🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1295. حَدِيثُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27413
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ , عَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ سُفْيَانُ: أَرْبَعُ نِسْوَةٍ , قَالَتِ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ , وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ , وَهُوَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ , فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ" , وَحَلَّقَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟! قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ" .
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور وہ یہ فرما رہے تھے: ” «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قریب آنے والے شر سے اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے، آج یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا بڑا سوراخ ہو گیا ہے“، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے حلقہ بنا کر دکھایا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جب گندگی بڑھ جائے (تو ایسا ہی ہوتا ہے)۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27413]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3346، م: 2880
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27414
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا , يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ , فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا" , قَالَ: وَحَلَّقَ بِأُصْبُعَيْهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا , قَالَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟! قَالَ:" نَعَمْ , إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ" .
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور وہ یہ فرما رہے تھے: ” «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قریب آنے والے شر سے اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے، آج یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا بڑا سوراخ ہو گیا ہے“، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے حلقہ بنا کر دکھایا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جب گندگی بڑھ جائے (تو ایسا ہی ہوتا ہے)۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27414]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3346، م: 2880
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27415
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ ابْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , كَمَا يَتَوَضَّئُونَ" .
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت ”جب وہ وضو کرتے ہیں“ مسواک کا حکم دے دیتا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27415]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الجراح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27416
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاقِدٌ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ بِالْإِبْهَامِ , وَهُوَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ , فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟! قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ , إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ" .
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور وہ یہ فرما رہے تھے: ” «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قریب آنے والے شر سے اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے، آج یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا بڑا سوراخ ہو گیا ہے“، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے حلقہ بنا کر دکھایا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ہم ہلاک ہو جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! جب گندگی بڑھ جائے (تو ایسا ہی ہوتا ہے)۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27416]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1296. حَدِيثُ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27417
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مَوْلًى لِابْنِ الزُّبَيْرِ , يُقَالُ لَهُ: يُوسُفُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَوْ الزُّبَيْرُ بْنُ يُوسُفَ , عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ , قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ , قَالَ:" أَرَأَيْتَكَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ , فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ , قُبِلَ مِنْكَ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَاللَّهُ أَرْحَمُ , حُجَّ عَنْ أَبِيكَ" .
حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے والد صاحب بوڑھے ہو چکے ہیں، وہ حج نہیں کر سکتے (ان کے لئے کیا حکم ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے تو کیا وہ قبول نہ ہوتا؟“ اس نے عرض کیا: ضرور ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ بڑا مہربان ہے، تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27417]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، شك مجاهد فى هذه الرواية باسم يوسف بن الزبير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27418
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: " مَاتَتْ شَاةٌ لَنَا , فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا , فَمَا زِلْنَا نَنْبِذُ بِهِ حَتَّى صَارَ شَنًّا" .
حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہماری ایک بکری مر گئی، ہم نے اس کی کھال کو دباغت دے دی اور ہم اس میں اس وقت تک نبیذ بناتے رہے جب تک کہ وہ پرانا ہو کر خشک نہ ہو گیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27418]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27419
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ مَوْلًى لِآلِ الزُّبَيْرِ , قَالَ: إِنَّ بِنْتَ زَمْعَةَ , قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي زَمْعَةَ مَاتَ , وَتَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ , وَإِنَّا كُنَّا نَظُنُّهَا بِرَجُلٍ , وَإِنَّهَا وَلَدَتْ , فَخَرَجَ وَلَدُهَا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَنَّاهَا بِهِ , قَالَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا: " أَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ , فَلَيْسَ بِأَخِيكِ , وَلَهُ الْمِيرَاثُ" .
حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرا باپ زمعہ فوت ہو گیا ہے اور اس نے ایک ام ولدہ باندی چھوڑی ہے جسے ہم ایک آدمی کے ساتھ متہم سمجھتے ہیں، کیونکہ اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو اسی شخص کے مشابہہ ہے جس کے ساتھ ہم اسے متہم سمجھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس لڑکے سے پردہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے، البتہ اسے میراث ملے گی۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27419]

الحكم على الحديث:
قوله : "احتجبي منه" صحيح من حديث عائشة، وهذا اسناد ضعيف لجهالة حال مولي آل الزبير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1297. حَدِيثُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27420
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَقَالَ:" هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟" , قُلْتُ: لَا , إِلَّا عَظْمًا أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاةٌ لَنَا مِنَ الصَّدَقَةِ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقَرِّبِيهِ , فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا" .
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، البتہ نسیبہ نے ہمارے یہاں اسی بکری کا کچھ حصہ بھیجا ہے جو آپ نے ان کے یہاں بھیجی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ چکی، اب اسے لے آؤ۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27420]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1073
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آل طَلْحَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بَكَرًا , وَهِيَ فِي الْمَسْجِدِ تَدْعُو , ثُمَّ مَرَّ عَلَيْهَا قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ , فَقَالَ:" مَا زِلْتِ عَلَى حَالِكِ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَعْدِلُهُنَّ بِهِنَّ , وَلَوْ وُزِنَ بِهِنَّ وُزِنَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ , ثَلَاثًا , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ , سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ" , وَكَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ , فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ .
حضرت جویریہ س رضی اللہ عنہا ے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت تسبیحات پڑھ رہی تھی، کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام سے چلے گئے، پھر نصف النہار کے وقت واپس آئے تو فرمایا: ”کیا تم اس وقت سے یہاں بیٹھی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کا وزن اگر تمہاری لمبی تسبیحات سے کیا جائے تو ان کا پلڑا جھک جائے گا اور وہ یہ ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ» تین مرتبہ، «سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ» تین مرتبہ۔ حضرت جویریہ کا نام پہلے برہ تھا، جسے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بدل کر جویریہ کر دیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27421]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ , فَقَالَ لَهَا:" أَصُمْتِ أَمْسِ؟" , قَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَفَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَفْطِرِي إِذًا" .
حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن ”جبکہ وہ روزے سے تھیں“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم اپنا روزہ ختم کر دو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27422]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1986
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں