🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1241. حَدِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27140
حَدَّثَنَا سُفْيَان ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: " سَمِعْتُ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَطُوفُونَ , وَهُمْ يَقُولُونَ: الْيَوْمُ قَرْنَا عَيْنَا نَقْرَعُ الْمَرْوَتَيْنَا" .
سباع بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں لوگوں کو طواف کے دوران یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا ہے کہ آج ہم اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کر رہے ہیں کہ مروہ پر دستک دے رہے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27140]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27141
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ " ذَهَبَتْ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتْ الْمُبَشِّرَاتُ" .
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبوت ختم ہو گئی ہے اور خوشخبری دینے والی چیزیں رہ گئی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27141]

الحكم على الحديث:
أثر فى إسناده وهم، وهم فيه سفيان بن عيينة، وعبيد الله سمعها من سباع بن ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27142
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَمِعْت أَبِي يَقُولُ: سُفْيَانُ يَهِمُ فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ، عُبَيْدُ اللَّهِ سَمِعَهَا مِنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ.
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27142]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد وهم فيه سفيان بن عيينة، وعبيد الله سمعها من سباع بن ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27143
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِبَاعُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي الْعَقِيقَةِ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مِثْلَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" .
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27143]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وسباع بن ثابت مختلف فى صحبته
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1242. حَدِيثُ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27144
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ اسْتَحَضْتُ حَيْضَةً مُنْكَرَةً شَدِيدَةً، فَقَالَ:" احْتَشِي كُرْسُفًا"، قُلْتُ: إِنَّهُ أَشَدُّ مِنْ ذَاكَ، إِنِّي أَثُجُّهُ ثَجًّا، قَالَ: " تَلَجَّمِي، وَتَحَيَّضِي فِي كُلِّ شَهْرٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ اغْتَسِلِي غُسْلًا، وَصُومِي , وَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ، أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، وَاغْتَسِلِي لِلْفَجْرِ غُسْلًا , وَأَخِّرِي الظُّهْرَ , وَعَجِّلِي الْعَصْرَ , وَاغْتَسِلِي غُسْلًا، وَأَخِّرِي الْمَغْرِبَ، وَعَجِّلِي الْعِشَاءَ، وَاغْتَسِلِي غُسْلًا، وَهَذَا أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ" , وَلَمْ يَقُلْ يَزِيدُ مَرَّةً:" وَاغْتَسِلِي لِلْفَجْرِ غُسْلًا".
حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے بہت زیادہ شدت کے ساتھ ماہواری کا خون جاری ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کپڑا استعمال کرو“، میں نے عرض کیا کہ وہ اس سے زیادہ شدید ہے (کپڑے سے نہیں رکتا) اور میں تو پرنالے کی طرح بہہ رہی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس صورت میں تم ہر مہینے کے چھ یا سات دنوں کو علم الٰہی کے مطابق ایام حیض شمار کر لیا کرو پھر غسل کرکے 23 یا 24 دنوں تک نماز روزہ کرتی رہو اور اس کی ترتیب یہ رکھو کہ ایک مرتبہ نماز فجر کے لئے غسل کر لیا کرو پھر ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کر کے ایک ہی مرتبہ غسل کر کے یہ دونوں نمازیں پڑھ لو پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو مقدم کر کے ایک ہی مرتبہ غسل کے ذریعے یہ دونوں نمازیں پڑھ لیا کرو، مجھے یہ طریقہ دوسرے طریقے سے زیادہ پسند ہے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27144]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عبدالله بن محمد تفرد به ، ولا يقبل ما تفرد به ، وشريك ضعيف، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1243. حَدِيثُ جَدَّةِ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27145
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ يَعْنِي ابْنَ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ , أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَبَاحَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ , يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي , أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا , يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ" .
رباح بن عبدالرحمٰن اپنی دادی کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے اور وہ شخص اللہ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہو سکتا جو مجھ پر ایمان نہ لائے اور وہ شخص مجھ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہو سکتا جو انصار سے محبت نہ کرے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27145]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى ثفال المري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27146
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُوَيْطِبٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي، وَلَمْ يُؤْمِنْ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ" .
رباح بن عبدالرحمٰن اپنی دادی کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے اور وہ شخص اللہ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہو سکتا جو مجھ پر ایمان نہ لائے اور وہ شخص مجھ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہو سکتا جو انصار سے محبت نہ کرے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27146]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى ثفال، وأبي معشر، وقد اختلف فى إسناده على ابن حرملة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27147
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ حَرْمَلَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثِفَالٍ , يُحَدِّثُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَبَاحَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَلَمْ يَقُلْ عَفَّانُ مَرَّةً: ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي , أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَاهَا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِي، وَلَا يُؤْمِنُ بِي مَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ" .
رباح بن عبدالرحمٰن اپنی دادی کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے اور وہ شخص اللہ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہو سکتا جو مجھ پر ایمان نہ لائے اور وہ شخص مجھ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہو سکتا جو انصار سے محبت نہ کرے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27147]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى ثفال المري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1244. حَدِيثُ أُمِّ بُجَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27148
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ، فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أدْفَعُ فِي يَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا" .
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! بعض اوقات کوئی مسکین میرے گھر کے دروازے پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میرے پاس گھر میں کچھ بھی نہیں ہے، جو اسے دے سکوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ رکھ دیا کرو اگرچہ وہ جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27148]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27149
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ أَخِي بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتُهُ وَهِيَ أمُ بُجَيْدٍ ، وَكَانَتْ تُزْعَمُ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27149]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں