مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1230. حَدِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27120
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ خَوْلَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَظْعَنَ مِنْهُ" .
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» سے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27120]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب ابن لهيعة فيه
حدیث نمبر: 27121
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ خَوْلَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27121]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب ابن لهيعة فيه
حدیث نمبر: 27122
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بن يعقوب ، أن يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُول: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ كُلِّهَا , مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ" .
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» سے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27122]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2708
حدیث نمبر: 27123
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ كُلِّهَا مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ فِي مَنْزِلِهِ ذَلِكَ شَيْءٌ حَتَّى يَظْعَنَ عَنْهُ ".
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» سے تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27123]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج والربيع بن مالك، ولم يدرك الربيع خولة
1231. حَدِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ امْرَأَةِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27124
َحدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ أَبِي الْوَلِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ , وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا النَّارُ" .
حضرت خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہما ”جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں“، سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور دنیا کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا سرسبز و شیریں ہے، جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے گا اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی اور اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بہت گھسنے والے ایسے ہیں جنہیں اللہ سے ملنے کے دن جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27124]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبيد سنوطا، وقد توبع
حدیث نمبر: 27125
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَن يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ خَوْلَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ فِيهِ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ" .
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27125]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2708، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب ابن لهيعة فيه، وقد وقع هذا الحديث والذي يليه فى مسند خولة بنت قيس، وهو وهم، وهى خولة بنت حكيم على الصواب
حدیث نمبر: 27126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ خَوْلَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27126]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2708، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
1232. حَدِيثُ أُمِّ طَارِقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27127
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ ، قَالَتْ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ، فَاسْتَأْذَنَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ أَعَادَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ عَادَ , فَسَكَتَ سَعْدٌ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ: أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَنْتِ؟" , قَالَتْ: أُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ:" لَا مَرْحَبًا بِكِ , وَلَا أَهْلًا , أَتُهْدِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاء؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ" .
حضرت ام طارق رضی اللہ عنہا ”جو کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ باندی ہیں“ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے اور ان سے اندر آنے کی اجازت چاہی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اجازت طلب کی اور وہ تینوں مرتبہ خاموش رہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس چل پڑے، سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھیجا اور کہا کہ ہمیں آپ کو اجازت دینے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی، البتہ ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ زیادہ سے زیادہ ہمیں سلامتی کی دعا دیں، ام طارق رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں کہ پھر میں نے دروازے پر کسی کی آواز سنی کہ وہ اجازت طلب کر رہا ہے، لیکن کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں ام ملدم (بخار) ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کوئی خوش آمدید نہیں، کیا تم اہل قباء کا راستہ جانتی ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر وہاں چلی جاؤ۔“ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27127]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة جعفر بن عبدالرحمن
1233. حَدِيثُ امْرَأَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27128
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي جَدَّتِي يَعْنِي امْرَأَةَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ عَفَّانُ: عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ امْرَأَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , أَنَّ رَافِعًا رَمَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَيَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ: أَنَا أَشُكُّ , بِسَهْمٍ فِي ثَنْدُوَتِهِ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْزِعْ السَّهْمَ، قَالَ:" يَا رَافِعُ، إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْبَةَ جَمِيعًا، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ، وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ، وَشَهِدْتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ انْزِعْ السَّهْمَ، ودع الْقُطْبَةَ، وَاشْهَدْ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنِّي شَهِيدٌ، قَالَ: فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّهْمَ، وَتَرَكَ الْقُطْبَةَ .
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے مروی ہے کہ غزوہ احد یا خیبر کے موقع پر حضرت رافع رضی اللہ عنہ کی چھاتی میں کہیں سے ایک تیر آ کر لگا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تیر کھینچ کر نکال دیجئے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رافع! اگر تم چاہو تو میں تیر اور اس کی کیلی دونوں چیزیں نکال دیتا ہوں اور اگر تم چاہو تو تیر نکال دیتا ہوں اور کیل رہنے دیتا ہوں اور قیامت کے دن تمہارے شہید ہونے کی گواہی دینے کا وعدہ کر لیتا ہوں“، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ صرف تیر نکال دیں اور کیل رہنے دیں اور قیامت کے دن میرے شہید ہونے کی گواہی دے دیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر نکال لیا اور کیل رہنے دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27128]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
1234. حَدِيثُ بُقَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27129
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ بُقَيْرَةَ امْرَأَةَ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , وَهُوَ يَقُولُ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا، فَقَدْ أَظَلَّتْ السَّاعَةُ" .
حضرت بقیرہ رضی اللہ عنہا زوجہ قعقاع بن ابی حدرد سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم یہ سن لو کہ ایک لشکر تمہارے قریب ہی دھنسا دیا گیا ہے تو سمجھ لو کہ قیامت قریب آ گئی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 27129]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، تفرد به ابن إسحاق، ثم إنه اختلف عليه فيه