مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1302. حَدِيثُ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27443
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ , أَيُّهَا قَرَأْتَ , أَجْزَأَكَ" .
حضرت ام ایوب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشار فرمایا: ”قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے، تم جس حرف پر بھی اس کی تلاوت کرو گے، وہ تمہاری طرف سے کفایت کر جائے گا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27443]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد من أجل أبى يزيد والد عبيدالله
1303. حَدِيثُ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27444
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ , مَالِكٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ , قَالَتْ: إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ , وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصُّبْحِ , فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عَلَى بَابِهِ بِالْغَلَسِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذِهِ؟" , قَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ , فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكِ؟" , قَالَتْ: لَا أَنَا , وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ , لِزَوْجِهَا , فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ , قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ" , قَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتٍ:" خُذْ مِنْهَا" , فَأَخَذَ مِنْهَا , وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا .
حضرت حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس کے نکاح میں تھیں، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لئے نکلے تو منہ اندھیرے گھر کے دروازے پر حبیبہ بنت سہل کو پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں حبیبہ بنت سہل ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ انہوں نے عرض کیا کہ میں اور ثابت بن قیس (میرا شوہر) ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، جب ثابت آئے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ حبیبہ بنت سہل آئی ہیں اور کچھ ذکر کر رہی ہیں، حبیبہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انہوں نے مجھے جو کچھ دیا ہے وہ سب میرے پاس موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت سے فرمایا: ”ان سے وہ چیزیں لے لو“، چنانچہ ثابت نے وہ چیزیں لے لیں اور حبیبہ اپنے گھر جا کر بیٹھ گئیں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27444]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1304. حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27445
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ , عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ , أَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ , فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , " فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , وَإِنْ كَانَتْ لَتَخْرُجُ مِنَ الْمِرْكَنِ , وَقَدْ عَلَتْ حُمْرَةُ الدَّمِ عَلَى الْمَاءِ , فَتُصَلِّي .
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور دم حیض کے مستقل جاری رہنے کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، چنانچہ جب وہ ٹب سے باہر نکلتیں تو پانی پر سرخی غالب آ چکی ہوتی تھی، تاہم وہ نماز پڑھ لیتی تھیں، ان سے فرمایا یہ تو رگ کا خون ہے اس لئے یہ دیکھ لیا کرو کہ جب تمہارے ایام حیض کا وقت آ جائے تو نماز نہ پڑھا کرو اور جب وہ زمانہ گزر جائے تو اپنے آپ کو پاک سمجھ کر طہارت حاصل کیا کرو اور اگلے ایام تک نماز پڑھتی رہا کرو۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27445]
الحكم على الحديث:
صحيح من حديث عائشة ، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، ثم إنه اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 27446
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: اسْتُحِضْتُ سَبْعَ سِنِينَ , فَاشْتَكَيْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَتْ تِلْكَ بِالْحَيْضَةِ , وَلَكِنْ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي" , فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ , فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ فِي الْمِرْكَنِ , فَنَرَى صُفْرَةَ الدَّمِ فِي الْمِرْكَنِ .
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور دم ِ حیض کے مستقل جاری رہنے کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، یہ تو ایک رگ کا خون ہے اس لئے تم غسل کر لیا کرو“، چنانچہ وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں اور جب وہ ٹب سے باہر نکلتیں تو ہم پانی کا رنگ سرخ دیکھتے تھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27446]
الحكم على الحديث:
صحيح من حديث عائشة
1305. حَدِيثُ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27447
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ , قَالَتْ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ , وَهُوَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ , فَنَظَرْتُ فِي الرُّومِ وَفَارِسَ , فَإِذَا هُمْ يُغِيلُونَ أَوْلَادَهُمْ , وَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ ذَلِكَ شَيْئًا" , ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الْعَزْلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ , وَهُوَ وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ" .
حضرت جدامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا ارادہ بن رہا تھا کہ حالت رضاعت میں مردوں کو اپنی بیویوں کے قریب جانے سے منع کر دوں، لیکن پھر مجھے بتایا گیا کہ فارس اور روم کے لوگ تو ایسا کرتے ہیں، مگر ان کی اولاد کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا (لہٰذا میں نے یہ ارادہ ترک کر دیا)۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27447]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1442
1306. حَدِيثُ كُبَيْشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27448
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , عن عبد الرحمن الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ جَدَّةٍ لَه , قَالَتْ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ , فَشَرِبَ مِنْ فِيهَا وَهُوَ قَائِمٌ" , وَقُرِئَ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ يَعْنِي سُفْيَانَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ , عَنْ جَدَّتِي , وَهِيَ كُبَيْشَةُ.
حضرت کبیشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لائے، ان کے پاس ایک مشکیزہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس کے منہ سے اپنا منہ لگا کر پانی نوش فرمایا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27448]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
1307. حَدِيثُ حَوَّاءَ جَدَّةِ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27449
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ , عَنْ جَدَّتِهِ , أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنَاتِ , لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ لِجَارَتِهَا , وَلَوْ كُرَاعُ شَاةٍ مُحْرَقٌ" .
ایک خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے مومن عورتو! تم میں سے کوئی اپنی پڑوسن کی بھیجی کسی چیز کو ”خواہ وہ بکری کا جلا ہو کھر ہی ہو“ حقیر نہ سمجھے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27449]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن معاذ
حدیث نمبر: 27450
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ جَدَّتِه , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " رُدُّوا السَّائِلَ , وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ" .
ابن بجاد اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سائل کو کچھ دے کر واپس بھیجا کرو، خواہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27450]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، ابن بجيد لم يسم فى هذه الرواية، ولعله عبدالرحمن بن بجيد
حدیث نمبر: 27451
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ: إِنَّ سَائِلًا وَقَفَ عَلَى بَابِهِمْ , فَقَالَتْ لَهُ جَدَّتُهُ حَوَّاءُ : أَطْعِمُوهُ تَمْرًا , قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا , قَالَتْ: فَاسْقُوهُ سَوِيقًا , قَالُوا: الْعَجَبُ لَكِ , نَسْتَطِيعُ أَنْ نُطْعِمَهُ مَا لَيْسَ عِنْدَنَا , قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَرُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ" .
ابن بجاد اپنی دادی سے نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سائل کو کچھ دے کر واپس بھیجا کرو، خواہ وہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی ہو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27451]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن معاذ
1308. حَدِيثُ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27452
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى , عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ , عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِى عَبْدِ الْأَشْهَلِ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنَةً , فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: " أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟" , قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى , قَالَ:" فَهَذِهِ بِهَذِهِ" .
بنو عبد الاشہل کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ ِ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ مسجد کی طرف جس راستے سے آتے ہیں، وہ بہت بدبودار ہے، تو جب بارش ہوا کرے، اس وقت ہم کیا کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد صاف راستہ نہیں آتا؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صاف راستہ اس گندے راستے کا بدلہ ہو جائے گا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27452]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح