🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1271. حَدِيثُ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ اسْمُهَا نُسَيْبَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27303
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: " نُهِيَ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا" .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا ہے، لیکن اس ممانعت میں ہم پر سختی نہیں کی گئی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27303]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1278، م: 938
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27304
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا الْمَرْأَةُ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، لَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَطَّيَّبُ، إِلَّا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرَتِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ" .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، البتہ شوہر کی میت پر چار مہینے دس دن سوگ منائے اور عصب کے علاوہ کسی رنگ سے رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے، سرمہ نہ لگائے اور خوشبو نہ لگائے الاّ یہ کہ پاکی کے ایام آئیں تو لگا لے، یعنی جب وہ اپنے ایام سے پاک ہو تو تھوڑی سی قسط یا اظفار نامی خوشبو لگا لے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27304]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 313، م: 938
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27305
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ حَفْصَةَ , عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: " كَانَ تَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْنَا فِي الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ" , فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرَ خَمْسٍ: أُمُّ سُلَيْمٍ , وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ َابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ , وأم العلاء وَامْرَأَةٌ أُخْرَى .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت جو شرائط لگائی تھیں، ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ تم نوحہ نہیں کرو گی، لیکن پانچ عورتوں کے علاوہ ہم میں سے کسی نے اس وعدے کو وفا نہیں کیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27305]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1306، م: 936
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27306
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَا: أَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا بِسِدْرٍ، وَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا: ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا , أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ , وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا , أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ , فَإِذَا فَرَغْتُنَّ , فَآذِنَّنِي" , قَالَتْ: فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ:" أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ" ، قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: وَضَفَرْنَا رَأْسَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ , وَأَلْقَيْنَا خَلْفَهَا قَرْنَيْهَا وَنَاصِيَتَهَا.
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اسے بیری کے پانی سے تین یا اس سے زیادہ مرتبہ (طاق عدد میں) غسل دو اور سب سے آخر میں اس پر کافور لگا دینا اور جب ان چیزوں سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا“، چنانچہ ہم نے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک تہبند ہماری طرف پھینک کر فرمایا: ”اس کے جسم پر اسے سب سے پہلے لپیٹو“، ام عطیہ کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کے بالوں کی تیں چوٹیاں بنا لیں اور دونوں کناروں اور پیشانی کے بال پیچھے ڈال دئیے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27306]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1263، م: 939
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27307
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " وَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ , أَنْ لَا نَنُوحَ" , فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ , وَفِيهِمْ مَأْتَمٌ , فَلَا أُبَايِعُكَ حَتَّى أُسْعِدَهُمْ كَمَا أَسْعَدُونِي، فَقَالَ: فَكأنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَافَقَهَا عَلَى ذَلِكَ، فَذَهَبَتْ فَأَسْعَدَتْهُمْ , ثُمَّ رَجَعَتْ , فَبَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرُ تِلْكَ , وَغَيْرُ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ.
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا . . .» تو اس میں نوحہ بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں خاندان والوں کو مستثنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہٰذا میرے لئے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں، سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مستثنیٰ کر دیا، وہ گئیں، انہیں پرسہ دیا اور واپس آ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی، وہ کہتی ہیں کہ پھر اس وعدے کو ان کے اور ام سلیم بنت ملحان کے علاوہ کسی نے وفا نہ کیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27307]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4892، م: 937
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27308
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , وحَبِيبٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا يَنُحْنَ" , فَقَالَتْ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ امْرَأَةً أَسْعَدَتْنِي , أَفَلَا أُسْعِدُهَا؟ فَقَبَضَتْ يَدَهَا , وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ , فَلَمْ يُبَايِعْهَا .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» تو اس میں نوحہ بھی شامل تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں خاندان والوں کو مستثنیٰ کر دیجیے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی، لہٰذا میرے لئے ضروری ہے کہ میں بھی ان کی مدد کروں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس وقت ان سے بیعت نہیں لی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27308]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1306، م: 936
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27309
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَبُو يَعْقُوبَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّة , عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ , قَالَتْ: " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , فَقَامَ عَلَى الْبَابِ , فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ , فَرَدَدْنَ السَّلَامَ , فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ , فَقُلْنَ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولِهِ , فَقَالَ: تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا , وَلَا تَسْرِقْنَ , وَلَا تَزْنِينَ , وَلَا تَقْتُلْنَ أَوْلَادَكُنَّ , وَلَا تَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ تَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُنَّ وَأَرْجُلِكُنَّ , وَلَا تَعْصِينَ فِي مَعْرُوفٍ؟ فَقُلْنَ: نَعَمْ , فَمَدَّ عُمَرُ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَابِ , وَمَدَدْنَ أَيْدِيَهُنَّ مِنْ دَاخِلٍ , ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ , وَأَمَرَنَا أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعُتَّقَ وَالْحُيَّضَ , وَنُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ , وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا , فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْبُهْتَانِ , وَعَنْ قَوْلِهِ: وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 , قَالَ: هِيَ النِّيَاحَةُ" .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین و انصار کو ایک گھر میں جمع فرمایا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا، وہ آ کر دروازے پر کھڑے ہوئے اور سلام کیا، خواتین نے جواب دیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، ہم نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے قاصد کو خوش آمدید، انہوں نے فرمایا: کیا تم اس بات پر بیعت کرتی ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گی، بدکاری نہیں کرو گی، اپنے بچوں کو جان سے نہیں مارو گی، کوئی بہتان نہیں گھڑو گی اور کسی نیکی کے کام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کرو گی؟ ہم نے اقرار کر لیا اور گھر کے اندر سے ہاتھ بڑھا دئیے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باہر سے ہاتھ بڑھایا اور کہنے لگے: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم بھی دیا کہ عیدین میں کنواری اور ایام والی عورتوں کو بھی لے کر نماز کے لئے نکلا کریں اور جنازے کے ساتھ جانے سے ہمیں منع فرمایا اور یہ کہ ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے، کسی خاتون نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہ سے «وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ» کا مطلب پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں ہمیں نوحہ سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27309]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون ذكر عمر فيه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبدالرحمن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1272. حَدِيثُ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27310
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدٍ , عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا , قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَنْزِلِ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ" .
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27310]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد خولف فيه أبن عجلان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27311
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ حَجَّاجٍ , وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْزِلُ مَنْزِلًا , فَيَقُولُ حِينَ يَنْزِلُ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , وَقَالَ يَزِيدُ: ثَلَاثًا , إِلَّا وُقِيَ شَرَّ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَظْعَنَ مِنْهُ" .
حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مقام پر پڑاؤ کرے اور یہ کلمات کہہ لے «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27311]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج والربيع بن مالك، والربيع لم يدرك خولة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27312
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ , أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ , فَقَالَ: " لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى يَنْزِلَ الْمَاءُ , كَمَا أَنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِل" .
حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر عورت کو بھی خواب میں وہی کیفیت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں ہو گا، جیسے مرد پر انزال سے پہلے غسل واجب نہیں ہوتا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27312]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں