صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلاَةِ
باب: مسجدوں اور نماز کی جگہوں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 523 ترقیم شاملہ: -- 1171
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ عَلَى الْعَدُوِّ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ، أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الأَرْضِ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”دشمن پر رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی، مجھے جامع کلمات سے نوازا گیا اور میں نیند کے عالم میں تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور انہیں میرے ہاتھوں میں دے دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1171]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دشمن پر رعب طاری کر کے میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جامع کلام سے نوازا گیا ہے، میرے سونے کے دوران مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں اور انہیں میرے ہاتھوں میں رکھ دیا گیا)۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1171]
ترقیم فوادعبدالباقی: 523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 523 ترقیم شاملہ: -- 1172
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں بیان کیں، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ (بھی) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور مجھے جامع کلمات عنایت کیے گئے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1172]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی ہے اور مجھے جامع کلام عنایت فرمائی گئی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1172]
ترقیم فوادعبدالباقی: 523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
1. باب ابْتِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: مسجد نبوی کی تعمیر۔
ترقیم عبدالباقی: 524 ترقیم شاملہ: -- 1173
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ كلاهما، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ فِي عُلْ وَالْمَدِينَةِ، فِي حَيٍّ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ، فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ، قَالَ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ، رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ، حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ، فَجَاءُوا، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا؟ قَالُوا: لَا وَاللَّهِ، لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ، كَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَخِرَبٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّخْلِ، فَقُطِعَ وَبِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَنُبِشَتْ وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ، قَالَ: فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً، وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً، قَالَ: فَكَانُوا يَرْتَجِزُونَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ "، وَهُمْ يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الآخِرَهْ فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ.
عبدالوارث بن سعید نے ہمیں ابوتیاح صبعی سے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں اس قبیلے میں فروکش ہوئے جنہیں بنو عمرو بن عوف کہا جاتا تھا اور وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا، پھر آپ نے بنو نجار کے سرداروں کی طرف پیغام بھیجا تو وہ لوگ (پورے اہتمام سے) تلواریں لٹکائے ہوئے حاضر ہوئے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی سواری پر دیکھ رہا ہوں، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ کے ارد گرد ہیں یہاں تک کہ آپ نے سواری کا پالان ابوایوب رضی اللہ عنہ کے آنگن میں ڈال دیا۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: (اس وقت تک) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا، آپ وہیں نماز ادا کر لیتے تھے، آپ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم دیا۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: چنانچہ آپ نے بنو نجار کے لوگوں کی طرف پیغام بھیجا، وہ حاضر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا: ”اے بنی نجار! مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت طے کرو۔“ انہوں نے جواب دیا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس جگہ وہی کچھ تھا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں، اس میں کجھوروں کے کچھ درخت، مشرکوں کی چند قبریں اور ویرانہ تھا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، کجھوریں کاٹ دی گئیں، مشرکوں کی قبریں اکھیڑی گئیں اور ویرانے کو ہموار کر دیا گیا، اور لوگوں نے کجھوروں (کے تنوں) کو ایک قطار میں قبلے کی جانب گاڑ دیا اور دروازے کے (طور پر) دونوں جانب پتھر لگا دیے گئے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: اور لوگ (صحابہ) رجزیہ اشعار پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے، وہ کہتے تھے: اے اللہ! بے شک آخرت کی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں، اس لیے تو انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1173]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بلند حصہ میں بنو عمرو بن عوف نامی قبیلہ میں فروکش ہوئے اور یہاں چودہ راتیں قیام فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار کے سرداروں کو بلوایا تو وہ لوگ تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر دیکھ رہا ہوں، ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار ہیں اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف ہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے آنگن (سامنے کا آنگن) میں اترے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کا پالان ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے آنگن میں ڈال دیا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے نماز پڑھ لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا اور فرمایا: ”اپنے اس باغ کی قیمت مجھ سے لے لو“، انہوں نے جواب دیا: ”نہیں اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت صرف اللہ سے مانگتے ہیں“، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس جگہ میں جو کچھ تھا میں تمہیں بتاتا ہوں، اس میں کھجوروں کے درخت، مشرکوں کی قبریں اور ویران جگہ تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کھجور کے درختوں کو کاٹ دیا گیا، مشرکوں کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا اور ویرانہ (کھنڈرات) کو ہموار اور برابر کر دیا گیا، اور کھجور کے تنوں کو مسجد کے سامنے کی جانب گاڑ دیا گیا اور دروازے کے دونوں جانب پتھر لگائے گئے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رجز پڑھ رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے سامنے تھے، وہ کہتے تھے: «اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ» ”اے اللہ! بہتری اور بھلائی تو آخرت کی بھلائی اور بہتری ہی ہے، تو انصار اور مہاجروں کی نصرت فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1173]
ترقیم فوادعبدالباقی: 524
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 524 ترقیم شاملہ: -- 1174
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ ".
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے ابوتیاح نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنانے سے پہلے بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1174]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے، جبکہ ابھی مسجد تعمیر نہیں کی گئی تھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1174]
ترقیم فوادعبدالباقی: 524
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 524 ترقیم شاملہ: -- 1175
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
(معاذ کے بجائے) خالد، یعنی ابن حارث نے روایت کی، کہا: ہمیں شعبہ نے ابوتیاح سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (آگے سابقہ حدیث کے مانند ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1175]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1175]
ترقیم فوادعبدالباقی: 524
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
2. باب تَحْوِيلِ الْقِبْلَةِ مِنَ الْقُدْسِ إِلَى الْكَعْبَةِ:
باب: بیت المقدس کی طرف سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 525 ترقیم شاملہ: -- 1176
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، حَتَّى نَزَلَتِ الآيَةُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ سورة البقرة آية 144، فَنَزَلَتْ بَعْدَمَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَمَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الأَنْصَار وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَحَدَّثَهُمْ، فَوَلَّوْا وُجُوهَهُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ.
ابواحوص نے ابواسحاق سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھی یہاں تک کہ سورہ بقرہ کی آیت: «وَجِّهْ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» اتری۔ یہ آیت اس وقت اتری جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی (یہ حکم سن کر) چلا تو انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا، وہ (مسجد بنی حارثہ میں، جس کا نام اس واقعے کے بعد مسجد قبلتین پڑ گیا) نماز پڑھ رہے تھے، اس نے انہیں یہ (حکم) بتایا تو انہوں نے (اثنائے نماز ہی میں) اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف کر لیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1176]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی، یہاں تک کہ سورہ بقرہ کی یہ آیت اتری: ﴿وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ﴾ [سورة البقرة: 144] ”اور تم جہاں کہیں بھی ہو، اپنے رخ نماز میں کعبہ کی طرف کرو۔“ یہ آیت اس وقت اتری جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے، لوگوں میں سے ایک آدمی (یہ حکم سن کر) چلا اور انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا وہ نماز پڑھ رہے تھے تو اس نے انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اپنے چہرے بیت اللہ کی طرف کر لیے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1176]
ترقیم فوادعبدالباقی: 525
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 525 ترقیم شاملہ: -- 1177
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ: " صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صُرِفْنَا نَحْوَ الْكَعْبَةِ ".
سفیان (ثوری) سے روایت ہے، کہا: مجھے ابواسحاق نے حدیث سنائی، کہا: میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، پھر ہمارا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1177]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ ماہ نماز بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی، پھر ہمیں کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1177]
ترقیم فوادعبدالباقی: 525
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 526 ترقیم شاملہ: -- 1178
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِقُبَاءٍ، إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبَلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ ".
عبدالعزیز بن مسلم اور مالک بن انس نے اپنی اپنی سندوں سے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، اسی اثناء میں ان کے پاس آنے والا ایک شخص (عباد بن بشر) آیا اور اس نے کہا: بلاشبہ رات (گزشتہ دن کے آخری حصے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اترا۔ اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم لوگ بھی اس کی طرف رخ کر لو۔ ان کے رخ شام کی طرف تھے تو (اسی وقت) وہ سب کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1178]
ترقیم فوادعبدالباقی: 526
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 526 ترقیم شاملہ: -- 1179
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَوَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
موسیٰ بن عقبہ نے نافع اور عبداللہ بن دینار سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے، ان کے پاس ایک آدمی آیا (بقیہ حدیث امام مالک کی سابقہ روایت کی طرح ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1179]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”اسی اثنا میں کہ لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا۔“ آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1179]
ترقیم فوادعبدالباقی: 526
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 527 ترقیم شاملہ: -- 1180
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَنَزَلَتْ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 "، فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَقَدْ صَلَّوْا رَكْعَةً، فَنَادَى أَلَا إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ حُوِّلَتْ، فَمَالُوا كَمَا هُمْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، پھر یہ آیت: «وَنَرَى وَجْهَكَ يَتَوَجَّهُ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» اتری۔ بنو سلمہ کا ایک آدمی (عباد بن بشر رضی اللہ عنہ) گزرا، (اس وقت) لوگ (مسجد قباء میں) صبح کی نماز میں رکوع کر رہے تھے اور ایک رکعت اس سے پہلے پڑھ چکے تھے، اس نے آواز دی: سنو! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ وہ جس حالت میں تھے، اسی میں (رکوع ہی کے عالم میں) قبلے کی طرف پھر گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1180]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر یہ آیت اتری: ﴿قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ [سورة البقرة: 144] ”ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ آسمان کی طرف پھرتا ہوا دیکھ رہے ہیں، تو ہم ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں (یا وہ قبلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تولیت میں دے دیں گے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیجیے“۔ بنو سلمہ کا ایک آدمی گزرا اور لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے، تو اس نے آواز دی: ”خبردار! قبلہ تبدیل کیا جا چکا ہے“، تو وہ جس حالت میں تھے اسی حالت میں قبلہ کی طرف پھر گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1180]
ترقیم فوادعبدالباقی: 527
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة