صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب النَّدْبِ إِلَى وَضْعِ الأَيْدِي عَلَى الرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ وَنَسْخِ التَّطْبِيقِ:
باب: رکوع میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنا اور تطبیق کا منسوخ ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 534 ترقیم شاملہ: -- 1191
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، وَعَلْقَمَةَ ، قَالَا: أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي دَارِهِ، فَقَالَ: أَصَلَّى هَؤُلَاءِ خَلْفَكُمْ؟ فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: فَقُومُوا فَصَلُّوا، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِأَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، قَالَ: وَذَهَبْنَا لِنَقُومَ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأَيْدِينَا، فَجَعَلَ أَحَدَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، قَالَ: فَلَمَّا رَكَعَ، وَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا، قَالَ: فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا، وَطَبَّقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: " إِنَّهُ سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ، يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا، وَيَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ قَدْ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً، وَإِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَصَلُّوا جَمِيعًا، وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، وَإِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَلْيَجْنَأْ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ "، فَلَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَاهُمْ.
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے اسود اور علقمہ سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ پوچھنے لگے: جو (حکمران اور ان کے ساتھ تاخیر سے نماز پڑھنے والے ان کے پیروکار) تم سے پیچھے ہیں، انہوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے عرض کی: نہیں۔ انہوں نے کہا: اٹھو اور نماز پڑھو۔ انہوں نے ہمیں اذان اور اقامت کہنے کا حکم نہ دیا، ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو اپنے دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں طرف کر دیا۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر ہلکا سا مارا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو جوڑ کر اپنی دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ انہوں نے جب نماز پڑھ لی تو کہا: یقیناً آیندہ تمہارے ایسے حکمران ہوں گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے مؤخر کریں گے اور ان کے اوقات کو مرنے والوں کی آخری جھلملاہٹ کی طرح تنگ کر دیں گے۔ جب تم ان کو دیکھو کہ انہوں نے یہ (کام شروع) کر لیا ہے تو تم (ہر) نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا۔ اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امام بن جائے اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازو اپنی رانوں پر پھیلا دے اور جھکے اور اپنی ہتھیلیاں جوڑ لے، (ایسا لگتا ہے) جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (ایک دوسری میں) پیوستہ انگلیوں کو دیکھ رہا ہوں۔ اور (انگلیاں پیوست کر کے) انہیں دکھائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1191]
حضرت اسود اور علقمہ رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا: ”کیا ان لوگوں نے، جن کو تم پیچھے چھوڑ آئے ہو (حکمران اور ان کے اتباع)، نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ”نہیں“۔ انہوں نے کہا: ”اٹھو اور نماز پڑھو“۔ انہوں نے ہمیں اذان اور اقامت کہنے کا حکم نہ دیا۔ اور ہم ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے تو انہوں نے ہمارے ہاتھ پکڑ کر ایک کو اپنے دائیں اور دوسرے کو اپنے بائیں کر دیا۔ جب انہوں نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور اپنی ہتھیلیوں کو جوڑا پھر ان کو اپنی دونوں رانوں کے درمیان رکھ لیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: ”عنقریب تمہارے امیر ایسے ہوں گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے اور ان کے وقت کو بہت تنگ کر دیں گے، جب تم ان کو دیکھو کہ انہوں نے ایسا کرنا شروع کر دیا ہے تو تم نماز اس کے وقت پر پڑھ لینا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفلی بنا لینا، اور جب تم تین آدمی ہو تو اکٹھے کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک امام بن جائے، اور جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے بازوؤں کو اپنی رانوں پر پھیلا دے اور جھکے اور اپنی ہتھیلیاں جوڑ لے، گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے اختلاف کو دیکھ رہا ہوں“ اور ان کو دکھایا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1191]
ترقیم فوادعبدالباقی: 534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 534 ترقیم شاملہ: -- 1192
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ كُلُّهُمْ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، أنهما دخلا على عبد الله ، بمعنى حديث أبي معاوية، وفي حديث ابن مسهر، وجرير، فلكأني أنظر إلى اختلاف أصابع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ رَاكِعٌ.
علی بن مسہر، جریر اور مفضل نے مختلف سندوں کے ساتھ اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے (آگے ابومعاویہ کی روایت کے ہم معنی روایت بیان کی)، البتہ ابن مسہر اور جریر کی روایت میں (آخری حصہ) اس طرح ہے، جیسے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالف جانب آئی ہوئی (ایک دوسری میں پیوست) انگلیاں دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کی حالت میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1192]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، حضرت علقمہ اور اسود رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ”ہم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے“، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ ابن مسہر اور جریر کی روایت میں ہے: ”گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے اختلاف (انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرنا) کو دیکھ رہا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1192]
ترقیم فوادعبدالباقی: 534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 534 ترقیم شاملہ: -- 1193
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ ، أنهما دخلا على عبد الله ، فقال: " أَصَلَّى مَنْ خَلْفَكُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَامَ بَيْنَهُمَا، وَجَعَلَ أَحَدَهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالآخَرَ عَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ رَكَعْنَا، فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا، فَضَرَبَ أَيْدِيَنَا، ثُمَّ طَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ جَعَلَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ "، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
منصور نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا: جو تمہارے پیچھے ہیں، انہوں نے نماز پڑھ لی؟ دونوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ دونوں کے درمیان کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک کو اپنی دائیں طرف اور دوسرے کو اپنی بائیں طرف (کھڑا) کیا، پھر ہم نے رکوع کیا تو ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر (ہلکا سا) مارا، پھر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے اور ان کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا، جب نماز پڑھ چکے تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1193]
حضرت علقمہ اور حضرت اسود رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ وہ دونوں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے پوچھا: ”کیا تمہارے پیچھے لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟“ دونوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو وہ ان کے درمیان کھڑے ہو گئے، ایک کو اپنے دائیں کر لیا اور دوسرے کو بائیں، پھر ہم نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں پر مارا اور پھر اپنے ہاتھوں کو جوڑ لیا، پھر ان کو اپنی رانوں کے درمیان کر لیا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 534
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 535 ترقیم شاملہ: -- 1194
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، قَالَ: وَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَقَالَ لِي أَبِي: اضْرِبْ بِكَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى، فَضَرَبَ يَدَيَّ، وَقَالَ: إِنَّا نُهِينَا عَنْ هَذَا، " وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ ".
(1193 میں غالباً ابراہیم نخعی سے نیچے کسی راوی کو وہم ہوا ہے۔ اسی لیے امام مسلم نے مفصل اور صحیح روایت کو پہلے لایا ہے۔ بعض شارحین نے اسے متعدد واقعات پر بھی محمول کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1194]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے باپ کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھے تو مجھے میرے باپ نے کہا: ”اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پہ رکھ۔“ وہ (مصعب) کہتے ہیں: میں نے دوبارہ یہی کام کیا تو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا اور کہا: ”ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پہ رکھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1194]
ترقیم فوادعبدالباقی: 535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 535 ترقیم شاملہ: -- 1195
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ: فَنُهِينَا عَنْهُ، وَلَمْ يَذْكُر: مَا بَعْدَهُ.
ابوعوانہ نے ابویعفور سے اور انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھے تو مجھے میرے والد نے کہا: اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو۔ (انہوں نے کہا:) میں نے دوبارہ یہی کام کیا تو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا اور کہا: ہمیں اس سے روک دیا گیا تھا اور حکم دیا گیا تھا کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پر ٹکائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1195]
امام صاحب نے اپنے دو اساتذہ سے مذکورہ بالا سند سے ”ہمیں روک دیا گیا ہے“ تک روایت بیان کی اور دونوں نے بعد والا جملہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1195]
ترقیم فوادعبدالباقی: 535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 535 ترقیم شاملہ: -- 1196
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " رَكَعْتُ، فَقُلْتُ: بِيَدَيَّ هَكَذَا، يَعْنِي طَبَّقَ بِهِمَا، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ فَخِذَيْهِ، فَقَالَ أَبِي : قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمّ أُمِرْنَا بِالرُّكَبِ ".
ابواحوص اور سفیان نے ابویعفور سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ ”ہمیں روک دیا گیا“ تک حدیث بیان کی ہے، ان دونوں نے اس کے بعد والا جملہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1196]
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے وکیع کے واسطہ سے، انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے زبیر بن عدی سے اور انہوں نے حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت بیان کی کہ انہوں نے کہا: ”میں نے نماز پڑھی اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح کر لیا (یعنی ان کو جوڑ کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا) تو مجھے میرے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بتایا: ”ہم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے، پھر ہمیں (ہاتھ) گھٹنوں پر رکھنے کا حکم دیا گیا۔““ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1196]
ترقیم فوادعبدالباقی: 535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 535 ترقیم شاملہ: -- 1197
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنِ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، فَلَمَّا رَكَعْتُ، شَبَّكْتُ أَصَابِعِي وَجَعَلْتُهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَضَرَبَ يَدَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ.
وکیع نے اسماعیل بن ابی خالد سے، انہوں نے زبیر بن عدی سے اور انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی، کہا: میں نے رکوع کیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح کر لیا، یعنی ان کو جوڑ کر اپنی رانوں کے درمیان رکھ لیا تو میرے والد نے مجھ سے کہا: ہم اسی طرح کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنوں (پر ہاتھ رکھنے) کا حکم دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1197]
حضرت مصعب بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی، جب میں نے رکوع کیا تو اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا تو انہوں نے میرے ہاتھوں پر مارا، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: ”ہم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے، پھر ہمیں گھٹنوں کی طرف اٹھانے (گھٹنوں پہ رکھنے) کا حکم دیا گیا۔““ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1197]
ترقیم فوادعبدالباقی: 535
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
6. باب جَوَازِ الإِقْعَاءِ عَلَى الْعَقِبَيْنِ:
باب: ایڑیوں پر سرین رکھ کر بیٹھنا۔
ترقیم عبدالباقی: 536 ترقیم شاملہ: -- 1198
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا جَمِيعًا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ : فِي الإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
طاوس نے بیان کیا کہ ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دونوں پیروں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: یہ سنت ہے۔ ہم نے ان سے عرض کی: ہمارا تو خیال ہے کہ یہ انسان (یا اگر را کی زیر کے ساتھ رجل پڑھا جائے تو پاؤں) پر زیادتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: (نہیں) بلکہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1198]
حضرت طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے جواب دیا: ”یہ سنت ہے“ تو ہم نے عرض کیا: ”ہمارا خیال ہے کہ یہ پاؤں پر زیادتی ہے“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”بلکہ یہ تو تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1198]
ترقیم فوادعبدالباقی: 536
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب تَحْرِيمِ الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إِبَاحَتِهِ:
باب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 1199
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَا ثُكْلَ أُمِّيَاهْ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي، مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ، وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ، لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: فَلَا تَأْتِهِمْ، قَالَ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ: فَلَا يَصُدَّنَّكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ: كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ، فَذَاكَ، قَالَ: وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ، تَرْعَى غَنَمًا لِي قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا الذِّيبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا، وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ، آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَيْنَ اللَّهُ؟ قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: مَنْ أَنَا؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.
ابوجعفر محمد بن صباح اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی۔ حدیث کے لفظوں میں بھی دونوں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ دونوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے حجاج صواف سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ہلال بن ابی میمونہ سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی حکیم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ”اللہ تجھ پر رحم کرے۔“ لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے (دل میں) کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم سب کو کیا ہو گیا کہ مجھے گھور رہے ہو؟ پھر وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں (تو مجھے عجیب لگا) لیکن میں خاموش رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر کوئی معلم (سکھانے والا) نہیں دیکھا! اللہ کی قسم! نہ تو آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا۔ آپ نے فرمایا: ”یہ نماز ہے، اس میں کسی قسم کی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔“ یا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ابھی تھوڑا عرصہ پہلے میں جاہلیت میں تھا، اور اللہ نے اسلام سے نواز دیا ہے، ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں (پیش گوئی کرنے والوں) کے پاس جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم ان کے پاس نہ جانا۔“ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے)، یہ (وہم) انہیں (ان کے) کسی کام سے نہ روکے۔“ (محمد) ابن صباح نے روایت کی: ”یہ تمہیں کسی صورت (اپنے کاموں سے) نہ روکے۔“ میں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”سابقہ انبیاء میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے، تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہو جائیں، وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں۔“ (لیکن اب اس کا جاننا مشکل ہے۔) (معاویہ بن ابی حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا:) میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے اطراف میں میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف جا نکلا تو بھیڑیا اس کی بکری لے جا چکا تھا۔ میں بھی بنی آدم میں سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اسی طرح افسوس ہوتا ہے جس طرح ان کو ہوتا ہے (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اسے زور سے ایک تھپڑ جڑ دیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے میری اس حرکت کو میرے لیے بڑی (غلط) حرکت قرار دیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آؤ۔“ میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ نے اس سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو، یہ مومنہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1199]
حضرت معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، اسی اثنا میں لوگوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تجھے رحمت سے نوازے۔“ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا تو میں نے کہا: ”کاش میری ماں مجھے گم پاتی (میں مر چکا ہوتا) تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم مجھے گہری نظروں سے دیکھ رہے ہو۔“ تو وہ اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے ان کو جانا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں تو مجھے غصہ آیا لیکن میں خاموش ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر سکھانے والا نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا نہ مجھے مارا اور نہ مجھے برا بھلا کہا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نماز، اس میں کسی قسم کی انسانی گفتگو روا نہیں ہے، یہ تو بس تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے۔“ یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جاہلیت سے نیا نیا نکلا ہوں اور اب اللہ تعالیٰ نے اسلام بھیج دیا ہے (مجھے اسلام لانے کی توفیق دی ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں (پیش گوئی کرنے والے پنڈت و نجومی) کے پاس جاتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کے پاس نہ جا۔“ میں نے عرض کیا: ”ہم میں سے کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، یہ ان کو کسی کام سے نہ روکے۔“ ابن صباح نے کہا: ”تمہیں بالکل نہ روکے۔“ میں نے عرض کیا: ”ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی لکیریں کھینچا کرتے تھے تو جس کی لکیریں اس کے موافق ہوں گی تو ٹھیک ہے۔“ اس (معاویہ رضی اللہ عنہ) نے بتایا: ”میری ایک لونڈی تھی، جو احد اور جوانیہ کے پاس میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں اس طرف آ نکلا تو بھیڑیا اس کی بکریوں سے ایک بکری لے جا چکا تھا تو میں بھی اولادِ آدم سے ایک آدمی ہوں، مجھے بھی اس طرح غصہ آتا ہے، جس طرح ان کو غصہ آتا ہے، (مجھے صبر کرنا چاہیے تھا) لیکن میں نے اس کو زور سے تھپڑ رسید کر دیا، اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس حرکت کو بہت ناگوار قرار دیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کو آزاد نہ کردوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”اللہ کہاں ہے؟“ اس نے کہا: ”آسمان پر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کردو، یہ مومنہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1199]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 537 ترقیم شاملہ: -- 1200
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
اوزاعی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1200]
ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے عیسیٰ بن یونس کے واسطہ سے اوزاعی کی یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے اس قسم کی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1200]
ترقیم فوادعبدالباقی: 537
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة