مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1179. حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاسْمُهَا رَمْلَةُ
حدیث نمبر: 26780
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الجَرَّاحٍ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْعِيرَ الَّتِي فِيهَا جَرَسٌ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ" .
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26780]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى الجراح مولى أم حبيبة
حدیث نمبر: 26781
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَنْبَسَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ صَلَّى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ" , قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وقَالَ عَنْبَسَةُ: فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ، وقَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ: فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ، قَالَ النُّعْمَانُ: وَأَنَا لَا أَكَادُ أَدَعُهُنَّ , قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ" فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم خوب اچھی طرح وضو کرے اور ایک دن میں فرائض کے علاوہ چار رکعتیں (نوافل) اللہ کی راہ کے لئے پڑھ لے اللہ اس کا گھر جنت میں بنادے گا پھر اس حدیث کے ہر راوی نے اپنے متعلق ان رکعتوں کے ہمیشہ پڑھنے کی وضاحت کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26781]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 728
حدیث نمبر: 26782
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ لِي بِسَوِيقٍ، فَشَرِبْتُهُ، فَقَالَتْ: أَلَا تَتَوَضَّأُ؟ فَقُلْتُ: إِنِّي لَمْ أُحْدِثْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26782]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26783
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، فَسَقَتْهُ سَوِيقًا، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقَالَتْ لَهُ: تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أَخِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26783]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26784
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَةُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26784]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 26785
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ وَكَانَتْ خَالَتَهُ , فَسَقَتْنِي شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ، فَلَمَّا قُمْتُ، قَالَتْ لِي: أَيْ بُنَيَّ، لَا تُصَلِّيَنَّ حَتَّى تَتَوَضَّأَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ" .
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26785]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
1180. حَدِيثُ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26786
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , ح وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، ح قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَمُجَمِّعٍ ابني يزيد ابن جارية ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ , أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، وَكَانَتْ ثَيِّبًا، " فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ" .
حضرت خنسائ بنت خذام سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہر دیدہ تھیں لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26786]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5138
حدیث نمبر: 26787
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ , وَمُجَمِّعٍ ، شيخين من الأنصار , أن خنساء , أنكحها أبوها، وكرهت ذلك،" فرده رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت خنساء بنت خذام سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہر دیدہ تھیں لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26787]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6969
حدیث نمبر: 26788
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أُمِّ مُجَمِّعٍ ، قَالَ زَوَّجَ خِدَامٌ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي وَأَنَا كَارِهَةٌ , قَالَ: " فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَ أَبِيهَا" .
حضرت خنساء بنت خذام سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہر دیدہ تھیں لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26788]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6969
حدیث نمبر: 26789
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَاهُ , أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ، فَكَرِهَتْ نِكَاحَ أَبِيهَا، فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، " فَرَدَّ عَنْهَا نِكَاحَ أَبِيهَا" ، فَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ , فَذَكَرَ يَحْيَى , أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهَا كَانَتْ ثَيِّبًا.
عبد الرحمن بن یزید اور مجمع سے مروی ہے کہ خنساء کے والد خذام نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہردیدہ تھیں لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا اور خنساء نے حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر سے نکاح کرلیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26789]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5138