🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب جَوَازِ لَعْنِ الشَّيْطَانِ فِي أَثْنَاءِ الصَّلاَةِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ وَجَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز کے اندر شیطان پر لعنت کرنا اور اس سے پناہ مانگنا اور عمل قلیل کرنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 542 ترقیم شاملہ: -- 1211
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ: " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ "، ثُمَّ قَالَ: " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَة اللَّهِ "، ثَلَاثًا، وَبَسَطَ يَدَهُ، كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ، شَيْئًا لَمْ نَسْمَعْكَ تَقُولُهُ قَبْلَ ذَلِكَ، وَرَأَيْنَاكَ بَسَطْتَ يَدَكَ، قَالَ: إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ، جَاءَ بِشِهَابٍ مِنَ نَارٍ لِيَجْعَلَهُ فِي وَجْهِي، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُلْتُ: " أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ، فَلَمْ يَسْتَأْخِرْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ "، ثُمَّ أَرَدْتُ أَخْذَهُ، وَاللَّهِ لَوْلَا دَعْوَةُ أَخِينَا سُلَيْمَانَ، لَأَصْبَحَ مُوثَقًا يَلْعَبُ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام (کی حالت) میں تھے کہ ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں۔ آپ نے یہ تین بار کہا اور آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، گویا کہ آپ کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے جو اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ (آگے) بڑھایا۔ آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، میں نے تین دفعہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہا، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی کامل لعنت بھیجتا ہوں۔ وہ پھر بھی پیچھے نہ ہٹا تو میں نے اسے پکڑنے کا ارادہ کر لیا۔ اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح تک بندھا رہتا اور مدینہ والوں کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1211]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» میں تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، تین بار اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں؛ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں کچھ کہتے سنا ہے، ہم نے اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کلمات کہتے نہیں سنا اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہاتھ بڑھاتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس، آگ کا ایک انگارا لے کر آیا تاکہ میرے چہرے پر ڈال دے تو میں نے تین دفعہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ» میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں تجھ سے کہا، پھر میں نے تین دفعہ کہا: «أَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ» میں تجھ پر اللہ کی کامل لعنت بھیجتا ہوں، وہ پیچھے نہ ہٹا پھر میں نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کر لیا، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح تک باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1211]
ترقیم فوادعبدالباقی: 542
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب جَوَازِ حَمْلِ الصِّبْيَانِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں بچوں کا اٹھا لینا درست ہے ان کے کپڑے پر جب تک نجاست ثابت نہ ہو طہارت پر محمول ہیں اور عمل قلیل و عمل متفرق، نماز کو باطل نہیں کرتا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 543 ترقیم شاملہ: -- 1212
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ، بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، " فَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا، وَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا "، قَالَ يَحْيَى: قَالَ: مَالِكٌ: نَعَمْ!.
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں امام مالک نے حدیث سنائی۔ دوسری سند میں یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک سے کہا کہ آپ کو عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمرو بن سلیم زرقی سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث سنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی زینب اور ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہما کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھ لیتے تھے، جب آپ کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے اور جب سجدہ کرتے تو اسے (زمین پر) بٹھا دیتے تھے؟ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: امام مالک نے جواب دیا: ہاں (یہ روایت مجھے سنائی تھی۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1212]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھ لیتے تھے، جو ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیام میں ہوتے تو اسے اٹھا لیتے اور جب سجدہ فرماتے تو اسے زمین پر بٹھا دیتے، یحییٰ نے کہا، امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا: ہاں (یہ روایت مجھے سنائی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1212]
ترقیم فوادعبدالباقی: 543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 543 ترقیم شاملہ: -- 1213
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ وَابْنِ عَجْلَانَ ، سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ " النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ وَهِيَ ابْنَةُ زَيْنَبَ بِنْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى عَاتِقِهِ، " فَإِذَا رَكَعَ، وَضَعَهَا، وَإِذَا رَفَعَ مِنَ السُّجُودِ، أَعَادَهَا ".
عثمان بن ابی سلیمان اور ابن عجلان دونوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر کو عمرو بن سلیم زرقی سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی تھیں، آپ کے کندھے پر تھیں، جب آپ رکوع میں جاتے تو انہیں کندھے سے اتار دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو پھر سے انہیں اٹھا لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1213]
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، لوگوں کو نماز پڑھا رہے ہیں اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جاتے تو اسے زمین پر اتار دیتے اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اسے پھر کندھے پر بٹھا لیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 543 ترقیم شاملہ: -- 1214
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُكَيْرٍ . ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يُصَلِّي لِلنَّاسِ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ، عَلَى عُنُقِهِ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا ".
بکیر (بن عبداللہ) نے عمرو بن سلیم زرقی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا آپ کی گردن پر تھیں، جب آپ سجدہ کرتے تو انہیں اتار دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1214]
حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو امامت کرا رہے تھے اور ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر تھیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو ان کو بٹھا دیتے (گردن سے اتار دیتے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1214]
ترقیم فوادعبدالباقی: 543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 543 ترقیم شاملہ: -- 1215
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ، خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: أَنَّهُ أَمَّ النَّاسَ فِي تِلْكَ الصَّلَاة.
سعید مقبری نے عمرو بن سلیم زرقی سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے (آگے مذکورہ بالا روایتوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی)، مگر انہوں (سعید مقبری) نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس نماز میں آپ لوگوں کی امامت فرمائی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1215]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، پھر مذکورہ بالا راویوں کے ہم معنی روایت سنائی، فرق یہ ہے اس نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی امامت فرمائی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 543
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب جَوَازِ الْخُطْوَةِ وَالْخُطْوَتَيْنِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں ضرورت سے ایک دو قدم چلنا درست ہے اور کسی ضرورت کی وجہ سے امام کا مقتدیوں سے بلند جگہ ہونا بھی درست ہے جیسے نماز کی تعلیم وغیرہ۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 544 ترقیم شاملہ: -- 1216
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلاهما، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَفَرًا، جَاءُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَدْ تَمَارَوْا فِي الْمِنْبَرِ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَعْرِفُ مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ وَمَنْ عَمِلَهُ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، فَحَدِّثْنَا، قَالَ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى امْرَأَةٍ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: إِنَّهُ لَيُسَمِّهَا يَوْمَئِذٍ، انْظُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ، يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا، أُكَلِّمُ النَّاسَ عَلَيْهَا، فَعَمِلَ هَذِهِ الثَّلَاثَ دَرَجَاتٍ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوُضِعَتْ هَذَا الْمَوْضِعَ، فَهِيَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، " وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ عَلَيْهِ، فَكَبَّرَ، وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ رَفَعَ، فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى، حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ "، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي صَنَعْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي وَلِتَعَلَّموا صَلَاتِي،
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے خبر دی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے منبر نبوی کے بارے میں بحث کی تھی کہ وہ کس لکڑی سے بنا ہے؟ (انہوں نے کہا:) ہاں! اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی ہے اور اسے کس نے بنایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلے دن اس پر بیٹھے تھے، میں نے آپ کو دیکھا تھا۔ (ابوحازم نے کہا:) میں نے کہا: ابوعباس! پھر تو (آپ) ہمیں (اس کی) تفصیل بتائیے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا۔ (ابوحازم نے کہا:) وہ اس دن اس کا نام بھی بتاتے تھے اور کہا: اپنے بڑھئی غلام کو دیکھ (اور کہو) وہ میرے لیے لکڑیوں (جوڑ کر منبر) بنا دے تاکہ میں اس پر سے لوگوں سے گفتگو کیا کروں۔ تو اس نے یہ تین سیڑھیاں بنائیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اسے اس جگہ رکھ دیا گیا اور یہ مدینہ کے جنگل کے درخت جھاؤ (کی لکڑی) سے بنا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے تکبیر کہی جبکہ آپ منبر ہی پر تھے، پھر آپ (نے رکوع سے سر اٹھایا، اٹھے) اور الٹے پاؤں نیچے اترے اور منبر کی جڑ میں (جہاں وہ رکھا ہوا تھا) سجدہ کیا، پھر دوبارہ وہی کیا (منبر پر کھڑے ہو گئے) حتیٰ کہ نماز پوری کر کے فارغ ہوئے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تاکہ تم (مجھے دیکھتے ہوئے) میری پیروی کرو اور میری نماز سیکھ لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1216]
حضرت عبدالعزیز بن ابی حازم رحمہ اللہ اپنے باپ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ منبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جھگڑ رہے تھے کہ وہ کس لکڑی سے بنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی کا ہے اور اسے کس نے بنایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلے دن اس پر بیٹھے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، میں (ابو حازم) نے کہا: اے ابو عباس! تو ہمیں بتائیے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا (ابو حازم نے کہا، وہ اس دن اس کا نام بھی بتا رہے تھے) کہ: اپنے بڑھئی غلام کو دیکھو (اور کہو) وہ مجھے لکڑیوں کو جوڑ کر (منبر بنا دے) میں ان پر لوگوں سے گفتگو کروں گا، تو اس نے تین سیڑھیاں بنائیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اسے اس جگہ پر رکھ دیا گیا اور وہ مدینہ کے جنگل کے جھاؤ سے بنا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اس پر کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ہی تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (رکوع سے) اٹھے اور الٹے پاؤں نیچے اترے، حتیٰ کہ منبر کی جڑ میں سجدہ کیا، پھر دوبارہ منبر پر کھڑے ہو گئے، حتیٰ کہ نماز پوری کر کے فارغ ہو گئے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کام اس لیے کیا ہے تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو یا جان لو (اگر «تَعَلَّمُوا» ہو تو معنی سیکھ لو ہو گا اور اگر «تَعْلَمُوا» ہو تو معنی جان لو ہو گا)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 544
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 544 ترقیم شاملہ: -- 1217
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّ رِجَالًا أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ. ح، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، فَسَأَلُوهُ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ.
یعقوب بن عبدالرحمن بن محمد بن عبداللہ بن عبدقاری قرشی نے کہا: مجھے ابوحازم نے حدیث سنائی کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، نیز سفیان بن عیینہ نے ابوحازم سے حدیث سنائی کہ لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر کس (لکڑی) سے (بنا ہوا) ہے (آگے ابن ابی حازم کی روایت کی حدیث کی طرح ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1217]
ترقیم فوادعبدالباقی: 544
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب كَرَاهَةِ الاِخْتِصَارِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 545 ترقیم شاملہ: -- 1218
وَحَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا "، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حکم بن موسیٰ قنطری نے کہا: ہمیں عبداللہ بن مبارک نے حدیث سنائی، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابوخالد اور ابواسامہ نے حدیث سنائی، ان سب نے ہشام سے، انہوں نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی پہلو پر ہاتھ رکھے ہوئے نماز پڑھے۔ امام مسلم کے استاد ابوبکر کی روایت میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1218]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا، ابوبکر کی روایت میں، نبی کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1218]
ترقیم فوادعبدالباقی: 545
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب كَرَاهَةِ مَسْحِ الْحَصَى وَتَسْوِيَةِ التُّرَابِ فِي الصَّلاَةِ:
باب: نماز میں کنکریاں پونچھنے اور مٹی برابر کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 546 ترقیم شاملہ: -- 1219
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْحَ فِي الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْحَصَى، قَالَ: " إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا، فَوَاحِدَةً ".
وکیع نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں ہشام دستوائی نے حدیث سنائی، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہاتھ سے کنکریاں صاف کرنے کا تذکرہ کیا اور فرمایا: اگر تمہارے لیے اسے کیے بغیر چارہ نہ ہو تو ایک بار (کر لو۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1219]
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں کنکریاں ہموار کرنے کا تذکرہ فرمایا کہ اگر اس کے بغیر چارہ نہ ہو تو ایک دفعہ (ایک بار) کر لو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1219]
ترقیم فوادعبدالباقی: 546
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 546 ترقیم شاملہ: -- 1220
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَيْقِيبٍ ، " أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمَسْحِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " وَاحِدَةً ".
یحییٰ بن سعید نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز (کے دوران) میں ہاتھ سے (کنکریاں وغیرہ) صاف کرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ایک بار (کی جا سکتی ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1220]
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ہاتھ پھیرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1220]
ترقیم فوادعبدالباقی: 546
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں