مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1234. حَدِيثُ بُقَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27130
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ بُقَيْرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ، قَالَتْ: إِنِّي لَجَالِسَةٌ فِي صُفَّةِ النِّسَاءِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يُشِيرُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِذَا سَمِعْتُمْ بِخَسْفٍ هَاهُنَا قَرِيبًا، فَقَدْ أَظَلَّتْ السَّاعَةُ" .
حضرت بقیرہ رضی اللہ عنہا زوجہ قعقاع بن ابی حدرد سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم یہ سن لو کہ ایک لشکر تمہارے قریب ہی دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھ لو کہ قیامت قریب آ گئی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27130]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، تفرد به ابن إسحاق، ثم إنه اختلف عليه فيه
1235. حَدِيثُ أُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمرِو بْنِ الْأَحْوَصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27131
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يعني ابْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي : أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي , وَخَلْفَهُ إِنْسَانٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يُصِيبُوهُ بِالْحِجَارَةِ، وَهُوَ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَُّاس، لا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمْ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ"، ثُمَّ أَقْبَلَ , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا ذَاهِبُ الْعَقْلِ، فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ لَهَا:" ائْتِينِي بِمَاءٍ"، فَأَتَتْهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَتَفَلَ فِيهِ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبِي، فَاغْسِلِيهِ بِهِ، وَاسْتَشْفِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ"، فَقُلْتُ لَهَا: هَبِي لِي مِنْهُ قَلِيلًا لِابْنِي هَذَا، فَأَخَذْتُ مِنْهُ قَلِيلًا بِأَصَابِعِي، فَمَسَحْتُ بِهَا شِقَّةَ ابْنِي، فَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ، فَسَأَلْتُ الْمَرْأَةَ بَعْدُ مَا فَعَلَ ابْنُهَا؟ قَالَتْ: بَرِئَ أَحْسَنَ بَرْءٍ .
حضرت ام سلیمان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا، جو انہیں لوگوں کے پتھر لگنے سے بچا رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”لوگو! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے اور جب تم رمی کرو تو ٹھیکری کی کنکریوں جیسی کنکریوں سے رمی کرو“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے کی طرف متوجہ ہوئے تو ایک عورت اپنا ایک بیٹا لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میرے اس بیٹے کی عقل زائل ہو گئی ہے، آپ اللہ سے اس کے لئے دعا فرما دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میرے پاس پانی لاؤ“، چنانچہ وہ پتھر کے ایک برتن میں پانی لے کر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور اس میں اپنا چہرہ دھو دیا اور دعاء کے بعد فرمایا: ”جاؤ اور اسے اس پانی سے غسل دو اور اللہ سے شفاء کی امید و دعا کا سلسلہ جاری رکھو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ام سلیمان رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اس کا تھوڑا سا پانی مجھے بھی اپنے اس بیٹے کے لئے دے دیجئے! چنانچہ میں نے اپنی انگلیاں ڈال کر تھوڑا سا پانی لیا اور اس سے اپنے بیٹے کے جسم کو تر بتر کر دیا تو وہ بالکل صحیح ہو گیا، ام سلیمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بعد میں میں نے اس عورت کے متعلق پوچھا تو بتایا کہ اس کا بچہ بالکل تندرست ہو گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27131]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره دون قوله: "فأتته بماء..."، وهذا اسناد ضعيف لضعف يزيد ابن عطاء ويزيد بن ابي زياد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو
حدیث نمبر: 27132
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجِمَارَ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ"، قَالَتْ: فَرَمَى سَبْعًا، ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يَقِفْ، قَالَتْ: وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ .
حضرت ام سلیمان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہاں رکے نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آڑ کا کام کر رہا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27132]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، ولجهالة حال سليمان بن عمرو
1236. حَدِيثُ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27133
حدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلِيطُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ، وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، قَالَتْ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَان نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا، وَلَا نَعْصِيَهُ فِي مَعْرُوفٍ، قَالَت: قَالَ: " وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ"، قَالَتْ: فَبَايَعْنَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا، فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ: ارْجِعِي فَاسْأَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا؟ قَالَتْ: فَسَأَلَتْهُ، فَقَالَ:" تَأْخُذُ مَالَهُ، فَتُحَابِي بِهِ غَيْرَهُ" .
حضرت سلمی بنت قیس رضی اللہ عنہا ”جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خالہ اور قبلتین کی طرف نماز پڑھنے والوں میں سے تھیں“، سے مروی ہے کہ میں کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط لگائی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، چوری نہیں کرو گی، بدرکای نہیں کرو گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گی، کوئی بہتان اپنے ہاتھوں پیروں کے درمیان نہیں گھڑو گی اور کسی نیکی کے کام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کرو گی اور اپنے شوہروں کو دھوکہ نہیں دو گی، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان شرائط پر بیعت کر لی، جب ہم واپس جانے لگے تو ان میں سے ایک عورت کہنے لگی کہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ شوہر کو دھوکہ دینے سے کیا مراد ہے؟ چنانچہ سوال کرنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مال لے کر غیر پر انصاف سے ہٹ کر خرچ کرنا۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27133]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة سليط بن أيوب، وأمه لم نقف لها على ترجمة ، وقد اختلف فيه على ابن إسحاق
1237. حَدِيثُ إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 27134
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ , وَسَأَلَهُ رَجُلٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ عَمَّا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ، فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْفَأْرَةِ، وَالْعَقْرَبِ، وَالْكَلْبِ الْعَقُورِ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابِ .
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال پوچھا: یا رسول اللہ! احرام باندھنے کے بعد ہم کون سے جانور قتل کر سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27134]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1828، م: 1200
1238. حَدِيثُ لَيْلَى بِنْتِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27135
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَكِيمٍ الثَّقَفِيُّ , وَكَانَ قَارِئًا لِلْقُرْآنِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ يُقَالُ لَهُ: دَاوُدُ ، قَدْ وَلَّدَتْهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ لَيْلَى ابْنَةِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ , قَالَتْ: كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ وَفَاتِهَا، وَكَانَ أَوَّلُ مَا " أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِقَاءَ، ثُمَّ الدِّرْعَ , ثُمَّ الْخِمَارَ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةَ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ، قَالَتْ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَابِ مَعَهُ كَفَنُهَا، يُنَاوِلُنَاهُ ثَوْبًا ثَوْبًا" .
حضرت لیلی بنت قانف رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت انہیں غسل دینے والوں میں، میں بھی شامل تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ہمیں ازار دیا، پھر قمیص، پھر دوپٹہ، پھر لفافہ دیا اس کے بعد انہیں ایک اور کپڑے میں لپیٹ دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر تھے اور کفن ان ہی کے پاس تھا، جسے ایک ایک کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پکڑا رہے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27135]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة نوح بن حكيم، ومن أجل داود بن أم حبيبة
1239. حَدِيثُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27136
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بِنْتِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنِ امْرَأَة مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَقَدْ سَمَّاهَا لِي، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ مَعَكَ إِلَى وَجْهِكَ هَذَا وَهُوَ يَسِيرُ إِلَى خَيْبَرَ فَنُدَاوِيَ الْجَرْحَى، وَنُعِينَ الْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَعْنَا، فَقَالَ: " عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ"، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا مَعَهُ , وَكُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةً، فَأَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَقِيبَةِ رَحْلِهِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ لَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ، فَأَنَاخَ، وَنَزَلْتُ عَنْ حَقِيبَةِ رَحْلِهِ، وَإِذَا بِهَا دَمٌ مِنِّي، فَكَانَتْ أَوَّلَ حَيْضَةٍ حِضْتُهَا، قَالَتْ: فَتَقَبَّضْتُ إِلَى النَّاقَةِ، وَاسْتَحْيَيْتُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِي، وَرَأَى الدَّمَ، قَالَ:" مَا لَكِ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟" , قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَصْلِحِي مِنْ نَفْسِكِ، وَخُذِي إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَاطْرَحِي فِيهِ مِلْحًا، ثُمَّ اغْسِلِي مَا أَصَابَ الْحَقِيبَةَ مِنَ الدَّمِ، ثُمَّ عُودِي لِمَرْكَبِكِ"، قَالَتْ: فَلَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، رَضَخَ لَنَا مِنَ الْفَيْءِ، وَأَخَذَ هَذِهِ الْقِلَادَةَ الَّتِي تَرَيْنَ فِي عُنُقِي، فَأَعْطَانِيهَا، وَجَعَلَهَا بِيَدِهِ فِي عُنُقِي، فَوَاللَّهِ لَا تُفَارِقُنِي أَبَدًا، قَالَ: وَكَانَتْ فِي عُنُقِهَا حَتَّى مَاتَتْ، ثُمَّ أَوْصَتْ أَنْ تُدْفَنَ مَعَهَا، فَكَانَتْ لَا تَطْهُرُ مِنْ حَيْضَةٍ، إِلَّا جَعَلَتْ فِي طَهُورِهَا مِلْحًا، وَأَوْصَتْ أَنْ يُجْعَلَ فِي غُسْلِهَا حِينَ مَاتَتْ .
بنو غفار کی ایک خاتون کہتی ہیں کہ میں بنو غفار کی کچھ خواتین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم بھی آپ کے ساتھ اس غزوے (غزوہ خیبر) میں شریک ہونا چاہتی ہیں تاکہ حسب استطاعت مریضوں کا علاج اور مسلمانوں کی مدد کر سکیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرور علی برکۃ اللہ۔“ چنانچہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہو گئے میں چونکہ اس وقت چھوٹی بچی تھی، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے کجاوے کی بلندی والے حصے پر سوار کر لیا، صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور اپنے اونٹ کو بٹھایا، میں بھی کجاوے کے اوپر سے اترنے لگی تو اس پر خون لگا دیکھا، یہ ماہواری کا پہلا خون تھا جو مجھے آیا۔ یہ دیکھ کر میں سمٹ کر اونٹنی کے قریب ہو گئی اور مجھے شرم آنے لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کیفیت اور خون دیکھ کر فرمایا: ”کیا ہوا؟ شاید تمہیں ایام شروع ہو گئے ہیں“، میں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آپ کو صحیح کرو اور پانی کا ایک برتن لے کر اس میں نمک ڈالو اور کجاوے پر جو خون لگا ہوا ہے اس دھو دو پھر دوبارہ اپنی سواری پر سوار ہو جاؤ۔“ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں خیبر فتح ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی مال غنیمت میں سے کچھ عطا فرمایا اور یہ ہار جو تم میرے گلے میں دیکھ رہے ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا تھا اور اپنے دست مبارک سے میرے گلے میں ڈالا تھا، واللہ! یہ ہار مجھ سے کبھی جدا نہ ہو گا، چنانچہ مرتے دم تک وہ ہار ان کے گلے میں رہا اور وہ وصیت کر گئی تھیں کہ اس ہار کو ان کے ساتھ ہی دفن کر دیا جائے اور وہ جب بھی پاکیزگی کا غسل کرتی تھیں اس میں نمک ضرور ڈالتی تھیں اور یہ وصیت کر گئی تھیں کہ ان کے غسل کے پانی میں جب وہ فوت ہو جائیں نمک ضرور ڈالا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27136]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أمية بنت أبى الصلت، وقد اختلف فيه على سليمان
1240. حَدِيثُ سَلَامَةَ ابْنَةِ الْحُرِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27137
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ غُرَابٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: عَقِيلَةُ ، عَنْ سَلَامَةَ ابْنَةِ الْحُرِّ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُومُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ" .
حضرت سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب وہ کافی دیر تک انتظار ہی میں کھڑے رہیں گے اور انہیں کوئی آدمی نماز پڑھانے والا نہیں ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27137]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال كل من أم غراب وعقيلة
حدیث نمبر: 27138
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا امْرَأَةٌ يُقَالُ لَهَا: طَلْحَةُ مَوْلَاةُ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ مَوْلَاةٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهَا: عَقِيلَةُ ، عَنْ سَلَامَةَ ابْنَةِ الْحُرِّ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَوْ فِي شِرَارِ الْخَلْقِ، أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ" .
حضرت سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جب وہ کافی دیر تک انتظار ہی میں کھڑے رہیں گے اور انہیں کوئی آدمی نماز پڑھانے والا نہیں ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27138]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال كل من أم غراب وعقيلة
1241. حَدِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27139
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، سَمِعْتُ مِنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ الَّتِي تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَذَهَبْتُ أَطْلُبُ مِنَ اللَّحْمِ: " عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا" . قَالَتْ: قَالَتْ: وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا" .
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے حدیبیہ میں ”جبکہ میں گوشت کی تلاش میں گئی ہوئی تھی“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جانور مذکر ہو یا مؤنث۔ حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رہنے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27139]