نہیں مانتے، پھر میں انہیں مارتا ہوں اور برا بھلا کہتا ہوں، میرا ان کے ساتھ کیا معاملہ رہے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خیانت، جھوٹ اور نافرمانی اور تمہاری سزا کا حساب لگایا جائے گا، اگر تمہاری سزا ان کے جرائم سے کم ہوئی تو وہ تمہارے حق میں بہتر ہوگی اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں کے برابر نکلی تو معاملہ برابر برابر ہوجائیگا، تمہارے حق میں ہوگا اور نہ تمہارے خلاف اور اگر سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو اس اضافے کا تم سے بدلہ لیا جائے گا، اس پر وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی رونے لگا اور چلانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کیا ہوا؟ کیا یہ قرآن کریم میں یہ آیت نہیں پڑھتا اور قیامت کے دن ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے، لہٰذا کسی پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا اور وہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہوا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں، اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ! میں اس سے بہتر کوئی حل نہیں پاتا کہ ان سب غلاموں کو اپنے سے جدا کر دوں، اس لئے میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26401]
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف لأجل تفرد أبى نوح قراد هو عبدالرحمن فى السند الأول، والاسناد الثاني أيضا ضعيف لإبهام بعض رواته ولانقطاعه
حدیث نمبر: 26402
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ , وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بْ الْحَمْدُ لِلَّهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26402]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 498
حدیث نمبر: 26403
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السُّبَيْعِيِّ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا الْكَوْثَرُ؟ قَالَتْ: " نَهَرٌ أُعْطِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ , قَالَ: قُلْتُ: وَمَا بُطْنَانُ الْجَنَّةِ؟ قَالَتْ: وَسَطُهَا , حَافَّتَاهُ دُرَّةٌ مُجَوَّفٌ" .
ابو عبیدہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ " کوثر " سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک نہر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو " بطنانِ جنت " میں دی گئی ہے، میں نے پوچھا کہ " بطنانِ جنت " سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا وسط جنت اور اس کے دونوں کنارے پر جوف دار موتی لگے ہوں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26403]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4965
حدیث نمبر: 26404
عبد الله: وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى آخِرِهَا فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ قال: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ وَلَا خَادِمًا , وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , قَالَتْ:" مَا نِيلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَانْتَقَمَهُ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ مَحَارِمُ اللَّهِ , فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ" , قَالَتْ:" مَا عُرِضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَانِ , أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ , إِلَّا أَخَذَ الَّذِي هُوَ الْأَيْسَرُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا , فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ" .
عبداللہ کہتے ہیں کہ آگے کی بقیہ تمام احادیث میں نے اپنے والد کے مسودے میں ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی پائی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے کبھی بھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہی کیوں نہ ہو، اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26404]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر بن صالح، م: 2328
حدیث نمبر: 26405
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ " أَنَّهَا كَانَتْ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ , كِلَاهُمَا يَغْتَرِفُ مِنْهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور اس سے چلو بھرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26405]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه، خ: 273، م: 321
حدیث نمبر: 26406
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي , وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہوگیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26406]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد كسابقه، خ: 6179، م: 2250
حدیث نمبر: 26407
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا سَتَرَتْ عَلَى بَابِهَا دُرْنُوكًا فِيهِ خَيْلٌ أُولَاتُ أَجْنِحَةٍ , فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ , فَأَمَرَهَا فَنَزَعَتْهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تو دیکھا کہ میں نے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، جس پر ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارنے کا حکم دیا تو انہوں نے اسے اتار دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26407]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل عامر، خ: 5955، م: 2107
حدیث نمبر: 26408
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ لَمْ يَخْرُجْ مِنَ الْمَسْجِدِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب معتکف ہوتے تو مسجد سے صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی نکلتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26408]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاجل عامر بن صالح، خ: 2029، م: 297
حدیث نمبر: 26409
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" , فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ , وَابْنَ عُمَرَ , فَوَاللَّهِ مَا هُمَا بِكَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَا مُتَزَيِّدَيْنِ , إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ , وَمَرَّ بِأَهْلِهِ وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ , فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ , وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُعَذِّبُهُ فِي قَبْرِهِ" .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ اپنے والد کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اشارہ نقل کرتے ہیں کہ میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہوگیا ہے، واللہ وہ جھوٹ بولنے والے نہیں، انہیں غلط بات بھی نہیں بتائی گئی اور نہ انہوں نے دین میں اضافہ کرلیا، در اصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک یہودی کی قبر پر گزر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26409]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 1289، م: 932