🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1299. حَدِيثُ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27433
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرَةَ , عَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ , قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ , فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" ائْتُونِي بِوَضُوءٍ" , قَالَتْ: فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ الْكُوزَ , فَأَخَذْتُهُ أَنَا , فَتَوَضَّأَ , فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَيَّ أَوْ طَرْفَهُ إِلَيَّ , وَقَالَ:" أَنْتِ مِنِّي وَأَنَا مِنْكِ" , قَالَتْ: فَأُتِيَ بِرَجُلٍ , فَقَالَ: مَا أَنَا فَعَلْتُهُ , إِنَّمَا قِيلَ لِي , قَالَتْ: وَكَانَ سَأَلَهُ عَلَى الْمِنْبَرِ مَنْ خَيْرُ النَّاسِ؟ فَقَالَ: " أَفْقَهُهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ , وَأَوْصَلُهُمْ لِرَحِمِهِ" , ذَكَرَ فِيهِ شَرِيكٌ شَيْئَيْنِ آخَرَيْنِ لَمْ أَحْفَظْهُمَا.
حضرت درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا: ”میرے پاس وضو کا پانی لاؤ“، میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک برتن کی طرف تیزی سے بڑھے، میں پہلے پہنچ گئی اور اسے لے آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نگاہیں اٹھا کر مجھ سے فرمایا: ”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں“، پھر ایک آدمی کو لایا گیا، اس نے کہا: میں نے یہ کام نہیں کیا بلکہ لوگوں نے مجھ سے کہا تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے برسر منبر یہ سوال کیا تھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27433]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شريك واختلف فيه على شريك فى إسناده و متنه، ولجهالة عبدالله بن عميرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27434
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرَةَ , عَنْ زَوْجِ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ , عَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ , قَالَتْ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ , وَأَتْقَاهُمْ , وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ , وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ , وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ" .
حضرت درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے برسر منبر یہ سوال کیا تھا کہ لوگوں میں سب سے بہترین کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا، متقی، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27434]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شريك واختلف فيه على شريك فى إسناده و متنه، ولجهالة عبدالله بن عميرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1300. حَدِيثُ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27435
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَرْسَلَ مَرْوَانُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , يَسْأَلُهَا عَمَّا أَفْتَاهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ , فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , وَكَانَ بَدْرِيًّا , فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا قَبْلَ أَنْ يَنْقَضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ مِنْ وَفَاتِهِ , فَلَقِيَهَا أَبُو السَّنَابِلِ يَعْنِي ابْنَ بَعْكَكٍ حِينَ تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا وَقَدْ اكْتَحَلَتْ , فَقَالَ لَهَا: ارْبَعِي عَلَى نَفْسِكِ أَوْ نَحْوَ هَذَا لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ , إِنَّهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ مِنْ وَفَاةِ زَوْجِكِ , قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ لَهُ مَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ , فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ حَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمْلَكِ" .
حضرت ابوالسنابل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے صرف 23 یا 25 دن بعد ہی بچے کی ولادت ہو گئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں، نفاس سے فراغت کے بعد ابوالسنابل کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے سرمہ لگا رکھا تھا، ابوالسنابل نے کہا کہ اپنے اوپر قابو رکھو، شاید تم دوسرا نکاح کرنا چاہتی ہو؟ یاد رکھو! تمہارے شوہر کی وفات کے بعد تمہاری عدت چار مہینے دس دن ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے ابوالسنابل کی بات ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وضع حمل کے بعد حلال ہو چکی ہو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27435]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27436
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , قَالَ: إِنَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ يَأْمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , يَسْأَلُهَا عَمَّا أَفْتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَزَعَمَتْ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27436]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27437
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ آمُرُهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ , فَيَسْأَلَهَا عَنْ شَأْنِهَا , قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27437]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27438
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ فَسَأَلْتُهَا عَنْ أَمْرِهَا؟ فَقَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ سَعْدِ ابْنِ خَوْلَةَ فَتُوُفِّيَ عَنِّي , فَلَمْ أَمْكُثْ إِلَّا شَهْرَيْنِ حَتَّى وَضَعْتُ , قَالَتْ: فَخَطَبَنِي أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ , فَتَهَيَّأْتُ لِلنِّكَاحِ , قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ حَمَوَيَّ , وَقَدْ اخْتَضَبْتُ وَتَهَيَّأْتُ , فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدِينَ يَا سُبَيْعَةُ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ , قَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ مِنْ زَوْجٍ حَتَّى تَعْتَدِّينَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا , قَالَتْ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِي: " قَدْ حَلَلْتِ , فَتَزَوَّجِي" .
حضرت ابوالسنابل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے صرف 23 یا 25 دن بعد ہی بچے کی ولادت ہو گئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں، نفاس سے فراغت کے بعد ابوالسنابل کی ان سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے سرمہ لگا رکھا تھا، ابوالسنابل نے کہا کہ اپنے اوپر قابو رکھو شاید تم دوسرا نکاح کرنا چاہتی ہو؟ یاد رکھو! تمہارے شوہر کی وفات کے بعد تمہاری عدت چار مہینے دس دن ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے ابوالسنابل کی بات ذکر کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وضع حمل کے بعد حلال ہو چکی ہو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27438]

الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1301. حَدِيثُ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27439
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خُبَيْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي , تَقُولُ: وَكَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا , حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ , أَوْ إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" , وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا , وَيَنْزِلُ هَذَا , فَنَتَعَلَّقُ بِهِ , فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ.
حضرت انیسہ ”جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں“ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27439]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27440
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا , وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ , فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا" , قَالَتْ: وَإِنْ كَانَتْ الْمَرْأَةُ لَيَبْقَى عَلَيْهَا مِنْ سُحُورِهَا , فَنَقُولُ لِبِلَالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ سُحُورِي.
حضرت انیسہ ”جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں“ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27440]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27441
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمَّتِهِ , قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَوْ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ , فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ" , فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ يُؤَذِّنَ أَحَدُهُمَا وَيَصْعَدَ الْآخَرُ , فَنَأْخُذَهُ بِيَدِهِ , وَنَقُولَ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ.
حضرت انیسہ ”جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج میں شریک تھیں“ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دے تم کھاتے پیتے رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کر دی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27441]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1302. حَدِيثُ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27442
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ , أَخْبَرَهُ أَبُوهُ , قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أُمِّ أَيُّوبَ الَّذِي نَزَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَزَلْتُ عَلَيْهَا , فَحَدَّثَتْنِي بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُمْ تَكَلَّفُوا طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ هَذِهِ الْبُقُولِ , فَقَرَّبُوهُ , فَكَرِهَهُ , وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " كُلُوا , إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ , إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي" , يَعْنِي الْمَلَكَ .
حضرت ام ایوب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرما دیا، تم اسے کھا لو، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں اپنے ساتھی یعنی فرشتے کو ایذاء پہنچانا اچھا نہیں سمجھتا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27442]

الحكم على الحديث:
حديث حسن فى الشواهد من أجل أبى يزيد والد عبيد الله المكي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں