مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 320
حدیث نمبر: 320
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَتْ: " أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصِلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ" ، قَالَ سُفْيَانُ: وَفِيهَا نَزَلَتْ: لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ سورة الممتحنة آية 8.
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: قریش کے عہد میں میری والدہ (جو مسلمان نہیں ہوئی تھیں) میرے پاس (کچھ مالی امداد) کے لیے تشریف لائیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں۔ سفیان کہتے ہیں: تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلاوطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“ (60-الممتحنة:8) [مسند الحميدي/حدیث: 320]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه أخرجه البخاري فى «الأدب» برقم: 2620، 3183، 5978، ومسلم فى «الزكاة» برقم: 1003، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 452، وأبو داود في «سننه» برقم: 1668، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27555، وعبد الرزاق فى «مصنفه» ، برقم: 9932، والطبراني فى «الكبير» ، برقم: 203»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 321
حدیث نمبر: 321
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِر تُحَدِّثُ , عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يَنَلْ، كَلابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
فاطمہ بنت منذر اپنی دادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا یہ بیان نقل کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی کے پاس جو کچھ نہ ہو، اسے اپنے پاس موجود ظاہر کرنے والا اسی طرح ہے، جس طرح اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 321]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه وأخرجه البخاري فى "النكاح" برقم: 5219، ومسلم فى «اللباس وزينة» برقم: 2129، 2130،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5738، 5739، والنسائي في «الكبرى» ، برقم: 8871، وأبو داود في «سننه» برقم: 4997، وأحمد في «مسنده» ، برقم: 25232»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 322
حدیث نمبر: 322
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ امْرَأَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ تُحَدِّثُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، تَقُولُ: إِنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُتِّيهِ , ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ , ثُمَّ رُشِّيهِ بِالْمَاءِ وَصَلِّي فِيهِ" .
فاطمہ بنت منذر بیان کرتی ہیں: انہوں نے سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا: جو کپڑے پر لگ جاتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کھرچ دو اور پھر پانی کے ذریعے دھو دو پھر اس پر پانی چھڑکو اور اس میں نماز ادا کر لو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «الوضوء» برقم: 227، 307، ومسلم في «الطهارة» برقم: 291، ومالك فى "الموطأ"، برقم: 196، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1396، 1397،1398، والنسائي في «المجتبى» ، برقم: 292، والنسائي فى «الكبرى» ، برقم: 281، وأبو داود فى «سننه» ، برقم: 360، وابن ماجه فى «سننه» ، برقم: 629، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27562»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 323
حدیث نمبر: 323
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ ، تَقُولُ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَأَمْرَقَ شَعْرُهَا وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ" .
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری بیٹی کو بخار ہوا جس کے نتیجے میں اس کے بال گر گئے اب میں نے اس کی شادی کرنا ہے تو کیا میں اسے مصنوعی بال لگوا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے مصنوعی بال لگائے جائیں ان پر لعنت کی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 323]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «اللباس» برقم: 5935، 5936، 5941، ومسلم فى «اللباس وزينة» برقم: 2122، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1988، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25443»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 324
حدیث نمبر: 324
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَكَلْنَاهُ" .
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا، اور اسے کھا لیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 324]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى «اللباس» برقم: 5510،5511، 5512، 5519، ومسلم فى «اللباس وزينة» برقم: 1942، وابن الجارود فى «المنتقى» ، برقم: 954، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5271، والنسائي فى «المجتبى» ، برقم: 4418 والنسائي فى «الكبرى» ، برقم: 4480 وابن ماجه فى «سننه» ، برقم: 3190، والبيهقي فى «سننه الكبير» ، برقم: 19196،وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27561»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر 325
حدیث نمبر: 325
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ تَدْرُسَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْر ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ أَقْبَلَتِ الْعَوْرَاءُ أُمُّ جَمِيلٍ بِنْتُ حَرْبٍ، وَلَهَا وَلْوَلَةٌ وَفِي يَدِهَا فِهْرٌ وَهِيَ، تَقُولُ: مُذَمَّمٌ أَبَيْنَا، وَدِينَهُ قَلَيْنَا، وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ , ثُمَّ قَرَأَ قُرْآنًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ أَقْبَلَتْ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تَرَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي"، وَقَرَأَ قُرْآنًا اعْتَصَمَ بِهِ كَمَا قَالَ , وَقَرَأَ: وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْءَانَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا سورة الإسراء آية 45 , فَأَقْبَلَتْ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَلَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ! إِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي، فَقَالَ: لا، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا هَجَاكِ، قَالَ: فَوَلَّتْ وَهِيَ تَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي بِنْتُ سَيِّدِهَا . قَالَ: فَقَالَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ , أَوْ قَالَ غَيْرُهُ: فَعَثَّرَتْ أُمُّ جَمِيلٍ وَهِيَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ: تَعِسٌ مُذَمَّمٌ، فَقَالَتْ أُمُّ حَكِيمِ ابْنَةُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: إِنِّي لَحَصَانٌ فَمَا أُكَلَّمُ، وَثَقَافٌ فَمَا أُعَلَّمُ، فَكِلْتَانَا مِنْ بَنِي الْعَمِّ قُرَيْشٍ بَعْدُ أَعْلَمُ.
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں۔“ (111-المسد:1) تو ام جمیل بنت حرب (جو ابوجہل کی بیوی تھی) بڑے غصے میں آئی اس نے ہاتھ میں مٹھی بھر پٹھر پکڑے ہوئے تھے اور یہ کہہ رہی تھی: وہ قابل مذمت میں، جن کا ہم نے انکار کر دیا ہے اور ان کے دین کو ہم نے چھوڑ دیا ہے اور ان کے معاملے کی ہم نے نافرمانی کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تلاوت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب اس عورت کو دیکھا تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ عورت آ رہی ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لے گی (اور بدتمیزی کا مظاہرہ کرے گی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھنے لگے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مضبوطی حاصل کر رہے تھے، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا» ”اور جب تم قرآن پڑھو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، ایک مستور پردہ ڈال دیں گے۔“ (17-الإسراء:45) وہ عورت آئی وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ٹھہر گئی اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آئے، وہ بولی: اے ابوبکر! مجھے پتہ چلا ہے تمہارے آقا نے ہماری ہجو بیان کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں! اس گھر کے پروردگار کی قسم! انہوں نے تمہاری ہجو بیان نہیں کی ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو وہ عورت مڑ گئی، جاتی ہوئی وہ کہہ رہی تھی: قریش یہ بات جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں۔ یہاں ولید نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں: یا شاید دوسرے کسی راوی نے نقل کئے ہیں: ”تو ام جمیل غصے میں تھی وہ اپنی چادر اوڑھ کر بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی، اس نے یہ کہا وہ شخص برباد ہو جائے جس کی مذمت کی گئی ہے۔“ تو جناب عبدالمطلب کی صاحبزادی ام حکیم نے کہا: ”میں پاکدامن ہوں مجھ پر الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ میں سمجھدار ہوں، مجھے تعلیم نہیں دی جا سکتی ہم دونوں خواتین چچا زاد ہیں اور قریش اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 3396، وقال الحاكم: «هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه» . ووافقه الذهبي، وأورده ابن حجر في «المطالب العالية» ، برقم: 3788 برقم: 3788»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر 326
حدیث نمبر: 326
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنِ تَدْرُسَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا لَهَا: مَا أَشَدَّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ الْمُشْرِكُونَ قَعَدُوا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامُوا إِلَيْهِ، وَكَانُوا إِذَا سَأَلُوا عَنْ شَيْءٍ صَدَقَهُمْ، فَقَالُوا: أَلَسْتَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: بَلَى، فَتَشَبَّثُوا بِهِ بِأَجْمَعِهِمْ، فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ صَاحِبَكَ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا، وَإِنَّ لَهُ غَدَائرَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ يَقُولُ: وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ سورة غافر آية 28 قَالَ: فَلَهَوْا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، فَجَعَلَ لا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَائِرِهِ إِلا جَاءَ مَعَهُ , وَهُوَ يَقُولُ: تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ!" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: لوگوں نے ان سے دریافت کیا: آپ نے مشرکین کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ سخت سلوک کیا دیکھا ہے تو انہوں نے بتایا: مشرکین مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اپنے معبودوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کا تذکرہ کر رہے تھے وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہ لوگ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات کو سچ قرار دیتے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ نے ایک ایسی بات نہیں کہی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ تو وہ سب لوگ مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھپٹ پڑے تو کسی شخص نے بلند آواز میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارا ان سے کہا گیا: آپ اپنے آقا کے پاس پہنچیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں سے نکلے اس وقت ان کے لمبے لمبے بال تھے۔ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور یہ کہتے جا رہے تھے تمہارا ستیاناس ہو کیا تم ایک ایسے صاحب کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتے ہیں: ”میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلائل بھی آ چکے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: تو ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو گئے (اور ان پر حملہ کر دیا) جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں واپس تشریف لائے تو ان کے جس بھی بال کو ہاتھ لگایا جاتا وہ ہاتھ میں آ جاتا تھا لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہی کہہ رہے تھے ”اے جلال اور اکرام والے تو برکت والا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 326]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ، برقم: 2899، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 52، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» برقم: 4228»
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات والحديث صحيح
حدیث نمبر 327
حدیث نمبر: 327
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" يَا أَسْمَاءُ! لا تُوكِي فَيُوكَا عَلَيْكِ" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے اسماء! تم (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے سے نہ رکو ورنہ تم سے رزق کو روک لیا جائے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح أخرجه البخاري فى «الزكاة» برقم: 1433، 1434، 2590، 2591، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1029، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3209، 3357، والنسائي في «المجتبى» ، برقم: 2549، 2551 والنسائي فى "الكبرى"، برقم: 2342وأبو داود فى «سننه» ، برقم: 1699، والترمذي فى «جامعه» ، برقم: 1960، وأحمد في «مسنده» ، برقم: 27554»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر 328
حدیث نمبر: 328
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّهْ! إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَوْصَانِي بِكِ، فَهَلْ لَكِ مِنْ حَاجَةٍ؟ قَالَتْ: مَالِي مِنْ حَاجَةٍ، وَلَسْتُ لَكَ بِأُمٍّ، وَلَكِنِّي أُمُّ الْمَصْلُوبِ عَلَى رَأْسِ الثَّنِيَّةِ، وَلَكِنِ انْتَظِرْ أُحَدِّثْكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ" . فَأَمَّا الْكَذَّابُ، فَقَدْ رَأَيْنَاهُ يَعْنِي: الْمُخْتَارَ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ، فَأَنْتَ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: مُبِيرٌ لِلْمُنَافِقِينَ.
ابو محیاۃ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو حجاج، سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے گزارش کی: اے اماں جان! امیر المؤمنین نے مجھے آپ کے بارے میں تلقین کی ہے، تو کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اور میں تمہاری ماں نہیں ہوں۔ میں اس شخص کی ماں ہوں، جسے گھاٹی کے سرے پر مصلوب کیا گیا ہے۔ تم رکو! میں تمہیں وہ بات بتاتی ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ثقیف قبیلے سے ایک نبوت کا جھوٹا دعویدار اور ایک قتل و غارت گری کرنے والا پیدا ہو گا۔“ جہاں تک جھوٹے کا تعلق ہے، تو اسے تو ہم دیکھ چکے ہیں۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی مراد مختار ثقفی تھا، اور جہاں تک خون بہانے والے کا تعلق ہے، تو وہ تم ہو، تو حجاج بولا: میں منافقوں کا خون بہانے والا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 328]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد وأخرجه مسلم فى «الفضائل" برقم: 2545، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 6400، برقم: 8697، برقم: 8698، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27609، برقم: 27616، والطيالسي فى «مسنده» ، برقم: 1746»
الحكم على الحديث:
إسناده جيد
حدیث نمبر 329
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَخُو الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الْمُؤْمِنَاتِ! لا تَرْفَعَنَّ امْرَأَةٌ مِنْكُنَّ رَأْسَهَا قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ الإِمَامُ رَأْسَهُ، مِنْ ضِيقِ ثِيَابِ الرِّجَالِ" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے مؤمن خواتین کے گروہ! کوئی بھی عورت اپنے سر امام کے اٹھنے سے پہلے نہ اٹھائے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس لیے فرمائی) کیونکہ مردوں کے کپڑے چھوٹے ہوتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 329]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف أخرجه أبو داود فى «سننه» ، برقم: 851، والبيهقي في «سننه الكبير» ، برقم: 3353، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 27589، برقم: 27590،وعبد الرزاق في «مصنفه» ، برقم: 5109، والطبراني في «الكبير» ، برقم: 260»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف